ریاستی درجہ کی بحالی:جنتر منتر احتجاج مہم کا آغاز تھا/ عمر عبداللہ

جنگ نیوز

سرینگر/ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جنتر منتر پر احتجاج ریاستی درجہ بحالی کی مہم کا اختتام نہیں بلکہ آغاز تھا۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے وعدے کو ’’سپر وعدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس ملنا چاہئے۔
کاروباری قواعد کی منظوری میں تاخیر پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام اعتراضات کا جواب دے دیا ہے اور اب مرکز کی منظوری کا انتظار ہے۔ انہوں نے آئندہ چند روز میں مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات کا امکان ظاہر کیا۔
ریزرویشن سے متعلق کابینہ کے فیصلے میں تاخیر پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت نے اپنا کام مکمل کردیا ہے اور اگر یہاں جن زی طرز کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
بلدیاتی انتخابات مناسب وقت پر کرانے کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے دریائے سندھ آبی معاہدے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کو اپنے دریائی پانی پر اولین حق حاصل ہونا چاہئے تاکہ آبی وسائل کو پینے کے پانی، بجلی اور دیگر ضروریات کیلئے بہتر طور پر استعمال کیا جاسکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل سرینگر میں واٹر اسپورٹس فیسٹیول منعقد کرے گی

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل سرینگر میں...

سرینگر میں آج سیاسی طاقت آزمائی

بلال بشیر بٹ جنگ نیوز سرینگر/سرینگر بدھ کو ایک بڑی سیاسی...

جنگ اور معیشت کا خطرناک ملاپ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ سے زائد...

پہلگام میں تیز بارش,دریاۓ لڈر کے بہاؤ میں اضافہ

پہلگام، 01 ستمبر  جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے...

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل سرینگر میں واٹر اسپورٹس فیسٹیول منعقد کرے گی

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل سرینگر میں...

سرینگر میں آج سیاسی طاقت آزمائی

بلال بشیر بٹ جنگ نیوز سرینگر/سرینگر بدھ کو ایک بڑی سیاسی...

جنگ اور معیشت کا خطرناک ملاپ

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ سے زائد...

پہلگام میں تیز بارش,دریاۓ لڈر کے بہاؤ میں اضافہ

پہلگام، 01 ستمبر  جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے...

ریاستی درجہ کی بحالی:جنتر منتر احتجاج مہم کا آغاز تھا/ عمر عبداللہ

جنگ نیوز

سرینگر/ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جنتر منتر پر احتجاج ریاستی درجہ بحالی کی مہم کا اختتام نہیں بلکہ آغاز تھا۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے وعدے کو ’’سپر وعدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس ملنا چاہئے۔
کاروباری قواعد کی منظوری میں تاخیر پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے تمام اعتراضات کا جواب دے دیا ہے اور اب مرکز کی منظوری کا انتظار ہے۔ انہوں نے آئندہ چند روز میں مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات کا امکان ظاہر کیا۔
ریزرویشن سے متعلق کابینہ کے فیصلے میں تاخیر پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت نے اپنا کام مکمل کردیا ہے اور اگر یہاں جن زی طرز کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
بلدیاتی انتخابات مناسب وقت پر کرانے کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے دریائے سندھ آبی معاہدے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کو اپنے دریائی پانی پر اولین حق حاصل ہونا چاہئے تاکہ آبی وسائل کو پینے کے پانی، بجلی اور دیگر ضروریات کیلئے بہتر طور پر استعمال کیا جاسکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں