آتم نربھر طبی ٹیکنالوجی:سستی اور معیاری صحت کی سہولیات، وِکست بھارت کی مضبوط بنیاد

 

 

 

جگت پرکاش نڈا

گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں صحت کے بنیادی ڈھانچے میں غیر معمولی توسیع دیکھنے میں آئی ہے۔ سرکاری اور نجی شعبوں میں اسپتالوں، بنیادی مراکز صحت، تشخیصی مراکز اور شہری و دیہی دونوں علاقوں میں طبی کالجوں کی تعداد میں تیز رفتار اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت ہند عوام کو صحت کا تحفظ فراہم کرنے کے لئے شہریوں پر مرکوز پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہند نے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے مسلسل اور مؤثر اقدامات کیے ہیں کہ ملک کے ہر شہری کو معیاری اور قابلِ رسائی صحت کی سہولیات میسر ہوں۔ عوامی فلاح کے لئے اسی غیر متزلزل عزم اور انتھک کاوشوں کے نتیجے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران علاج پر عوام کی اپنی جیب سے ہونے والے اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے اور یہ تقریباً 65 فیصد سے گھٹ کر 43 فیصد رہ گئے ہیں۔
ضلعی اسپتال میں پیدا ہونے والے نومولود بچے سے لے کر تیسرے درجے کے خصوصی طبی مرکز میں زیرعلاج کینسر کے مریض تک، قابل اعتماد، اعلیٰ معیار اور مناسب قیمت پر دستیاب طبی آلات جدید صحت کی خدمات کا ایک لازمی جزو بن چکے ہیں۔ حکومت پردھان منتری آیوشمان بھارت صحت بنیادی ڈھانچہ مشن (پی ایم۔اے بی ایچ آئی ایم) کے تحت تجربہ گاہوں کی جدید کاری، انتہائی نگہداشت کے بنیادی ڈھانچے، بیماریوں کی نگرانی کے نظام اور ہنگامی طبی امداد کے انتظامات کو مضبوط بنانے کے لئے سرمایہ کاری کر رہی ہے، تاکہ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں عوامی صحت کے نظام کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ جیسے جیسے ملک وِکست بھارت 2047 کے ہدف کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہا ہے، حکومت کی توجہ اب ایک آتم نربھر طبی ٹیکنالوجی (میڈ ٹیک) کے مضبوط نظام کی تعمیر پر مرکوز ہے، تاکہ صحت کی سہولیات کو مزید کم خرچ، آسانی سے قابل رسائی اور ہر حال میں مؤثر و پائیدار بنایا جا سکے۔
ماضی میں بھارت جدید اور پیچیدہ طبی آلات کی بڑی تعداد کے لئے بیرونی ممالک سے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا۔ اگرچہ ان ٹیکنالوجیز نے صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن ان کے باعث علاج کی لاگت میں اضافہ، رسد کے نظام میں عدم استحکام اور طبی آلات تک عوام کی محدود رسائی جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے قومی طبی آلات پالیسی 2023 میں نئی ٹیکنالوجیز کے لئے ملک کے اندر طبی آلات کی تیاری کی صلاحیت اور استعداد کو بڑھانے کا عزم کیا گیا، تاکہ طبی آلات کو مزید سستی قیمتوں پر دستیاب کرایا جا سکے اور اس کے نتیجے میں تشخیصی خدمات کی لاگت میں کمی لائی جا سکے۔ حکومت نے پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم، میڈیکل ڈیوائس پارکس اور دواسازی۔طبی ٹیکنالوجی میں تحقیق و اختراع کے فروغ (پی آر آئی پی) اسکیم جیسے اقدامات کے ذریعے طبی آلات کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے ایک جامع حکمت عملی اختیار کی ہے۔ یہ اقدامات طبی آلات کی تیاری، اختراع، سرمایہ کاری اور عالمی مسابقت کے لئے ایک سازگار ماحول تشکیل دے رہے ہیں۔
اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ پی ایل آئی اسکیم کے تحت 50 سے زائد اعلیٰ درجے کے طبی آلات کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ اسی طرح ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد اس شعبے میں مسلسل مضبوط ہو رہا ہے، جس کی عکاسی طبی آلات کے شعبے میں جاری غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کے تسلسل سے ہوتی ہے۔ یہ کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت عالمی میڈ ٹیک ویلیو چین میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر بتدریج اپنی مضبوط شناخت قائم کر رہا ہے۔
مینوفیکچرنگ کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرنے کے ساتھ ساتھ بھارت شہریوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لئے جدید طبی ٹیکنالوجی کو بھی تیزی سے فروغ دے رہا ہے اور اسے اختیار کر رہا ہے۔ جدید تشخیصی سہولیات، امیجنگ نظام، امپلانٹس، انتہائی نگہداشت کے آلات اور ڈیجیٹل صحت کے حل تک سستی اور آسان رسائی سے مریضوں پر مالی بوجھ میں نمایاں کمی آتی ہے، جبکہ علاج کے معیار اور بروقت فراہمی میں بھی بہتری آتی ہے۔ ملکی سطح پر طبی آلات کی تیاری اس مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ اس سے درآمدات پر انحصار کم ہوتا ہے، رسد کے نظام کو مزید مستحکم اور قابل اعتماد بنایا جاتا ہے، جبکہ لاگت میں کمی اور کفایت شعاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔
بھارت کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ دواسازی کی صنعت، مضبوط انجینئرنگ صلاحیتیں، تیزی سے وسعت پذیر ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ، فعال اسٹارٹ اَپ نظام اور ہنرمند افرادی قوت، جدید قسم کی طبی ٹیکنالوجیز کی ترقی کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت، طبی آلات کے طور پر سافٹ ویئر (ایس اے ایم ڈی)، باہم مربوط طبی آلات، روبوٹکس اور دور دراز سے تشخیصی نظام جیسے ابھرتے ہوئے شعبے بھارت کے لئے یہ مواقع فراہم کر رہے ہیں کہ وہ ملکی اور عالمی صحت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے نئی اختراعات پیش کرے۔
جیسے جیسے ہندوستانی صنعت کار عالمی سطح پر اپنی رسائی بڑھا رہے ہیں، معیار بھی برانڈ انڈیا میڈ ٹیک کی نمایاں شناخت بنتا جا رہا ہے۔ حکومت ضابطہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے، منظور شدہ جانچ کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے، طبی جانچ کی تیاری کو فروغ دینے اور بین الاقوامی معیارات کے ساتھ ہم آہنگی قائم کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، تاکہ مریضوں کی حفاظت اور عالمی مسابقت دونوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
عالمی سطح پر مسابقتی میڈ ٹیک نظام کی تعمیر کے لئے حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں، صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں، اسٹارٹ اَپس اور سرمایہ کاروں کے درمیان قریبی تعاون بھی ضروری ہے۔ اختراع اسی وقت فروغ پاتی ہے جب نئے خیالات تجربہ گاہوں سے نکل کر آسانی سے تیاری کے مراکز تک پہنچیں اور بالآخر مریضوں کے لئے مفید ثابت ہوں۔ حکومت ایک مستحکم اور شفاف پالیسی ماحول فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے، جو تحقیق، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی شراکت داری اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دے۔
جیسے جیسے بھارت ایک ترقی یافتہ ملک بننے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے، صحت کا شعبہ اور معاشی ترقی ایک دوسرے کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ایک مضبوط طبی آلات کا شعبہ اعلیٰ قدر والی مینوفیکچرنگ، ہنرمند روزگار، برآمدات اور تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات کو مزید سستی، قابل رسائی اور مضبوط بھی بناتا ہے۔
بھارت کا میڈ ٹیک شعبہ ایشیا کی چوتھی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور دنیا کی 20 بڑی طبی ٹیکنالوجی بازاروں میں شامل ہے۔ اس وقت تقریباً 15 سے 16 ارب ڈالر مالیت رکھنے والا یہ شعبہ قریب 12 فیصد سالانہ مجموعی شرحِ نمو (سی اے جی آر) کے ساتھ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جس کے باعث یہ بھارت کے سب سے تیزی سے فروغ پانے والے مینوفیکچرنگ شعبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ وکست بھارت کا وژن معیار، اختراع اور شمولیت پر مبنی عالمی قیادت کے قیام پر زور دیتا ہے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کام کر رہی ہے کہ طبی ٹیکنالوجیز بھارت کی عوامی صحت سے متعلق ترجیحات کو پورا کریں، جن میں ماں اور بچے کی صحت، غیر متعدی بیماریاں، ہنگامی طبی نگہداشت، کینسر، قلبی امراض اور دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔ معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں بھارت ایک آتم نربھر میڈ ٹیک نظام کی تعمیر کی سمت مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔ یہ اقدام صرف بھارت میں طبی آلات کی تیاری تک محدود نہیں، بلکہ اس کا وسیع تر مقصد ہر شہری کو بروقت، معیاری اور قابل رسائی صحت کی سہولیات فراہم کرنا، ملک کے صحتی تحفظ کو مزید مضبوط بنانا اور دنیا بھر میں انسانیت کی بہتر صحت کے فروغ کے لئے بھارت کو ایک قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر مستحکم کرنا ہے۔
( مضمون نگار حکومت ہند کی صحت اور خاندانی بہبود اور کیمیکل اور فرٹیلائزر کی وزارت کے مرکزی وزیر ہیں)

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پہلگام میں تیز بارش,دریاۓ لڈر کے بہاؤ میں اضافہ

پہلگام، 01 ستمبر  جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے...

