
یہ اداسی تیرے چہرے پہ اچھی نہیں لگتی
ماتھے پہ شکن، آنکھ میں نمی اچھی نہیں لگتی
ستارے نوچ لاتا ہوں تیرے غم کی راتوں میں
اندھیروں میں ترے گھر کی گلی اچھی نہیں لگتی
غمِ دوراں کے مارے ہیں اب اس زمانے میں
کسی کے بھی ہونٹوں پر برہمی اچھی نہیں لگتی
ترا دکھ بانٹ لینے دے مجھے اے جانِ تمنا
تیرے لہجے میں یہ ناآشنائی اچھی نہیں لگتی
کبھی آ کر ذرا دیکھ مرے ویران دل کو
ترے وعدوں کی طویل خاموشی اچھی نہیں لگتی
جسے تو دیکھ لے اک بار، وہ جی اٹھتا ہے ایوب
ترے چہرے پہ صورت بجھی اچھی نہیں لگتی


