غزل از قلم ارون شرما صاحبابادی

 

 

 غزل از قلم ارون شرما صاحبابادی

 

دودھیا جب مجھے دودھ لاتا رہا،
وہ مجھے دیکھ کر مسکراتا رہا۔
عطر روزانہ خود پر لگاتا رہا،
بے نہائے بھی وہ مسکراتا رہا۔
جس بھی دعوت میں وہ اتا جاتا رہا،
سب سے پہلے وہ لڈو اٹھاتا رہا۔
بچہ جب دھوپ کے چشمے کو لایا تو،
رات میں بھی وہ اس کو لگاتا رہا۔
موٹے بچوں کے جب گالوں کو دیکھا تو،
اپنے دانتوں کو وہ کٹکٹاتا رہا۔
پتلے بچوں کو وہ چور چھوتا نہ تھا،
موٹے بچوں کو ہی وہ چراتا رہا۔
چمی سلمیٰ کی لے لی میرے سامنے،
اس کا شوہر میرا منہ چڑھاتا رہا۔
بچہ جو میلے سے بانسری لایا تھا،
کان پر وہ سبھی کے بجاتا رہا۔
کیا خبر کیا پتا پر میرے سامنے،
اپنے کولھے وہ اکثر کھجاتا رہا۔
ناک اس کی آرون بہہ رہی تھی مگر،
بچہ جاڑے میں بھی قلفی کھاتا رہا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

چوری کیس میں تین افراد گرفتار، مسروقہ سونا برآمد

سرینگر: پولیس نے بارہمولہ میں ایک مکان سے ہونے والی...

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

تازہ ترین خبریں

چوری کیس میں تین افراد گرفتار، مسروقہ سونا برآمد

سرینگر: پولیس نے بارہمولہ میں ایک مکان سے ہونے والی...

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل از قلم ارون شرما صاحبابادی

 

 

 غزل از قلم ارون شرما صاحبابادی

 

دودھیا جب مجھے دودھ لاتا رہا،
وہ مجھے دیکھ کر مسکراتا رہا۔
عطر روزانہ خود پر لگاتا رہا،
بے نہائے بھی وہ مسکراتا رہا۔
جس بھی دعوت میں وہ اتا جاتا رہا،
سب سے پہلے وہ لڈو اٹھاتا رہا۔
بچہ جب دھوپ کے چشمے کو لایا تو،
رات میں بھی وہ اس کو لگاتا رہا۔
موٹے بچوں کے جب گالوں کو دیکھا تو،
اپنے دانتوں کو وہ کٹکٹاتا رہا۔
پتلے بچوں کو وہ چور چھوتا نہ تھا،
موٹے بچوں کو ہی وہ چراتا رہا۔
چمی سلمیٰ کی لے لی میرے سامنے،
اس کا شوہر میرا منہ چڑھاتا رہا۔
بچہ جو میلے سے بانسری لایا تھا،
کان پر وہ سبھی کے بجاتا رہا۔
کیا خبر کیا پتا پر میرے سامنے،
اپنے کولھے وہ اکثر کھجاتا رہا۔
ناک اس کی آرون بہہ رہی تھی مگر،
بچہ جاڑے میں بھی قلفی کھاتا رہا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں