
تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر
کتاب: خوشبو کا بدن
شاعر: شکیل ابن شرفؔ
سال اشاعت: جنوری 2020ء، دوسرا ایڈیشن
تعداد: 500
قیمت: 100 روپے
اردو شاعری کی روایت میں ہر عہد ایسے شعرا پیدا کرتا ہے جو کلاسیکی روایت کو اپنے عہد کے احساسات اور تجربات سے جوڑ کر نئی معنویت عطا کرتے ہیں۔ شکیل ابن شرفؔ بھی ایسے ہی شعرا میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری میں روایت اور عصریت کا خوب صورت امتزاج ملتا ہے۔ ان کا شعری مجموعہ ’’خوشبو کا بدن‘‘ غزلوں، حمد، نعت اور منظومات پر مشتمل ہے، جس میں زندگی کے داخلی و خارجی تجربات نمایاں ہیں۔
شکیل ابن شرفؔ کا تعلق مہاراشٹر کی اس ادبی سرزمین سے ہے جس نے اردو ادب کو کئی اہم شعرا عطا کیے ہیں۔ خاندانی ادبی روایت اور اہل فن کی صحبت نے ان کے شعری ذوق کو جلا بخشی، جس کا عکس ان کے کلام میں نمایاں ہے۔
عنوان کی معنویت
’’خوشبو کا بدن‘‘ ایک دل کش اور علامتی عنوان ہے۔ خوشبو ایک غیر مرئی مگر محسوس ہونے والی حقیقت ہے، جبکہ بدن ایک مادی وجود کی علامت ہے۔ ان دونوں عناصر کا امتزاج شاعر کے اس تصور کو ظاہر کرتا ہے کہ انسان کی اصل شناخت صرف اس کے ظاہری وجود میں نہیں بلکہ اس کے کردار، احساسات اور داخلی روشنی میں بھی پوشیدہ ہے۔
حمد و نعت
مجموعے میں حمد و نعت شاعر کے مذہبی اور روحانی شعور کی نمائندگی کرتی ہیں۔ حمد میں انکسار اور رحمت الٰہی سے وابستگی نمایاں ہے، جبکہ نعت میں عقیدت اور محبت کا اظہار کلاسیکی روایت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
نعت کے بعض اشعار میں شاعر نے مذہبی واقعات کو ذاتی مشاہدے سے جوڑ کر مؤثر شعری فضا پیدا کی ہے، مثلاً:
چاند پر پڑتی ہے آقا جب کبھی میری نظر
یاد آتا ہے مجھے انگلی اٹھانا آپ کا
یہاں چاند شاعر کے لئے محض ایک آسمانی منظر نہیں بلکہ عقیدت اور مذہبی یادداشت کی علامت بن جاتا ہے۔
غزل اور سماجی شعور
شکیل ابن شرفؔ کی غزل صرف عشق و محبت تک محدود نہیں۔ ان کے یہاں تنہائی، دوستی، خاندانی زندگی، غربت، طبقاتی تفریق، شہرت کی ہوس اور سماجی بے حسی جیسے موضوعات بھی ملتے ہیں۔
ان کے طنزیہ لہجے کی ایک مثال یہ شعر ہے:
سنا ہے جان لے کر دوست پیچھا چھوڑ دیتے ہیں
اگر یوں چھوڑ دیتے ہیں تو سستا چھوڑ دیتے ہیں
سادہ زبان میں کہی گئی یہ بات اپنے اندر تلخ طنز رکھتی ہے۔ شاعر کا طنز محض غصے کا اظہار نہیں بلکہ ایک فکری رویہ ہے۔
تنہائی اور داخلی کرب بھی ان کی شاعری کا اہم پہلو ہیں:
اس کا کمرہ بھی روشن دیکھا ہے رات گئے تک
میرے جیسا کیا وہ بھی رویا ہے رات گئے تک
’’روشن کمرہ‘‘ یہاں بظاہر روشنی کی علامت ہے، مگر اس کے پس منظر میں تنہائی اور اندرونی کرب کی کیفیت بھی محسوس ہوتی ہے۔
خاندانی اور سماجی زندگی کا ایک مؤثر منظر ملاحظہ ہو:
بوڑھی آنکھیں تھک جاتی ہیں رستہ تکتے تکتے
بیٹا آوارہ گردی کرتا ہے رات گئے تک
اس شعر میں والدین کی بے بسی اور جدید معاشرتی زندگی کے فاصلے ایک مختصر مگر مؤثر منظر میں سمٹ آئے ہیں۔
معاشرتی ناہمواری
شاعر طبقاتی تفریق اور ظاہری معیار پر قائم سماجی رویوں کو بھی موضوع بناتے ہیں:
کسی غریب کا کب احترام کرتی ہے
لباس دیکھ کے دنیا سلام کرتی ہے
یہ شعر ایک تلخ سماجی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ معاشرہ اکثر انسان کی شخصیت سے زیادہ اس کی ظاہری حیثیت کو اہمیت دیتا ہے۔
اسی طرح شہرت کی خواہش اور خاندانی ذمہ داریوں کے درمیان تعلق کو شاعر نے یوں بیان کیا ہے:
کھو جائے کہیں گھر بھی نہ شہرت کی ہوس میں
ان پھول سے بچوں کے سوالوں کی طرف آ
یہ شعر انسانی اور اخلاقی شعور کی خوب صورت مثال ہے۔
فنی خصوصیات
شکیل ابن شرفؔ کی شاعری کا بنیادی وصف سادہ، رواں اور عام فہم زبان ہے۔ ان کے یہاں روزمرہ، طنز، سوالیہ انداز اور تضاد شعری اظہار کو قوت بخشتے ہیں۔ وہ زندگی کے معمولی مناظر سے شعر کا مواد حاصل کرتے ہیں اور انہیں انسانی تجربے سے جوڑ دیتے ہیں۔
البتہ تنقیدی اعتبار سے بعض مقامات پر شعریت کے مقابلے میں بیانیہ پن غالب محسوس ہوتا ہے۔ بعض اشعار میں شاعر تخلیقی پیکر تراشنے کے بجائے براہ راست بات کہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم جہاں مشاہدہ، جذبہ اور فنی اظہار یکجا ہوتے ہیں، وہاں ان کا شعر دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔
کلاسیکی روایت کے اثرات بھی ان کے کلام میں نمایاں ہیں، لیکن ان کی آئندہ شاعری میں نئی علامتوں، استعارات اور عصری تجربات کی شمولیت ان کی انفرادی شناخت کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔
مجموعی تاثر
’’خوشبو کا بدن‘‘ ایک حساس شاعر کے متنوع تجربات کی شعری دستاویز ہے۔ اس میں مذہبی عقیدت بھی ہے، محبت بھی، تنہائی بھی، معاشرتی کرب بھی اور انسانی زندگی کے مختلف رنگ بھی۔
شکیل ابن شرفؔ کی اصل قوت ان کی مشاہداتی صلاحیت اور زندگی سے قربت ہے۔ ان کی زبان عام قاری سے مکالمہ کرتی ہے، جبکہ موضوعات سنجیدہ قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔
مجموعی طور پر ’’خوشبو کا بدن‘‘ ایک قابل توجہ شعری مجموعہ ہے، جو شاعر کے فکری، جذباتی اور فنی سفر کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر شاعر اپنی آئندہ تخلیقات میں مشاہداتی قوت کے ساتھ علامتی وسعت، استعاراتی تازگی اور فنی تجربے کو مزید فروغ دیں تو ان کی شاعری اردو ادب میں زیادہ مستحکم اور دیرپا مقام حاصل کر سکتی ہے۔


