کاموں کا بڑھتا بوجھ اور خالی کرسی

 

 

از-جسٹس ارجن کمار سیکری

ملازمت کی یکساں مدت، ریٹائرمنٹ کی مقررہ عمر اور میرٹ پر انتخاب سے ٹریبونلز میں قابل افراد آئیں گے اور طویل عرصے تک اپنی خدمات انجام دیں گے۔

 

اے وی جے ہائٹس کے فلیٹ مالکان ایک حکم کے لیے طویل عرصے سے انتظار کر رہے ہیں۔ ان کے بلڈر، اے وی جے ڈیولپرز، 2019 میں دیوالیہ پن کا شکار ہو گئے تھے۔ قرض دینے والوں نے 4 جولائی 2024 کو کمپنی کو دوبارہ بحال کرنے کے منصوبے کی منظوری دی۔ آٹھ دن بعد اس منصوبے کو نیشنل کمپنی لا ٹریبونل کے سامنے پیش کیا گیا۔ تقریباً دو سال گزرنے کے باوجود بھی اس منصوبے کو منظوری کا انتظار تھا۔

اپریل 2026 میں سپریم کورٹ نے اس معاملے کی فائل کا جائزہ لیتے ہوئے ایک وسیع تر سوال اٹھایا۔ عدالت نے ملک بھر کے اعداد و شمار طلب کیے۔ ملک کی مختلف نیشنل کمپنی لا ٹریبونل بنچوں کے سامنے قراردادِ بحالی کے منصوبوں کی منظوری سے متعلق تقریباً 383 درخواستیں زیرِ التوا تھیں۔ ان معاملات میں تاخیر 48 دن سے 738 دن تک تھی، جبکہ بعض معاملات میں یہ مدت تقریباً چار سال تک پہنچ گئی تھی۔ عدالت نے صورتِ حال پر واضح الفاظ میں کہا کہ مجموعی منظرنامہ انتہائی تشویش ناک اور مایوس کن ہے۔

دیوالیہ پن اور قرض نادہندگی کے ضابطے میں زیادہ سے زیادہ 330 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ قانون اپنی جگہ برقرار ہے، لیکن مقررہ مدت کی پابندی نہیں ہو رہی۔

یہ قانون کی ناکامی نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ اس قانون کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے درکار ادارہ جاتی صلاحیت اور وسائل کی کمی کا ہے۔

ٹریبونلز کبھی بھی کوئی غیر ضروری یا بعد میں قائم کیے گئے ادارے نہیں تھے، بلکہ انہیں ایک خاص مقصد کے تحت بنایا گیا تھا۔ 1976 میں آئین میں حصہ چودہ-اے شامل کیا گیا، جس کے تحت ٹریبونلز کے قیام کی آئینی بنیاد رکھی گئی۔ ان کا مقصد ایسے مقدمات اور تنازعات کا جلد فیصلہ کرنا تھا جن کی تعداد بڑھنے سے عام عدالتوں پر کام کا بوجھ بڑھ رہا تھا، ساتھ ہی متعلقہ شعبوں میں ماہرین کی خدمات حاصل کرنا بھی تھا۔ 1997 میں  ایل چندر کمار مقدمے میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ٹریبونلز ہائی کورٹس کے متبادل نہیں بلکہ ان کے معاون ادارے ہیں۔ اس لیے مناسب معیار یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ٹریبونلز مکمل طور پر خامیوں سے پاک ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ ان عدالتوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اور زیادہ مہارت کے ساتھ فیصلے کر رہے ہیں جن پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لیے انہیں قائم کیا گیا تھا۔ موجودہ اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اکثر معاملات میں ایسا نہیں ہو رہا ہے۔

