
محمد ایوبؔ
ترال بالا
کسی سے محبت اسے بھی تھی
ہجر کی عادت اسے بھی تھی
شہرِ خموشاں کا وہ مسافر تھا
تنہائی سے رغبت اسے بھی تھی
وہ شخص بے وفا تو نہ تھا لیکن
بس ذرا مصلحت اسے بھی تھی
ہم نے سمجھا کہ بے خبر ہے وہ
دل میں شکایت اسے بھی تھی
وہ ملا بھی تو اک پل کے لئے ایوبؔ
شاید کوئی عجَلت اسے بھی تھی


