
بہت عرصہ میرے ساتھ رہا پھر بچھڑ گیا
دی اس نے مجھے تھی کوئی دعا پھر بچھڑ گیا
اسے ڈھونڈتا رہا میں سبھی جھرنوں، ندیوں میں
ملا مسکرایا کچھ نہ کہا پھر بچھڑ گیا
بہت دور وہ مگر ہوں اسی کی ہی قید میں
محبت کی دے کے مجھ کو سزا پھر بچھڑ گیا
کئے تھے بہت ہی پہلے پہل دعوے عشق میں
بنا باوفا سے وہ بے وفا، پھر بچھڑ گیا
میں یہ سوچتا ہوں قیس ہوئی مجھ سے کیا خطا
مجھے دے کے دردِ ہجر نیا، پھر بچھڑ گیا