زیرِ التوا مقدمات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لوک سبھا میں دیے گئے ایک جواب کے مطابق، 2025 میں 16 بڑے ٹریبونلز میں مجموعی طور پر 5.36 لاکھ مقدمات زیرِ التوا تھے۔قرض ریکوری ٹریبونلز (ڈی آر ٹیز) میں سب سے زیادہ 2.45 لاکھ مقدمات زیرِ التوا تھے، جبکہ کسٹمز، ایکسائز اینڈ سروس ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل (سی ای ایس ٹی اے ٹی) میں 71,454 مقدمات زیرِ التوا تھے۔

اقتصادی سروے 26-2025 کے مطابق، نیشنل کمپنی لا ٹریبونل کے سامنے تقریباً 30,600 مقدمات زیرِ التوا تھے۔ سروے نے خبردار کیا کہ موجودہ رفتار سے ان مقدمات کو نمٹانے میں ایک دہائی لگ سکتی ہے۔ 31 جنوری 2026 تک مرکزی انتظامی ٹریبونل میں 69,581 مقدمات زیرِ التوا تھے، جبکہ مسلح افواج کے ٹریبونل میں 11,000 سے زیادہ مقدمات زیرِ التوا تھے۔

تاخیر کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے؟ اکثر اوقات، ایک خالی کرسی سے۔

عملہ، عوامی شکایات، قانون اور انصاف سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے 7 اگست 2026 کو ٹریبونل نظام کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس کے نتائج تشویش ناک ہیں۔ نیشنل گرین ٹریبونل میں قانونی طور پر مقرر کم از کم ارکان کی تعداد بھی پوری نہیں ہے۔ نیشنل کمپنی لا ٹریبونل کے 95 فیصد سے زیادہ ملازمین کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل میں صرف پانچ ماہ کے دوران زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 19,275 بڑھ گئی۔ ٹی ڈی ایس اے ٹی میں منظور شدہ  ممبران کی تعداد ٹریبونل کے قیام کے وقت سے اب تک تبدیل نہیں ہوئی ہے۔

خالی عہدے محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں ہیں، بلکہ ان کا براہِ راست اثر مقدمات کی سماعت اور فیصلوں پر پڑتا ہے۔ اگر بنچ میں ارکان کی مقررہ تعداد پوری نہ ہو تو وہ باقاعدہ کارروائی نہیں کر سکتا۔ اسی طرح، جب کسی مقدمے کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر نہ ہو تو وہ مقدمہ عدالت کے سامنے پیش ہی نہیں ہو سکتا اور اس پر کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔

خالی عہدے مسلسل کیوں برقرار رہتے ہیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ملازمت کی مدت اور دیگر شرائط پہلے سے واضح طور پر طے نہیں ہیں۔ کوئی موجودہ جج یا تجربہ کار ماہر اپنی قائم شدہ ملازمت یا پیشہ چھوڑ کر مختصر اور غیر یقینی مدت کے لیے ٹریبونل میں آنا پسند نہیں کرے گا۔ مختلف ٹریبونلز میں ملازمت کی مدت، ریٹائرمنٹ کی عمر اور تقرری کے طریقے بھی مختلف رہے ہیں۔ ہر خالی عہدے کو ایک نئے عمل کے طور پر لیا گیا۔ عموماً عہدہ خالی ہونے کے بعد ہی اشتہار، امیدواروں کی جانچ اور منظوری کا عمل شروع کیا گیا، پہلے سے نہیں۔

ٹریبونلز ریفارمز بل 2026 نے اس مسئلے کی بنیادی وجہ کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس بل میں عہدے کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ چیئرپرسن کے لیے ریٹائرمنٹ کی عمر 70 سال اور رکن کے لیے 67 سال رکھی گئی ہے۔ یہ وہ کم از کم معیار ہے جو سپریم کورٹ نے مدراس بار ایسوسی ایشن کے مقدمات میں طے کیا تھا اور ایک سے زیادہ مرتبہ اس پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا۔ بل میں چار سالہ مدت یا کم از کم 50 سال کی عمر کی شرط دوبارہ شامل نہیں کی گئی، جنہیں عدالت نے نومبر 2025 میں مسترد کر دیا تھا۔ پانچ سال کی مقررہ مدت اور ریٹائرمنٹ کی واضح عمر کے ساتھ ٹریبونل کی ملازمت ایک باقاعدہ پیشہ ورانہ ذمہ داری بن جاتی ہے، محض کچھ عرصے کی عارضی ملازمت نہیں۔ ایسی ملازمت کے لیے کوئی شخص اپنی موجودہ پیشہ ورانہ مصروفیت چھوڑنے پر بھی آمادہ ہو سکتا ہے۔

تقرری کا عمل بھی اب کبھی کبھار ہونے والی کارروائی کے بجائے ایک مستقل نظام بن جائے گا۔ ایک مستقل سیکریٹریٹ خالی عہدوں کی صورتِ حال پر نظر رکھے گا، عہدوں کے لیے اشتہار جاری کرے گا اور امیدواروں کی اہلیت کی جانچ کرے گا۔ متعلقہ انتظامی وزارت، جو اکثر ان ٹریبونلز کے سامنے سب سے زیادہ مقدمات لڑنے والے فریقوں میں شامل ہوتی ہے، اس جانچ کے عمل سے الگ رہے گی۔ نیشنل ٹریبونل کمیشن (این ٹی سی) کی جانب سے قائم تلاش اور انتخاب کرنے کی کمیٹی میں ایک چیئرپرسن شامل ہوگا، جو سپریم کورٹ کے سابق جج یا کسی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ہوں گے۔ اس کے علاوہ کمیٹی میں ہائی کورٹ کے دو سابق جج بطور عدالتی ارکان اور دو تکنیکی ارکان شامل ہوں گے، جنہیں عوامی انتظامیہ، مالیات، قانون یا ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں کم از کم 25 سال کا تجربہ حاصل ہوگا۔ منتخب ماہرین امیدوار کے سابقہ فیصلوں اور پیشہ ورانہ کام کا پہلے سے طے شدہ معیار کے مطابق جائزہ لیں گے۔ کمیٹی کی سربراہی ایک عدالتی رکن کرے گا، جسے  یکساں  ووٹنگ کی صورت میں فیصلہ کن ووٹ دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ کمیٹی مقررہ مدت کے اندر ایک امیدوار کے نام کی سفارش کرے گی اور ساتھ ہی ایک انتظار کی فہرست بھی تیار کرے گی۔

صرف ایک نام کی سفارش کا اصول بھی بہت اہم ہے۔ اگر کمیٹی کئی ناموں پر مشتمل پینل حکومت کو بھیج دے تو آخرکار ان میں سے کسی ایک نام کا انتخاب کرنے کا اختیار دوبارہ حکومت کے پاس آ جاتا ہے۔ اس طرح کمیٹی میں عدالتی ارکان کی اکثریت کے ذریعے میرٹ اور غیر جانب داری کو یقینی بنانے کی جو کوشش کی گئی تھی، وہ آخری مرحلے میں کمزور پڑ سکتی ہے۔ اس کے برعکس، صرف ایک نام کی سفارش سے حتمی فیصلہ اسی مرحلے پر طے ہو جاتا ہے جہاں امیدوار کی اہلیت، تجربے اور میرٹ کا مکمل جائزہ لیا گیا ہو۔ یوں تقرری کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر اور ایک واضح و شفاف عمل کے ذریعے برقرار رہتا ہے۔

