
غزل از قلم جاوید قسیم
قبل منزل کے کبھی ہار نہیں مانتا میں
کوئی بھی راہ ہو دشوار نہیں مانتا میں
اس طرح پیار کا اظہار نہیں مانتا میں
دشت میں گھومنے کو پیار نہیں مانتا میں
جس کو نا چاروں پے ہوتے یہ مظالم نہ دکھیں
ایسے اخبار کو اخبار نہیں مانتا میں
زندگی ہوتی نہیں ہے کسی مقصد کے بغیر
سانس کو جینے کا معیار نہیں مانتا میں
منہ چھپا کر جو نکل جاتا ہو رن سے باہر
ایسے سالار کو سالار نہیں مانتا میں
بھوک سے ہو کے جو مجبور چرا لے روٹی
اُس کو چوری کا گنہ گار نہیں مانتا میں
بیچ دیں ٹوپیاں اجداد کی جس کی خاطر
ایسی دستار کو دستار نہیں مانتا میں
بولیاں جس میں مصاحب کے لئے لگتی ہوں
ایسے دربار کو دربار نہیں مانتا میں
جس سے ملنا ہو میں بے باک ملا کرتا ہوں
التزامات کی دیوار نہیں مانتا میں
لاکھ منزل نہ سہی راہ تو آتی ہے نظر
کؤی کاوش کبھی بیکار نہیں مانتا میں


