نعت رسولﷺ

 

 

سعید قادری صاحبگنج

دنیا کی چوٹ کھائے ستائے ہوئے ہیں ہم
آقا تجھے دکھانے کو آئے ہوئے ہیں ہم
دل میں چراغ عشق جلائے ہوئے ہیں ہم
اس کے مکاں کو ایسے سجائے ہوئے ہیں ہم
کب سے کھڑے ہیں آپ کے قدموں میں شاہ دیں
للّٰہ رخ ادھر ہو ستائے ہوئے ہیں ہم
کچھ تو صلہ غلامی کا ہم کو بھی دیجئے
تحفہ درود پاک کا لائے ہوئے ہیں ہم
ناصح ہمارے زخم کا مرہم ہیں مصطفےٰ
اپنا مرَض ان ہی کو دکھائے ہوئے ہیں ہم
جو منکرین عظمت سرکار ہیں جناب
ہر لمحہ ان سے دوری بنائے ہوئے ہیں ہم
کہنے کو ہم تو عاشق سرکار ہیں مگر
کیا ، اپنا وعدہ ان سے نبھائے ہوئے ہیں ہم
اہل سخن بھی سن کے پریشان سے لگے
محفل میں رنگ اپنا جمائے ہوئے ہیں ہم
یہ تو کرم ہے سید ابرار کا سعید
جا کر مدینہ نعت سنائے ہوئے ہیں ہم

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

نعت رسولﷺ

 

 

سعید قادری صاحبگنج

دنیا کی چوٹ کھائے ستائے ہوئے ہیں ہم
آقا تجھے دکھانے کو آئے ہوئے ہیں ہم
دل میں چراغ عشق جلائے ہوئے ہیں ہم
اس کے مکاں کو ایسے سجائے ہوئے ہیں ہم
کب سے کھڑے ہیں آپ کے قدموں میں شاہ دیں
للّٰہ رخ ادھر ہو ستائے ہوئے ہیں ہم
کچھ تو صلہ غلامی کا ہم کو بھی دیجئے
تحفہ درود پاک کا لائے ہوئے ہیں ہم
ناصح ہمارے زخم کا مرہم ہیں مصطفےٰ
اپنا مرَض ان ہی کو دکھائے ہوئے ہیں ہم
جو منکرین عظمت سرکار ہیں جناب
ہر لمحہ ان سے دوری بنائے ہوئے ہیں ہم
کہنے کو ہم تو عاشق سرکار ہیں مگر
کیا ، اپنا وعدہ ان سے نبھائے ہوئے ہیں ہم
اہل سخن بھی سن کے پریشان سے لگے
محفل میں رنگ اپنا جمائے ہوئے ہیں ہم
یہ تو کرم ہے سید ابرار کا سعید
جا کر مدینہ نعت سنائے ہوئے ہیں ہم

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون