
ساحلؔ عرفان شفیع
گلاس باغ کھاگ بڈگام
قدرت کا عظیم انعام ہے ماں
بچے کے لئے دائمی انتظام ہے ماں
کتنی کروں بیاں خو بیاں اس کی
قربانی کا دوسرا نام ہے ماں
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ دنیا کے تقریباََ تمام مذاہب نے اپنے اپنے انداز سے ماں کو عزت، محبت اور عظمت کا مقام بخشا ہے۔ دینِ اسلام میں ماں کا مقام بہت بلند و بالا قرار پایا۔ ماں کی خدمت ، ادب و احترام اور فرمانبرداری کو عظیم عبادت قرار دیا گیا ہے۔ وہ عظیم اور ابدی نعمتوں والی جگہ جس کا نام ’جنت ـ‘ہے ماں کے قدموں تلے ہے۔
خالقِ کائنات نے خلوص و محبت کے اس پیکر کو رحم و کرم اور جذبہ ایثار کا منبع بنایا ہے۔ ماں کی قربانیوں کا سلسلہ دریا کی روانی کی طرح بچے کے لئے اُس وقت سے شروع ہوجاتا ہے۔ جبکہ بچہ ابھی دنیا میں بھی نہیں آیا ہوتا ہے۔ وہ پہلے نو ماہ اس ننھی سی جان کو اپنی کوکھ میں رکھ کر ہر تکلیف سے گزرتے ہوئے پیدائش کے وقت اپنی جان تک کی بازی لگا کر اسے دُنیا میں لاتی ہے۔ پھر اس بچے کو اپنی چھاتی سے لگا کر اپنی رگوں کا خون دودھ کی صورت میں پلاتی ہے۔ نہ جانے کتنی راتیں آرام کئے بغیر اور ہزار ہا تکالیف جھیلتے ہوئے بچے کی ہر ضرورت پوری کرتی ہے۔
پھر جب بچہ بڑا ہوتا ہے تو ماں اسکی تعلیم و تربیت کے لئے کوشاں رہتی ہے۔ اپنی ساری خواہشات ترک کر کے فقط اس کا جیون سنوارنے میں گزارتی ہے۔ اپنے بچے کے تئیں دی یہ قربانیاں مخصوص وقت کے لئے نہیں ہوتی بلکہ ماں اپنا پورا جیون ہی بچے کے لئے قربان کر دیتی ہے۔ ماں کی اتنی ساری قربانیاں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ماں قربانیوں کا وہ عظیم منبع ہے جو اپنی ہستی کو فقط اولاد کے لئے مٹا دیتی ہے۔ اس کی قربانیوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔اس کے احسانوں کا بدلہ ہم اپنی جان کا نظرانہ دے کے بھی نہیں چکا سکتے۔
لازم ہے ہم اس عظیم ہستی کی فرمانبرداری میں ہر پل خوشی خوشی سے گزاریں۔ اسی میں ہماری اخروی کامیابی کا راز مضمر ہے۔