ایک تنقید کا براہِ راست جواب دینا ضروری ہے۔ حکومت خود بھی ان خالی عہدوں کو پُر کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے جولائی میں بھی اس بات کی نشاندہی کی تھی، اور یہ کہنا درست تھا۔ اس مسئلے کا حل محض ایک نئی یقین دہانی نہیں ہو سکتا۔ بہرحال، یہ ترمیم اس مسئلے کو بھی حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے لیے ایسا نظام ضروری ہے جس میں تاخیر واضح ہو، اس کی ذمہ داری طے کی جا سکے اور اسے دور بھی کیا جا سکے۔ مستقل سیکریٹریٹ، فعال انتظار فہرست اور مقررہ مدت کے ذریعے ایسا ریکارڈ تیار ہوگا۔ اگر عمل کے کسی مرحلے میں تاخیر یا کوتاہی ہوتی ہے تو اس کی نشاندہی کی جا سکے گی اور اس پر سوال بھی اٹھایا جا سکے گا۔

یکساں ملازمت کی شرائط اپنے آپ میں کئی دہائیوں سے جمع مقدمات کے بوجھ کو ختم نہیں کر سکتیں۔ اس کے ساتھ رجسٹری کے عملے، عدالتی بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل نظام کو بھی بہتر بنانا ہوگا، جیسا کہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے سفارش کی ہے۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ کسی بھی ٹریبونل میں مقدمہ سننے کے لیے پہلے کسی رکن کا موجود ہونا ضروری ہے۔

اے وی جے ہائٹس میں فلیٹ تیار ہیں اور بحالی کا منصوبہ بھی تیار ہے۔ اب صرف ایک ایسے بنچ کی ضرورت ہے جس کے پاس اس منصوبے کا تفصیل سے جائزہ لینے اور اس پر فیصلہ کرنے کے لیے وقت ہو۔ اس خالی عہدے کو پُر کرنا ضروری ہے، اور اسے ایسا عہدہ بنانا بھی ضروری ہے جس پر اہل اور قابل شخص ذمہ داری سنبھالنے میں دلچسپی رکھے۔ یہی وہ مقصد ہے جسے یہ بل پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

(مضمون نگار ہندوستان کے ممتاز ماہرِ قانون اور ہندوستان  کی سپریم کورٹ کے سابق جج ہیں)

The Empty Chair Behind the Backlog

-By Justice Arjan Kumar Sikri

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

کاموں کا بڑھتا بوجھ اور خالی کرسی

 

 

از-جسٹس ارجن کمار سیکری

ملازمت کی یکساں مدت، ریٹائرمنٹ کی مقررہ عمر اور میرٹ پر انتخاب سے ٹریبونلز میں قابل افراد آئیں گے اور طویل عرصے تک اپنی خدمات انجام دیں گے۔

 

اے وی جے ہائٹس کے فلیٹ مالکان ایک حکم کے لیے طویل عرصے سے انتظار کر رہے ہیں۔ ان کے بلڈر، اے وی جے ڈیولپرز، 2019 میں دیوالیہ پن کا شکار ہو گئے تھے۔ قرض دینے والوں نے 4 جولائی 2024 کو کمپنی کو دوبارہ بحال کرنے کے منصوبے کی منظوری دی۔ آٹھ دن بعد اس منصوبے کو نیشنل کمپنی لا ٹریبونل کے سامنے پیش کیا گیا۔ تقریباً دو سال گزرنے کے باوجود بھی اس منصوبے کو منظوری کا انتظار تھا۔

اپریل 2026 میں سپریم کورٹ نے اس معاملے کی فائل کا جائزہ لیتے ہوئے ایک وسیع تر سوال اٹھایا۔ عدالت نے ملک بھر کے اعداد و شمار طلب کیے۔ ملک کی مختلف نیشنل کمپنی لا ٹریبونل بنچوں کے سامنے قراردادِ بحالی کے منصوبوں کی منظوری سے متعلق تقریباً 383 درخواستیں زیرِ التوا تھیں۔ ان معاملات میں تاخیر 48 دن سے 738 دن تک تھی، جبکہ بعض معاملات میں یہ مدت تقریباً چار سال تک پہنچ گئی تھی۔ عدالت نے صورتِ حال پر واضح الفاظ میں کہا کہ مجموعی منظرنامہ انتہائی تشویش ناک اور مایوس کن ہے۔

دیوالیہ پن اور قرض نادہندگی کے ضابطے میں زیادہ سے زیادہ 330 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ قانون اپنی جگہ برقرار ہے، لیکن مقررہ مدت کی پابندی نہیں ہو رہی۔

یہ قانون کی ناکامی نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ اس قانون کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے درکار ادارہ جاتی صلاحیت اور وسائل کی کمی کا ہے۔

ٹریبونلز کبھی بھی کوئی غیر ضروری یا بعد میں قائم کیے گئے ادارے نہیں تھے، بلکہ انہیں ایک خاص مقصد کے تحت بنایا گیا تھا۔ 1976 میں آئین میں حصہ چودہ-اے شامل کیا گیا، جس کے تحت ٹریبونلز کے قیام کی آئینی بنیاد رکھی گئی۔ ان کا مقصد ایسے مقدمات اور تنازعات کا جلد فیصلہ کرنا تھا جن کی تعداد بڑھنے سے عام عدالتوں پر کام کا بوجھ بڑھ رہا تھا، ساتھ ہی متعلقہ شعبوں میں ماہرین کی خدمات حاصل کرنا بھی تھا۔ 1997 میں  ایل چندر کمار مقدمے میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ٹریبونلز ہائی کورٹس کے متبادل نہیں بلکہ ان کے معاون ادارے ہیں۔ اس لیے مناسب معیار یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ٹریبونلز مکمل طور پر خامیوں سے پاک ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ ان عدالتوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اور زیادہ مہارت کے ساتھ فیصلے کر رہے ہیں جن پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لیے انہیں قائم کیا گیا تھا۔ موجودہ اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اکثر معاملات میں ایسا نہیں ہو رہا ہے۔

زیرِ التوا مقدمات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لوک سبھا میں دیے گئے ایک جواب کے مطابق، 2025 میں 16 بڑے ٹریبونلز میں مجموعی طور پر 5.36 لاکھ مقدمات زیرِ التوا تھے۔قرض ریکوری ٹریبونلز (ڈی آر ٹیز) میں سب سے زیادہ 2.45 لاکھ مقدمات زیرِ التوا تھے، جبکہ کسٹمز، ایکسائز اینڈ سروس ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل (سی ای ایس ٹی اے ٹی) میں 71,454 مقدمات زیرِ التوا تھے۔

اقتصادی سروے 26-2025 کے مطابق، نیشنل کمپنی لا ٹریبونل کے سامنے تقریباً 30,600 مقدمات زیرِ التوا تھے۔ سروے نے خبردار کیا کہ موجودہ رفتار سے ان مقدمات کو نمٹانے میں ایک دہائی لگ سکتی ہے۔ 31 جنوری 2026 تک مرکزی انتظامی ٹریبونل میں 69,581 مقدمات زیرِ التوا تھے، جبکہ مسلح افواج کے ٹریبونل میں 11,000 سے زیادہ مقدمات زیرِ التوا تھے۔

تاخیر کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے؟ اکثر اوقات، ایک خالی کرسی سے۔

عملہ، عوامی شکایات، قانون اور انصاف سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے 7 اگست 2026 کو ٹریبونل نظام کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس کے نتائج تشویش ناک ہیں۔ نیشنل گرین ٹریبونل میں قانونی طور پر مقرر کم از کم ارکان کی تعداد بھی پوری نہیں ہے۔ نیشنل کمپنی لا ٹریبونل کے 95 فیصد سے زیادہ ملازمین کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل میں صرف پانچ ماہ کے دوران زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 19,275 بڑھ گئی۔ ٹی ڈی ایس اے ٹی میں منظور شدہ  ممبران کی تعداد ٹریبونل کے قیام کے وقت سے اب تک تبدیل نہیں ہوئی ہے۔