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

تازہ ترین خبریں

پہلگام میں تیز بارش,دریاۓ لڈر کے بہاؤ میں اضافہ

پہلگام، 01 ستمبر  جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے...

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

آتم نربھر طبی ٹیکنالوجی:سستی اور معیاری صحت کی سہولیات، وِکست بھارت کی مضبوط بنیاد

 

 

 

جگت پرکاش نڈا

گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں صحت کے بنیادی ڈھانچے میں غیر معمولی توسیع دیکھنے میں آئی ہے۔ سرکاری اور نجی شعبوں میں اسپتالوں، بنیادی مراکز صحت، تشخیصی مراکز اور شہری و دیہی دونوں علاقوں میں طبی کالجوں کی تعداد میں تیز رفتار اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت ہند عوام کو صحت کا تحفظ فراہم کرنے کے لئے شہریوں پر مرکوز پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہند نے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے مسلسل اور مؤثر اقدامات کیے ہیں کہ ملک کے ہر شہری کو معیاری اور قابلِ رسائی صحت کی سہولیات میسر ہوں۔ عوامی فلاح کے لئے اسی غیر متزلزل عزم اور انتھک کاوشوں کے نتیجے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران علاج پر عوام کی اپنی جیب سے ہونے والے اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے اور یہ تقریباً 65 فیصد سے گھٹ کر 43 فیصد رہ گئے ہیں۔
ضلعی اسپتال میں پیدا ہونے والے نومولود بچے سے لے کر تیسرے درجے کے خصوصی طبی مرکز میں زیرعلاج کینسر کے مریض تک، قابل اعتماد، اعلیٰ معیار اور مناسب قیمت پر دستیاب طبی آلات جدید صحت کی خدمات کا ایک لازمی جزو بن چکے ہیں۔ حکومت پردھان منتری آیوشمان بھارت صحت بنیادی ڈھانچہ مشن (پی ایم۔اے بی ایچ آئی ایم) کے تحت تجربہ گاہوں کی جدید کاری، انتہائی نگہداشت کے بنیادی ڈھانچے، بیماریوں کی نگرانی کے نظام اور ہنگامی طبی امداد کے انتظامات کو مضبوط بنانے کے لئے سرمایہ کاری کر رہی ہے، تاکہ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں عوامی صحت کے نظام کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ جیسے جیسے ملک وِکست بھارت 2047 کے ہدف کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہا ہے، حکومت کی توجہ اب ایک آتم نربھر طبی ٹیکنالوجی (میڈ ٹیک) کے مضبوط نظام کی تعمیر پر مرکوز ہے، تاکہ صحت کی سہولیات کو مزید کم خرچ، آسانی سے قابل رسائی اور ہر حال میں مؤثر و پائیدار بنایا جا سکے۔
ماضی میں بھارت جدید اور پیچیدہ طبی آلات کی بڑی تعداد کے لئے بیرونی ممالک سے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا۔ اگرچہ ان ٹیکنالوجیز نے صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن ان کے باعث علاج کی لاگت میں اضافہ، رسد کے نظام میں عدم استحکام اور طبی آلات تک عوام کی محدود رسائی جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے قومی طبی آلات پالیسی 2023 میں نئی ٹیکنالوجیز کے لئے ملک کے اندر طبی آلات کی تیاری کی صلاحیت اور استعداد کو بڑھانے کا عزم کیا گیا، تاکہ طبی آلات کو مزید سستی قیمتوں پر دستیاب کرایا جا سکے اور اس کے نتیجے میں تشخیصی خدمات کی لاگت میں کمی لائی جا سکے۔ حکومت نے پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم، میڈیکل ڈیوائس پارکس اور دواسازی۔طبی ٹیکنالوجی میں تحقیق و اختراع کے فروغ (پی آر آئی پی) اسکیم جیسے اقدامات کے ذریعے طبی آلات کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے ایک جامع حکمت عملی اختیار کی ہے۔ یہ اقدامات طبی آلات کی تیاری، اختراع، سرمایہ کاری اور عالمی مسابقت کے لئے ایک سازگار ماحول تشکیل دے رہے ہیں۔
اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ پی ایل آئی اسکیم کے تحت 50 سے زائد اعلیٰ درجے کے طبی آلات کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ اسی طرح ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد اس شعبے میں مسلسل مضبوط ہو رہا ہے، جس کی عکاسی طبی آلات کے شعبے میں جاری غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کے تسلسل سے ہوتی ہے۔ یہ کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت عالمی میڈ ٹیک ویلیو چین میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر بتدریج اپنی مضبوط شناخت قائم کر رہا ہے۔
مینوفیکچرنگ کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرنے کے ساتھ ساتھ بھارت شہریوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لئے جدید طبی ٹیکنالوجی کو بھی تیزی سے فروغ دے رہا ہے اور اسے اختیار کر رہا ہے۔ جدید تشخیصی سہولیات، امیجنگ نظام، امپلانٹس، انتہائی نگہداشت کے آلات اور ڈیجیٹل صحت کے حل تک سستی اور آسان رسائی سے مریضوں پر مالی بوجھ میں نمایاں کمی آتی ہے، جبکہ علاج کے معیار اور بروقت فراہمی میں بھی بہتری آتی ہے۔ ملکی سطح پر طبی آلات کی تیاری اس مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ اس سے درآمدات پر انحصار کم ہوتا ہے، رسد کے نظام کو مزید مستحکم اور قابل اعتماد بنایا جاتا ہے، جبکہ لاگت میں کمی اور کفایت شعاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔
بھارت کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ دواسازی کی صنعت، مضبوط انجینئرنگ صلاحیتیں، تیزی سے وسعت پذیر ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ، فعال اسٹارٹ اَپ نظام اور ہنرمند افرادی قوت، جدید قسم کی طبی ٹیکنالوجیز کی ترقی کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت، طبی آلات کے طور پر سافٹ ویئر (ایس اے ایم ڈی)، باہم مربوط طبی آلات، روبوٹکس اور دور دراز سے تشخیصی نظام جیسے ابھرتے ہوئے شعبے بھارت کے لئے یہ مواقع فراہم کر رہے ہیں کہ وہ ملکی اور عالمی صحت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے نئی اختراعات پیش کرے۔
جیسے جیسے ہندوستانی صنعت کار عالمی سطح پر اپنی رسائی بڑھا رہے ہیں، معیار بھی برانڈ انڈیا میڈ ٹیک کی نمایاں شناخت بنتا جا رہا ہے۔ حکومت ضابطہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے، منظور شدہ جانچ کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے، طبی جانچ کی تیاری کو فروغ دینے اور بین الاقوامی معیارات کے ساتھ ہم آہنگی قائم کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، تاکہ مریضوں کی حفاظت اور عالمی مسابقت دونوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
عالمی سطح پر مسابقتی میڈ ٹیک نظام کی تعمیر کے لئے حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں، صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں، اسٹارٹ اَپس اور سرمایہ کاروں کے درمیان قریبی تعاون بھی ضروری ہے۔ اختراع اسی وقت فروغ پاتی ہے جب نئے خیالات تجربہ گاہوں سے نکل کر آسانی سے تیاری کے مراکز تک پہنچیں اور بالآخر مریضوں کے لئے مفید ثابت ہوں۔ حکومت ایک مستحکم اور شفاف پالیسی ماحول فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے، جو تحقیق، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی شراکت داری اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دے۔
جیسے جیسے بھارت ایک ترقی یافتہ ملک بننے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے، صحت کا شعبہ اور معاشی ترقی ایک دوسرے کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ایک مضبوط طبی آلات کا شعبہ اعلیٰ قدر والی مینوفیکچرنگ، ہنرمند روزگار، برآمدات اور تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات کو مزید سستی، قابل رسائی اور مضبوط بھی بناتا ہے۔
بھارت کا میڈ ٹیک شعبہ ایشیا کی چوتھی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور دنیا کی 20 بڑی طبی ٹیکنالوجی بازاروں میں شامل ہے۔ اس وقت تقریباً 15 سے 16 ارب ڈالر مالیت رکھنے والا یہ شعبہ قریب 12 فیصد سالانہ مجموعی شرحِ نمو (سی اے جی آر) کے ساتھ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جس کے باعث یہ بھارت کے سب سے تیزی سے فروغ پانے والے مینوفیکچرنگ شعبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ وکست بھارت کا وژن معیار، اختراع اور شمولیت پر مبنی عالمی قیادت کے قیام پر زور دیتا ہے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کام کر رہی ہے کہ طبی ٹیکنالوجیز بھارت کی عوامی صحت سے متعلق ترجیحات کو پورا کریں، جن میں ماں اور بچے کی صحت، غیر متعدی بیماریاں، ہنگامی طبی نگہداشت، کینسر، قلبی امراض اور دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔ معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں بھارت ایک آتم نربھر میڈ ٹیک نظام کی تعمیر کی سمت مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔ یہ اقدام صرف بھارت میں طبی آلات کی تیاری تک محدود نہیں، بلکہ اس کا وسیع تر مقصد ہر شہری کو بروقت، معیاری اور قابل رسائی صحت کی سہولیات فراہم کرنا، ملک کے صحتی تحفظ کو مزید مضبوط بنانا اور دنیا بھر میں انسانیت کی بہتر صحت کے فروغ کے لئے بھارت کو ایک قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر مستحکم کرنا ہے۔
( مضمون نگار حکومت ہند کی صحت اور خاندانی بہبود اور کیمیکل اور فرٹیلائزر کی وزارت کے مرکزی وزیر ہیں)

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں