
غزل از قلم محمد ایوبؔ
ترال بالا پلوامہ
کسی سے اگر محبت ہو جائے
تو جینا بھی اک قیامت ہو جائے
نظر اُس کی جب ایک پل ٹھہرے
دلِ بے تاب کو راحت ہو جائے
وہ ملے تو بہار آ جائے
وہ بچھڑے تو شامِ فرقت ہو جائے
کبھی ذکر اُس کا لب پہ آئے
تو ہر لفظ میں لطافت ہو جائے
سنو! تم جو مسکرا دو ذرا سا
متاعِ دو عالم کی دولت ہو جائے
وہ آئے جو خوابوں کی بستی میں
شبِ ہجر بھی ایک چاہت ہو جائے
اگر تجھ سے ہو سامنا ایوبؔ