خالی عہدے محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں ہیں، بلکہ ان کا براہِ راست اثر مقدمات کی سماعت اور فیصلوں پر پڑتا ہے۔ اگر بنچ میں ارکان کی مقررہ تعداد پوری نہ ہو تو وہ باقاعدہ کارروائی نہیں کر سکتا۔ اسی طرح، جب کسی مقدمے کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر نہ ہو تو وہ مقدمہ عدالت کے سامنے پیش ہی نہیں ہو سکتا اور اس پر کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔

خالی عہدے مسلسل کیوں برقرار رہتے ہیں؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ملازمت کی مدت اور دیگر شرائط پہلے سے واضح طور پر طے نہیں ہیں۔ کوئی موجودہ جج یا تجربہ کار ماہر اپنی قائم شدہ ملازمت یا پیشہ چھوڑ کر مختصر اور غیر یقینی مدت کے لیے ٹریبونل میں آنا پسند نہیں کرے گا۔ مختلف ٹریبونلز میں ملازمت کی مدت، ریٹائرمنٹ کی عمر اور تقرری کے طریقے بھی مختلف رہے ہیں۔ ہر خالی عہدے کو ایک نئے عمل کے طور پر لیا گیا۔ عموماً عہدہ خالی ہونے کے بعد ہی اشتہار، امیدواروں کی جانچ اور منظوری کا عمل شروع کیا گیا، پہلے سے نہیں۔

ٹریبونلز ریفارمز بل 2026 نے اس مسئلے کی بنیادی وجہ کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس بل میں عہدے کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ چیئرپرسن کے لیے ریٹائرمنٹ کی عمر 70 سال اور رکن کے لیے 67 سال رکھی گئی ہے۔ یہ وہ کم از کم معیار ہے جو سپریم کورٹ نے مدراس بار ایسوسی ایشن کے مقدمات میں طے کیا تھا اور ایک سے زیادہ مرتبہ اس پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا۔ بل میں چار سالہ مدت یا کم از کم 50 سال کی عمر کی شرط دوبارہ شامل نہیں کی گئی، جنہیں عدالت نے نومبر 2025 میں مسترد کر دیا تھا۔ پانچ سال کی مقررہ مدت اور ریٹائرمنٹ کی واضح عمر کے ساتھ ٹریبونل کی ملازمت ایک باقاعدہ پیشہ ورانہ ذمہ داری بن جاتی ہے، محض کچھ عرصے کی عارضی ملازمت نہیں۔ ایسی ملازمت کے لیے کوئی شخص اپنی موجودہ پیشہ ورانہ مصروفیت چھوڑنے پر بھی آمادہ ہو سکتا ہے۔

تقرری کا عمل بھی اب کبھی کبھار ہونے والی کارروائی کے بجائے ایک مستقل نظام بن جائے گا۔ ایک مستقل سیکریٹریٹ خالی عہدوں کی صورتِ حال پر نظر رکھے گا، عہدوں کے لیے اشتہار جاری کرے گا اور امیدواروں کی اہلیت کی جانچ کرے گا۔ متعلقہ انتظامی وزارت، جو اکثر ان ٹریبونلز کے سامنے سب سے زیادہ مقدمات لڑنے والے فریقوں میں شامل ہوتی ہے، اس جانچ کے عمل سے الگ رہے گی۔ نیشنل ٹریبونل کمیشن (این ٹی سی) کی جانب سے قائم تلاش اور انتخاب کرنے کی کمیٹی میں ایک چیئرپرسن شامل ہوگا، جو سپریم کورٹ کے سابق جج یا کسی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ہوں گے۔ اس کے علاوہ کمیٹی میں ہائی کورٹ کے دو سابق جج بطور عدالتی ارکان اور دو تکنیکی ارکان شامل ہوں گے، جنہیں عوامی انتظامیہ، مالیات، قانون یا ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں کم از کم 25 سال کا تجربہ حاصل ہوگا۔ منتخب ماہرین امیدوار کے سابقہ فیصلوں اور پیشہ ورانہ کام کا پہلے سے طے شدہ معیار کے مطابق جائزہ لیں گے۔ کمیٹی کی سربراہی ایک عدالتی رکن کرے گا، جسے  یکساں  ووٹنگ کی صورت میں فیصلہ کن ووٹ دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ کمیٹی مقررہ مدت کے اندر ایک امیدوار کے نام کی سفارش کرے گی اور ساتھ ہی ایک انتظار کی فہرست بھی تیار کرے گی۔

صرف ایک نام کی سفارش کا اصول بھی بہت اہم ہے۔ اگر کمیٹی کئی ناموں پر مشتمل پینل حکومت کو بھیج دے تو آخرکار ان میں سے کسی ایک نام کا انتخاب کرنے کا اختیار دوبارہ حکومت کے پاس آ جاتا ہے۔ اس طرح کمیٹی میں عدالتی ارکان کی اکثریت کے ذریعے میرٹ اور غیر جانب داری کو یقینی بنانے کی جو کوشش کی گئی تھی، وہ آخری مرحلے میں کمزور پڑ سکتی ہے۔ اس کے برعکس، صرف ایک نام کی سفارش سے حتمی فیصلہ اسی مرحلے پر طے ہو جاتا ہے جہاں امیدوار کی اہلیت، تجربے اور میرٹ کا مکمل جائزہ لیا گیا ہو۔ یوں تقرری کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر اور ایک واضح و شفاف عمل کے ذریعے برقرار رہتا ہے۔

ایک تنقید کا براہِ راست جواب دینا ضروری ہے۔ حکومت خود بھی ان خالی عہدوں کو پُر کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے جولائی میں بھی اس بات کی نشاندہی کی تھی، اور یہ کہنا درست تھا۔ اس مسئلے کا حل محض ایک نئی یقین دہانی نہیں ہو سکتا۔ بہرحال، یہ ترمیم اس مسئلے کو بھی حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے لیے ایسا نظام ضروری ہے جس میں تاخیر واضح ہو، اس کی ذمہ داری طے کی جا سکے اور اسے دور بھی کیا جا سکے۔ مستقل سیکریٹریٹ، فعال انتظار فہرست اور مقررہ مدت کے ذریعے ایسا ریکارڈ تیار ہوگا۔ اگر عمل کے کسی مرحلے میں تاخیر یا کوتاہی ہوتی ہے تو اس کی نشاندہی کی جا سکے گی اور اس پر سوال بھی اٹھایا جا سکے گا۔

یکساں ملازمت کی شرائط اپنے آپ میں کئی دہائیوں سے جمع مقدمات کے بوجھ کو ختم نہیں کر سکتیں۔ اس کے ساتھ رجسٹری کے عملے، عدالتی بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل نظام کو بھی بہتر بنانا ہوگا، جیسا کہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے سفارش کی ہے۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ کسی بھی ٹریبونل میں مقدمہ سننے کے لیے پہلے کسی رکن کا موجود ہونا ضروری ہے۔

اے وی جے ہائٹس میں فلیٹ تیار ہیں اور بحالی کا منصوبہ بھی تیار ہے۔ اب صرف ایک ایسے بنچ کی ضرورت ہے جس کے پاس اس منصوبے کا تفصیل سے جائزہ لینے اور اس پر فیصلہ کرنے کے لیے وقت ہو۔ اس خالی عہدے کو پُر کرنا ضروری ہے، اور اسے ایسا عہدہ بنانا بھی ضروری ہے جس پر اہل اور قابل شخص ذمہ داری سنبھالنے میں دلچسپی رکھے۔ یہی وہ مقصد ہے جسے یہ بل پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

(مضمون نگار ہندوستان کے ممتاز ماہرِ قانون اور ہندوستان  کی سپریم کورٹ کے سابق جج ہیں)

The Empty Chair Behind the Backlog

-By Justice Arjan Kumar Sikri

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں