
غزل از قلم ارون شرما صاحبابادی
دودھیا جب مجھے دودھ لاتا رہا،
وہ مجھے دیکھ کر مسکراتا رہا۔
عطر روزانہ خود پر لگاتا رہا،
بے نہائے بھی وہ مسکراتا رہا۔
جس بھی دعوت میں وہ اتا جاتا رہا،
سب سے پہلے وہ لڈو اٹھاتا رہا۔
بچہ جب دھوپ کے چشمے کو لایا تو،
رات میں بھی وہ اس کو لگاتا رہا۔
موٹے بچوں کے جب گالوں کو دیکھا تو،
اپنے دانتوں کو وہ کٹکٹاتا رہا۔
پتلے بچوں کو وہ چور چھوتا نہ تھا،
موٹے بچوں کو ہی وہ چراتا رہا۔
چمی سلمیٰ کی لے لی میرے سامنے،
اس کا شوہر میرا منہ چڑھاتا رہا۔
بچہ جو میلے سے بانسری لایا تھا،
کان پر وہ سبھی کے بجاتا رہا۔
کیا خبر کیا پتا پر میرے سامنے،
اپنے کولھے وہ اکثر کھجاتا رہا۔
ناک اس کی آرون بہہ رہی تھی مگر،
بچہ جاڑے میں بھی قلفی کھاتا رہا۔


