
اختر جمال عثمانی
موہن بھاگوت کے امریکہ کے سفر اور سنگھ کی شبیہ بہتر بنانے کی ان کی کوششوں پر نظر ڈالنے سے پہلے آر ایس ایس کا مختصر تعارف ہو جائے ۔گزشتہ برس27 ستمبر 2025 کو آر ایس ایس کے قیام کو ایک صدی مکمل ہوئی اور ان ایک سو سالوں کے دوران اس کی فکر اور نظریات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ اپنے بنیادی مقصد’’ ہندو راشٹر ‘‘ کے قریب پہونچ چکی ہے۔ آر ایس ایس کی مرکزی سیاسی تنظیم تو بھارتیہ جنتا پارٹی ہے اس کے علاوہ بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد، بھارتیہ مزدور سنگھ، بھارتیہ کسان سنگھ ، درگا واہنی ، سنسکار بھارتی جیسی بے شمار ذیلی تنظیمیں اس سے وابستہ ہیں۔27 ستمبر 1925 کو وجے دشمی یا دسہرے کے موقع پرنا گپور میں آر ایس ایس کا قیام عمل میں آیا۔ شروع میں باقاعدہ شاکھا کا نظم نہیں تھا ،ممبران کسی اکھاڑے میں جاکر ورزش کیا کرتے تھے۔ لاٹھی کا استعمال اور اجتماعی پرارتھنا کو ضروری قرار دیا گیا تھا۔1928 میں تنظیم میں حلف برداری کی رسم بھی شروع ہوئی۔ڈاکٹر ہیڈگیوار کا 21 جون 1940 کو انتقال ہو گیا۔ 03 جولائی 1940 کو گولوالکر آر ایس ایس کے دوسرے سربراہ یا سر سنگھ چالک بنے ۔سنگھ کے جنرل سیکریٹری رہتے ہوئے 1939 میں وہ اپنی مشہور لیکن متنازعہ کتاب We or Our Nationhood defined لکھ چکے تھے۔ جس میں انہوں نے اپنے اس نظریے کا اظہار کیا تھا کہ ’’ ہندوستان میں موجود غیر ملکی نسلوں ( مسلمانوں،عیسائیوں)کو ہندو زبان اور تہذ یب اختیار کر لینی چاہئے ہندو قوم کی تعظیم کے علاو ہ ان کے ذہن اور دماغ میں کوئی اور بات نہیں آنی چاہئے یا پھر اس ملک میں ہندو قوم کے ماتحت رہیں۔ کسی خاص قسم کے برتائو تو دور کسی مراعات کا حق بھی نہیں ہونا چاہئے۔‘ گولوالکر کے یہ نظریات ملک میں فرقہ واریت کی بنیاد مظبوط کرنے کا سبسب بنے ۔ گولوالکر جنہیں عرف عام میں گرو جی کہا جاتا رہا ہے کے دور میں سنگھ نے ایک ملک گیر تنظیم کی شکل اختیار کی، گاندھی جی کے قتل کے بعد حکومت ہند نے آر ایس ایس پر پابندی لگا دی۔ قاتل ناتھو رام گوڈسے کا تعلق ہندو مہا سبھا اور اس سے پہلے آر ایس ایس سے رہ چکا تھا۔ گاندھی جی کے قتل کی سازش میں سنگھ کی برا ہ راست شرکت ثابت نہ ہونے کی وجہ سے اٹھارہ ماہ بعد پابندی اٹھا لی گئی لیکن سنگھ کو اپنا تحریری دستور مرتب کرنا پڑا۔ اب سنگھ کے لوگ نئے جوش و خروش کے ساتھ اپنی تنظیم کو وسعت دینے میں لگ گئے۔بہت سی ذیلی تنظیمیں قائم کی گیئں۔جن کے الگ الگ مقاصد تھے۔ گولوالکر کی تقریروں کا مجموعہ بنچ آف تھاٹس Bunch of Thoughts کے نام سے شایع ہوا ۔ یہ بھی ایک متنازعہ کتاب قرار پائی۔
1973میں گرو گولولکر کے انتقال کے بعد بالا صاحب دیورس آر ایس ایس کے تیسرے سر سنگھ چالک بنے۔1975 میں وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ایمرجنسی نافظ کر دی اور ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔ آر ایس ایس کو ایک بار پھر پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1977میں اپوزیشن پارٹیوں نے مل کر جنتا پارٹی قائم کی جس میں آر ایس ایس کا سیاسی بازو رہی جن سنگھ بھی ضم ہو گئی۔ جنتا پارٹی کا تجربہ ناکام ہو جانے کے بعد آر ایس ایس کے سیاسی بازو کے طور پر جن سنگھ کے لیڈران نے 1980 میں بھارتیہ جنتا پارٹی BJP قائم کی۔اس کے بعد کا دور آر ایس ایس کے ملک کی سیاست میں تیزی سے ابھار کا دور ہے۔ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد آر ایس ایس کو ایک بار پھر پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔1994 میں بالا صاحب دیورس صحت کے مسائل کو لیکر اپنے منصب سے دستبردار ہو گئے اور سر سنگھ چالک کا عہدہ پروفیسر راجندر سنگھ عرف رجو بھیا کو سونپ دیا۔پروفیسر راجندر سنگھ بھی صحت کی خرابی کی بناء پر سر سنگھ چالک کا عہدہ کے ایس سدرشن کو سونپ دیتے ہیں ۔ اپنے دو پیشرئوں کی طرح کے ایس سدرشن نے بھی خرابیء صحت کی وجہ سے 2009 میں سر سنگھ چالک کا عہدہ موجودہ سر سنگھ چالک موہن بھاگوت کو سونپ دیا۔ وہ آر ایس ایس کے چھٹے سر سنگھ چالک ہیں۔ اپنی پہلی ہی تقریر میں انہوں نے واضح کر دیا کہ وہ ہندو راشٹر کے مقصد کو سامنے رکھیں گے اور یہ کہ بھارت ہندو راشٹر ہے اور یہاں کے تمام باشندے ہندو ہیں۔ یہ بیان وہ اکثر دوہراتے رہتے ہیں۔ یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ ان کے دور میں بی جے پی کو عدیم المثال کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں حکومت قائم ہوئی موہن بھاگوت آر ایس ایس کی انتہا پسندانہ شبیہ کو لے کر فکر مند رہتے ہیں اس کے لئے وہ مسلم علماء اور دانوروں سے وہ اکثر ملاقات بھی کرتے رہے ہیں اور مسلمانوں کے قریب آنے کے کوشش بھی کرتے رہے ہیں ۔ اب انہوں نے مغرب کا رخ کیاہے۔ اس سلسلے میں موہن بھاگوت امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کے دورے پر ہیں
موہن بھاگوت کا موجودہ دورہ امریکہ محض ایک مذہبی یا سماجی دورہ نہیں رہ گیا ہے بلکہ یہ ایک بڑے سیاسی، نظریاتی اور سفارتی مقصد سے کیا جا رہا ہے ۔۔ امریکہ میں ان کا سب سے اہم پروگرام 29 اگست کو نیویارک میں ہونے والا ’’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن‘‘ ہے، جس میں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ منتظمین اسے ہندو تہوار رکشا بندھن کے موقع پر اتحاد، عالمی ہم آہنگی، باہمی احترام اور ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ یعنی ’’دنیا ایک خاندان ہے‘‘ کے تصور سے جوڑ رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور شہری حقوق کی کئی تنظیمیں اس پروگرام کو محض ثقافتی یا مذہبی اجتماع ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کا بھارت میں ایک طویل نظریاتی اور سیاسی کردار رہا ہے اور امریکہ میں اس طرح کے بڑے پروگرام اس کی عالمی شبیہ کو بہتر بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔آر ایس ایس کے مطابق دنیا کے مختلف ملکوں میں آباد ہندوستانی اور ہندو برادری سے رابطہ مضبوط کرنا، ہندوستانی ثقافت سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنا اور تنظیم کے نظریات کو عالمی سطح پر سمجھانا اس مہم کا مقصد ہے۔ موہن بھاگوت کا امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کا موجودہ دورہ اسی عالمی رسائی پروگرام کا حصہ ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس دورے کے ذریعے وہ بیرون ملک ہندوستانی نژاد لوگوں کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنا اور ان کے سامنے اپنے نظریات اور سرگرمیوں کی وضاحت کرنا چاہتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اس کے تعلق کی وجہ سے دنیا بھر میں آر ایس ایس کو صرف ایک سماجی یا ثقافتی تنظیم کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ موہن بھاگوت کا بیرون ملک دورہ بھی سیاسی معنی اختیار کر لیتا ہے۔ ہندوستان میں آر ایس ایس کے وسیع اثر و رسوخ اور بی جے پی کے ساتھ اس کے قریبی نظریاتی رشتے نے موہن بھاگوت کے دورہ امریکہ کو ایک مختلف رنگ دے دیا ہے۔
نیویارک کا ’’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن‘‘ اس پوری مہم کا سب سے نمایاں حصہ ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ایک ایسی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں آر ایس ایس کو صرف ہندوستانی سیاست سے وابستہ تنظیم کے بجائے ایک ایسی تنظیم کے طور پر دکھایا جائے جو انسانی اقدار، خدمت، ماحولیات، خاندان، سماجی ہم آہنگی اور عالمی اتحاد کی بات کرتی ہے۔ در اصل ’’یونیورسل ون نیس‘‘ کی زبان اور آر ایس ایس کے بارے میں عالمی سطح پر موجود نظریے کے درمیان ایک واضح فرق ہے۔ اگر آر ایس ایس واقعی عالمی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی کا علمبردار ہے تو پھر ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے بارے میں اس کے نظریات اور سیاست پر مسلسل سوال کیوں اٹھتے رہے ہیں۔نیویارک کا میڈیسن اسکوائر گارڈن دنیا کے مشہور ترین عوامی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں موہن بھاگوت کا ہزاروں افراد سے خطاب بذات خود ایک بڑی تشہیری اور علامتی کامیابی ہے۔ موہن بھاگوت نے ہندوستانی نژاد ٹیکنالوجی کے ماہرین، نوجوان پیشہ وروں اور صنعت کاروں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں یہ سرگرمیاں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ آر ایس ایس بیرون ملک صرف مذہبی یا ثقافتی سطح پر نہیں بلکہ علمی، پیشہ ورانہ، کاروباری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی اپنا اثر اور رابطہ بڑھانا چا ہتا ہے۔اسی طرح مذہبی اور فلاحی سرگرمیوں کو بھی اس دورے میں اہمیت دی گئی ہے۔ نیویارک میں اسکان یعنی ISKCON سے وابستہ سرگرمیوں اور خوراک کی تقسیم جیسے پروگراموں نے دورے کے سماجی اور فلاحی پہلو کو نمایاں کیا ہے۔ ایسی سرگرمیاں کسی بھی تنظیم کی عوامی شبیہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
موہن بھاگوت کے دورے کا دوسرا پہلو اس مخالفت سے متعلق ہے جو نیویارک میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مختلف مسلم، سکھ، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی تنظیموں نے پروگرام کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ آر ایس ایس کا نظریہ ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے لئے مشکلات پیدا کرتا ہے اور امریکہ میں اس نظریے کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہندوز فار ہیومن رائٹس، انڈین امریکن مسلم کونسل، انٹر فیتھ سینٹر آف نیویارک اور دیگر تنظیمیں اس پروگرام کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ مخالفین کے لئے مسئلہ موہن بھاگوت کی ذاتی شخصیت سے زیادہ اس تنظیم کا نظریہ اور اس کا ہندوستانی سیاست میں کردار ہے۔اس تنازعے کو اس وقت مزید اہمیت مل گئی جب نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے کھل کر کہا کہ وہ اس پروگرام کی حمایت نہیں کرتے۔ ممدانی نے آر ایس ایس کے نظریے کو دوسروں کو الگ کرنے والا نظریہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپنی تشویش ظاہر کی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ چونکہ پروگرام ایک نجی اجتماع ہے، اس لئے شہر کے پاس اسے منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ممدانی کا اعتراض صرف کسی ایک تقریب پر نہیں بلکہ اس نظریے پر ہے جو مذہب اور قوم کے تعلق سے اکثریتی شناخت کو مقدم رکھتاہے۔ ان کے لئے ہندوستان کی اصل طاقت اس کی کثرت، سیکولر روایت اور مختلف مذاہب کے ساتھ رہنے کی صلاحیت میں ہے۔اس دورے کا ایک اور سنگین پہلو امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی یعنی USCIRF کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ کمیشن نے موہن بھاگوت کے دورہ امریکہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آر ایس ایس سے وابستہ افراد کے خلاف ہدفی پابندیوں اور بھاگوت کا ویزا منسوخ کرنے کی سفارش کی ہے لیکن USCIRF کی سفارش خود بخود امریکی حکومت کا فیصلہ نہیں بن جاتی ہیں۔ کسی ویزے کی منسوخی یا پابندی کا حتمی اختیار امریکی حکومت کے پاس ہوتا ہے۔ آر ایس ایس کا کہناہے کہ اس کی شناخت کو جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ دنیا آر ایس ایس کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا آر ایس ایس واقعی اپنی عالمی شبیہ بدل رہا ہے۔ تنظیم پر ہندوتوا، اکثریت پسندی اور اقلیتوں کے بارے میں مخالف رویے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ اب صد سالہ مرحلے میں آر ایس ایس اگر امریکہ جیسے ملک میں ’’ون نیس‘‘، ’’مکالمہ‘‘، ’’باہمی احترام‘‘، ’’خدمت‘‘ اور ’’بین المذاہب ہم آہنگی‘‘ جیسے الفاظ استعمال کر تاہے تو اسے محض اتفاق نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ ایک نئی عالمی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن شبیہ صرف تقریروں سے نہیں بدلتی۔ کسی بھی تنظیم کی عالمی ساکھ صرف اس کے جلسوں، نعروں اور پریس ریلیزوں سے نہیں بنتی بلکہ اس کے عمل، تاریخ، سیاسی تعلقات اور معاشرے میں اس کے حقیقی رویے سے بنتی ہے۔ اگر آر ایس ایس واقعی دنیا کو یہ یقین دلانا چا ہتا ہے کہ وہ تمام مذاہب، تمام طبقات اور تمام شہریوں کے لئے یکساں احترام رکھتا ہے تو اس کے لئے بہترین راستہ صرف نیویارک میں ایک بڑا اجتماع نہیں بلکہ ہندوستان کے اندر بھی ایسے عملی اقدامات ہوں گے جن سے اقلیتوں، دلتوں، مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں سمیت تمام طبقات کو مساوی تحفظ اور عزت کا احساس ہو۔


