
ریاض فردوسی
غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر اور ایک انصاری صحابی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔مہاجر نے پکارا:”اے مہاجرین (میری مدد کو آؤ)!”
اور انصاری نے پکارا:”اے انصار (میری مدد کو آؤ)!
"جب رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا:”مَا بَالُ دَعْوَى الجَاهليَّة؟”(یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟)
صحابہ نے سارا واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا:”دَعُوهَا فَإنَّهَا مُنْتنَة”اس (عصبیت اور خاندانی پکار) کو چھوڑ دو،کیونکہ یہ بدبودار ہے”(صحيح البخاري: 4905،صحيح مسلم: 2584)
اسلام نے مسلمانوں کو اتحاد،اخوت اور مساوات کا درس دیا ہے۔کتاب اللہ میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
رسول کریم ﷺ نے بھی رنگ،نسل،زبان،خاندان اور قبیلے کی بنیاد پر کسی انسان کو دوسرے سے برتر قرار دینے کے بجائے تقویٰ کو فضیلت کا معیار بتایا۔اس کے باوجود مسلم معاشروں میں ذات،برادری،خاندان،قبیلے اور علاقائی شناخت کی بنیاد پر تقسیم آج بھی دکھائی دیتی ہے۔سوال یہ ہے کہ مسلمان ان گروہی تقسیموں میں کیوں بٹ گئے؟
اس کی ایک بڑی وجہ تاریخی اور معاشرتی اثرات ہیں۔ برصغیر سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں صدیوں سے ذات اور برادری کا نظام موجود رہا ہے۔جب مختلف علاقوں کے لوگ اسلام میں داخل ہوئے تو ان کی بعض سماجی روایات بھی معاشرے میں باقی رہ گئیں۔
نتیجتاً بعض مسلم معاشروں میں بھی خاندان،پیشے، برادری اور نسب کی بنیاد پر سماجی فاصلے پیدا ہوئے۔
دوسری اہم وجہ خاندانی تفاخر ہے۔بعض لوگ اپنے خاندان،قبیلے یا برادری کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتے ہیں۔شادی بیاہ کے معاملات میں بھی بعض اوقات انسان کی دینداری،اخلاق اور کردار کے بجائے خاندان اور برادری کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔اس رویے سے معاشرے میں غیر ضروری تقسیم پیدا ہوتی ہے اور مسلمانوں کی باہمی اخوت کمزور پڑتی ہے۔
تیسری وجہ جہالت اور دینی تعلیمات سے دوری ہے۔اگر مسلمان قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات کو سمجھیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ اسلام نے نسلی اور طبقاتی غرور کی نفی کی ہے۔نبی کونین فخر بنی آدم محمد ﷺ کی تعلیمات میں انسانوں کی برابری اور باہمی احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔اسلام میں کسی شخص کی اصل قدر اس کےتقویٰ،کردار،علم اور نیک اعمال سے ہوتی ہے،نہ کہ اس کی ذات یا برادری سے۔
سیاسی اور معاشی مفادات بھی اس تقسیم کو بڑھا سکتے ہیں۔بعض اوقات گروہی شناختیں طاقت،ووٹ، ملازمت،وسائل یا سماجی اثر و رسوخ حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔جب لوگ مشترکہ دینی اور انسانی مفادات کے بجائے صرف اپنے گروہ کے فائدے کو ترجیح دیتے ہیں تو معاشرہ چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔اس تقسیم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی طاقت کمزور ہوتی ہے۔جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ذات یا برادری کی بنیاد پر کمتر سمجھتا ہے تو محبت،اعتماد اور تعاون متاثر ہوتا ہے۔اس کے نتیجے میں معاشرتی ناانصافی،تعصب اور باہمی نفرت جنم لے سکتی ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف تقریروں میں نہیں بلکہ عملی رویے میں ہے۔ہمیں بچوں کی تربیت میں یہ بات شامل کرنی چاہیے کہ انسان کی عزت اس کی ذات یا برادری سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور تقویٰ سے ہوتی ہے۔ شادی بیاہ،تعلیم،روزگار اور سماجی تعلقات میں بھی تعصب کے بجائے اہلیت،اخلاق اور انسانیت کو ترجیح دینی چاہیے۔علماء،اساتذہ،والدین اور سماجی رہنماؤں کو بھی اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ذات،برادری یا خاندان سے تعلق رکھنا بذات خود کوئی برائی نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ شناختیں تکبر، نفرت،تعصب اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کا سبب بن جائیں۔مسلمان مختلف خاندانوں،قوموں اور علاقوں سے تعلق رکھتے ہوئے بھی ایک امت کا حصہ ہیں۔اگر ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو حقیقی معنوں میں اپنائیں اور اپنی شناختوں کو باہمی احترام تک محدود رکھیں، تو ذات اور برادری کی تقسیم مسلمانوں کی وحدت پر غالب نہیں آسکتی۔اتحاد امت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنی برادری سے محبت کریں،مگر دوسرے مسلمان کو کمتر نہ سمجھیں،اپنی شناخت پر فخر کریں،مگر دوسروں کی تحقیر نہ کریں۔یہی رویہ ایک مضبوط، بااخلاق اور متحد مسلم معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔اسلام میں مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنا ایمان کی علامت اور دینی بھائی چارے (اخوت)کی بنیاد ہے۔آپ ﷺ نے مومنوں کی مثال ایک جسم کی مانند دی ہے کہ اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔جو لوگ صرف اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اللہ تعالی ان سے محبت کرتا ہے۔جنگ یرموک کے موقع پر حضرت حارث بن ہشام،عکرمہ بن ابی جہل اور عیاش بن ابی ربیعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین شدید زخمی حالت میں میدان جنگ میں پڑے تھے۔حضرت حارثؓ نے پانی مانگا۔جب انہیں پانی کا پیالہ دیا گیا تو انہوں نے قریب موجود حضرت عکرمہؓ کو دیکھ کر اشارہ کیا۔جب پانی عکرمہؓ کے پاس پہنچا تو انہوں نے تیسرے زخمی عیاشؓ کو ترجیح دی۔اس طرح باری باری پانی کا ایک گھونٹ بھی بغیر پیے تینوں شہید ہوگئے اور پانی کسی نے خود نہیں پیا۔(تینوں کے قبیلہ الگ،علاقے الگ تھے،صرف رشتہ اسلامی تھا)
اپنے مسلمان بھائ کے دکھ دردکواپنا دکھ دردسمجھنا اور اپنی تکلیف کوبھول کردوسروں کی پریشانی دورکرنے کے لئے بے قرار ہو جانا ہی ایثار وہمدردی ہے۔اس جذبہ کو ابھارنے کے لئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا،
"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن (کامل) نہیں ہوسکتا جب تک وہ دوسروں کے لئے بھی وہی چیز نہ پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہے”(متفق علیہ)
حج الوداع کے موقع پر!
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اے لوگو! خبردار! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ (آدم) ایک ہے۔کسی عربی کو کسی عجمی پر،اور کسی عجمی کو کسی عربی پر،اور کسی سرخ فام کو سیاہ فام پر،اور کسی سیاہ فام کو سرخ فام پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے،مگر تقویٰ کی بنیاد پر۔” (مسند احمد)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت و غرور کو ختم کر دیا اور باپ دادا کا نام لے کر فخر کرنے سے روک دیا۔تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔لوگو! قوموں پر فخر کرنا چھوڑ دو،ورنہ وہ اللہ کے نزدیک اس کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہوں گے جو ناک سے گندگی کو دھکیلتا ہے۔” (سنن ابی داود، حدیث 5116)


