اد ب اطفال ، مدیران اور مصنوعی ذہانت

 

ذوالفقار علی بخاری

گزشتہ چند برسوں سے ادب اطفال مرکز نگا ہ ہے۔ ہمیں کئی نامور کہانی کاراور شعراء جہاں اپنی تخلیقات پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں وہیں نئے لکھنے والوں نے بھی اپنی پہچان بنائی ہے اگرچہ کئی احباب اُنھیں قابل تعریف قرار نہیں دیتے ہیں،اِن میں سے اکثریت وہی ہے جن کا کوئی قابل ذکرکام دکھائی نہیں دیتا ہے۔اگر حقائق کو دیکھیں تو انداز ہ ہوتا ہے کہ نئے لکھنے والے ہی مستقبل میں نامور تخلیق کار بن کر قارئین کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ماضی و حال کے کئی بڑے نام اِس حقیقت کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔آج کے نئے قلم کار کل کے نامور تخلیق کار ہو سکتے ہیں لہذا اُنھیں عزت و احترام دینا بُرا عمل نہیں ہے۔اشتیاق احمد مرحوم، ابن صفی ہوںیا پھر سعادت حسن منٹو۔۔۔۔ ایک زمانے میں وہ نئے لکھنے والوں میں شمار ہوتے تھے۔اُن کی زندگی کے حالات آگاہ کرتے ہیں کہ اُنھیں مقام بنانے کے لئے محنت کرنی پڑی اور اپنا آپ منوانا پڑا، یہی وہ طرز عمل ہے جسے آج نئے لکھنے والوں کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

عصر حاضر میں کئی پرانے قلم کاروں کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والے آفاقی مقبولیت کے خواہاں ہیں۔ کیوں کہ اُنھیں سوشل میڈیا پر مقبول تخلیق کاروں کی شہرت متاثر کر رہی ہے ۔اگرچہ اِن میںسے کئی بھرپور محنت کر رہے ہیں تاکہ اپنی ساکھ بنا سکیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ مذکورہ تخلیق کار مصنوعی ذہانت کا بھی کہیں نہ کہیں استعمال کر رہے ہیں اور تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہیں کہ وہ ایسا کر رہے ہیں ۔ادب اطفال چوں کہ مرکز نگاہ بن چکا ہے لہذا کئی تخلیق کاروں کی خواہش ہے کہ وہ بطور’ ادیب الاطفال‘ اپنے آپ کو اجاگر کریں اور شہرت حاصل کریں۔اِس کے لئے آسان ذریعہ مشینی ذہانت بن رہا ہے کہ تحریریں لکھوا کر اورمعمولی ردوبدل سے نام کمانے کی کوشش کی جائے۔مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ مشینی ذہانت کی پیداوار تحریروں کو ردوبدل کرکے شائع کروانے والوں کی خواہش ہے کہ اُنھیں ’ادیب ‘ تسلیم کیا جائے؟راقم اِنھیں ’ روبو لکھاری‘ کے طور پر قبول کرسکتا ہے لیکن حقیقی تخلیق کار نہیں۔مشینی مواد میں ہمیں انسانی سوچ کی خوشبو کبھی محسوس نہیں ہو سکتی ہے لہذا مشینیت پربھروسہ بے وقوفی ہوگی۔سوال یہ ہے کہ جب سوچ مستعار لے لی جائے تو کیا قارئین مصنوعی ذہانت کو حقیقی تخلیق کار کامتبادل تسلیم کریں گے اورکیا پیش کیا گیا مواد انسانی تخلیق جیسا موثر ہوگا

کسی تحریر کو سنوار نے یا بہتربنانے کے لئے مشینی ذہانت کا استعمال بُرا نہیں تاہم مکمل تحریر لکھوانا قابل مذمت ہے۔حیران کن طور پر نہ صرف پی ڈی ایف رسائل بل کہ اخبارات و جرائد میں ایسی تحریریں شائع ہو رہی ہیں جو مصنوعی ذہانت سے لکھوائی جاتی ہیں اور سستی شہرت سے لطف اندوز ہوا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت نے ناقدین کو تنقید کرنے کا موقع بھی دیا ہے۔افسوس ناک اور بدترین عمل یہ ہے کہ حقیقی تخلیق کاروں کی کردارکشی کی خاطرطبع زاد تخلیقات کو مشینی ذہانت سے جوڑا جا رہا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ناقدین کس حد تک پستی میں گر رہے ہیں ۔دل چسپ امر یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر لفظی جنگوں کے لئے رائے بھی مصنوعی ذہانت سے لکھوائی جار ہی ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ناقدین کی جانب سے ایک نوجوان طبع زاد کہانیاں لکھنے والے کہانی کار تک کو نہیں بخشا گیا ۔جس نے بطور ترجمہ نگار اپنی کتاب منظر عام پر لانے کی جسارت کی تو اُس پر انگلیاں اُٹھائی گئیں کہ ترجمے کے لئے مصنوعی ذہانت سے مدد لی گئی ہے۔جیمزجوائس کے 1922میں شائع ہونے والے ناول ’یوسیسس‘‘کے اردو ترجمے پر بھی سوشل میڈیا پر بھونچال آیا کہ مصنوعی ذہانت سے مدد لی گئی ہوگی۔ناقدین کے علم میں نہیں ہے کہ مصنوعی ذہانت کا ترجمہ کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ غیرمعیاری ہوتا ہے اور پہلی نگاہ میں علم ہوجاتا ہے کہ کس قدر غلطیاں ہیں۔ جب تک دو سے تین بار مشینی ذہانت کو مخصوص ہدایات دے کر درست نہ کروایا جائے تب تک وہ قابل قبول نہیں ہوتا ہے یعنی مصنوعی ذہانت سے ترجمہ کروانے کے لئے محنت درکار ہے۔حیران کن طور پر دو تخلیق کاروں کے ناولز پرمصنوعی ذہانت سے لبریز ہونے کا اعتراض اُٹھایا گیا تو اُسے نامناسب کہا گیا ۔رسائل میں شائع ہونے والی کہانیوں کے عجیب و غریب اورفضول جملوں پر انگلیاں اُٹھانے سے گریزکیا جا تا ہے ،جو بتاتا ہے کہ سوشل میڈیائی ناقدین کس قدر دوہرا معیار رکھتے ہیں۔ادب اطفال کے مرکز نگاہ بننے سے نام نہاد ناقدین اور محققین کی تعداد بڑھ رہی ہے جو ثابت کرتا ہے کہ مشینی ذہانت کی مانند تنقید سستی شہرت کا بہترین ذریعہ ہے۔مصنوعی ذہانت سے لکھوائی گئی کہانیوں کو سہ ماہی باغیچہ اطفال ، سیال کوٹ میں ’روبو کہانی‘ جب کہ روزنامہ اساس ،راولپنڈی میں’ اے آئی کہانی ‘کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے جو کہ قابل تقلید مثالیں ہیں۔جب کہ دیگر اخبارات و رسائل میں مصنوعی ذہانت سے لبریز تخلیقات کی اشاعت عیاں کر رہی ہیں کہ کہیں نہ کہیں لکھنے والے اور شائع کرنے والے حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔

خان حسنین عاقب مشینی ذہانت کی پیداوار تخلیقات کو ’روبو ادب‘ قرار دیتے ہیں لیکن کئی رسائل و اخبار ات نے اِس اصطلاح کو قبول نہیں کیا۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بجائے انسانی ذہانت پر مبنی تحریریں رسائل کا حصہ بنیں۔جب مدیران حقیقی تخلیق کاروں کی بجائے مصنوعی ذہانت کے بل بوتے پربطور تخلیق کار سامنے آنے والوں کو ترجیح دیں گے تب یقینی طور پرتخلیقات قابل مذمت ہوں گی۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر ناقدین مصنوعی ذہانت کی آڑ میں حقیقی کہانی کاروں پر انگلیاں اُٹھا رہے ہیں تاکہ اُن کی کردار کشی کی جاسکے ۔اِس طرح کا عمل ثابت کرتا ہے کہ ہمارے ہاں کس نوعیت کے ناقدین پائے جاتے ہیں۔اِس حوالے سے مدیران کا فرض بنتا ہے کہ وہ انسانی و مشینی ذہانت کا نہ صرف فرق معلوم کریں بل کہ مصنفین سے سوالات کرکے حقائق کو منظرعام پر رکھیں۔ کیوں کہ رسالے میں لکھنے والے تخلیق کاروں کی ساکھ کا تحفظ مدیر کی ذمہ داری ہے۔سوشل میڈیا پر کچھ بھی کہ دینا آسان ہے کیوں کہ ہرایک کے پاس وقت نہیں ہے کہ رسائل کو خطوط لکھیں اوراحتجاج کرسکیں کہ فلاں تحریرمشینی ذہانت سے لکھوائی گئی ہے۔ رسائل ایسے خطوط کو شائع نہیں کریں گے جن میں مصنوعی ذہانت سے لکھوائی گئی کہانیوں پر اعتراض ہوگا ۔ اگر مسلسل اے آئی تحریریں رسالے کی زینت بن رہی ہوںاورشکایات وصول ہو رہی ہوں تب مدیران شکایات سنجیدہ لیں۔ کیوں کہ نہ صرف رسالے بل کہ مصنفین کی ساکھ مجروح ہوگی،اِس حوالے سے بے احتیاطی سنگین نتائج سامنے لا سکتی ہے۔مزید برآں تخلیقات پر اعتراضات کی صورت میں وکالت کا حق صرف او ر صرف مدیران اور مذکورہ مصنف کو حاصل ہونا چاہیے۔ کسی تحریر کی آڑ میں تیسرے فرد کو کردارکشی کی اجازت دینا سنگین عمل ہوگا۔اگر کوئی قاری کسی تحریر کو قابل اعتراض سمجھتا ہے تو اُس کا فرض ہے کہ وہ پہلے رسالے کی انتظامیہ کو شکایات سے آگاہ کرے اور شنوائی نہ ہونے کی صورت میں سوشل میڈیا پر معاملہ اجاگر کرے تاکہ غلط فہمی رسالے کے ساتھ ساتھ شکایت کنندہ کی ساکھ مجروح نہ کرے،بصورت دیگر غلط الزام کی صورت میں ناقدین مستقبل میں ناقابل اعتبار ٹھہریں گے۔
۔ختم شد۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پہلگام میں تیز بارش,دریاۓ لڈر کے بہاؤ میں اضافہ

پہلگام، 01 ستمبر  جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے...

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

تازہ ترین خبریں

پہلگام میں تیز بارش,دریاۓ لڈر کے بہاؤ میں اضافہ

پہلگام، 01 ستمبر  جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے...

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

اد ب اطفال ، مدیران اور مصنوعی ذہانت

 

ذوالفقار علی بخاری

گزشتہ چند برسوں سے ادب اطفال مرکز نگا ہ ہے۔ ہمیں کئی نامور کہانی کاراور شعراء جہاں اپنی تخلیقات پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں وہیں نئے لکھنے والوں نے بھی اپنی پہچان بنائی ہے اگرچہ کئی احباب اُنھیں قابل تعریف قرار نہیں دیتے ہیں،اِن میں سے اکثریت وہی ہے جن کا کوئی قابل ذکرکام دکھائی نہیں دیتا ہے۔اگر حقائق کو دیکھیں تو انداز ہ ہوتا ہے کہ نئے لکھنے والے ہی مستقبل میں نامور تخلیق کار بن کر قارئین کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ماضی و حال کے کئی بڑے نام اِس حقیقت کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔آج کے نئے قلم کار کل کے نامور تخلیق کار ہو سکتے ہیں لہذا اُنھیں عزت و احترام دینا بُرا عمل نہیں ہے۔اشتیاق احمد مرحوم، ابن صفی ہوںیا پھر سعادت حسن منٹو۔۔۔۔ ایک زمانے میں وہ نئے لکھنے والوں میں شمار ہوتے تھے۔اُن کی زندگی کے حالات آگاہ کرتے ہیں کہ اُنھیں مقام بنانے کے لئے محنت کرنی پڑی اور اپنا آپ منوانا پڑا، یہی وہ طرز عمل ہے جسے آج نئے لکھنے والوں کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

عصر حاضر میں کئی پرانے قلم کاروں کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والے آفاقی مقبولیت کے خواہاں ہیں۔ کیوں کہ اُنھیں سوشل میڈیا پر مقبول تخلیق کاروں کی شہرت متاثر کر رہی ہے ۔اگرچہ اِن میںسے کئی بھرپور محنت کر رہے ہیں تاکہ اپنی ساکھ بنا سکیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ مذکورہ تخلیق کار مصنوعی ذہانت کا بھی کہیں نہ کہیں استعمال کر رہے ہیں اور تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہیں کہ وہ ایسا کر رہے ہیں ۔ادب اطفال چوں کہ مرکز نگاہ بن چکا ہے لہذا کئی تخلیق کاروں کی خواہش ہے کہ وہ بطور’ ادیب الاطفال‘ اپنے آپ کو اجاگر کریں اور شہرت حاصل کریں۔اِس کے لئے آسان ذریعہ مشینی ذہانت بن رہا ہے کہ تحریریں لکھوا کر اورمعمولی ردوبدل سے نام کمانے کی کوشش کی جائے۔مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ مشینی ذہانت کی پیداوار تحریروں کو ردوبدل کرکے شائع کروانے والوں کی خواہش ہے کہ اُنھیں ’ادیب ‘ تسلیم کیا جائے؟راقم اِنھیں ’ روبو لکھاری‘ کے طور پر قبول کرسکتا ہے لیکن حقیقی تخلیق کار نہیں۔مشینی مواد میں ہمیں انسانی سوچ کی خوشبو کبھی محسوس نہیں ہو سکتی ہے لہذا مشینیت پربھروسہ بے وقوفی ہوگی۔سوال یہ ہے کہ جب سوچ مستعار لے لی جائے تو کیا قارئین مصنوعی ذہانت کو حقیقی تخلیق کار کامتبادل تسلیم کریں گے اورکیا پیش کیا گیا مواد انسانی تخلیق جیسا موثر ہوگا

کسی تحریر کو سنوار نے یا بہتربنانے کے لئے مشینی ذہانت کا استعمال بُرا نہیں تاہم مکمل تحریر لکھوانا قابل مذمت ہے۔حیران کن طور پر نہ صرف پی ڈی ایف رسائل بل کہ اخبارات و جرائد میں ایسی تحریریں شائع ہو رہی ہیں جو مصنوعی ذہانت سے لکھوائی جاتی ہیں اور سستی شہرت سے لطف اندوز ہوا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت نے ناقدین کو تنقید کرنے کا موقع بھی دیا ہے۔افسوس ناک اور بدترین عمل یہ ہے کہ حقیقی تخلیق کاروں کی کردارکشی کی خاطرطبع زاد تخلیقات کو مشینی ذہانت سے جوڑا جا رہا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ناقدین کس حد تک پستی میں گر رہے ہیں ۔دل چسپ امر یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر لفظی جنگوں کے لئے رائے بھی مصنوعی ذہانت سے لکھوائی جار ہی ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ناقدین کی جانب سے ایک نوجوان طبع زاد کہانیاں لکھنے والے کہانی کار تک کو نہیں بخشا گیا ۔جس نے بطور ترجمہ نگار اپنی کتاب منظر عام پر لانے کی جسارت کی تو اُس پر انگلیاں اُٹھائی گئیں کہ ترجمے کے لئے مصنوعی ذہانت سے مدد لی گئی ہے۔جیمزجوائس کے 1922میں شائع ہونے والے ناول ’یوسیسس‘‘کے اردو ترجمے پر بھی سوشل میڈیا پر بھونچال آیا کہ مصنوعی ذہانت سے مدد لی گئی ہوگی۔ناقدین کے علم میں نہیں ہے کہ مصنوعی ذہانت کا ترجمہ کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ غیرمعیاری ہوتا ہے اور پہلی نگاہ میں علم ہوجاتا ہے کہ کس قدر غلطیاں ہیں۔ جب تک دو سے تین بار مشینی ذہانت کو مخصوص ہدایات دے کر درست نہ کروایا جائے تب تک وہ قابل قبول نہیں ہوتا ہے یعنی مصنوعی ذہانت سے ترجمہ کروانے کے لئے محنت درکار ہے۔حیران کن طور پر دو تخلیق کاروں کے ناولز پرمصنوعی ذہانت سے لبریز ہونے کا اعتراض اُٹھایا گیا تو اُسے نامناسب کہا گیا ۔رسائل میں شائع ہونے والی کہانیوں کے عجیب و غریب اورفضول جملوں پر انگلیاں اُٹھانے سے گریزکیا جا تا ہے ،جو بتاتا ہے کہ سوشل میڈیائی ناقدین کس قدر دوہرا معیار رکھتے ہیں۔ادب اطفال کے مرکز نگاہ بننے سے نام نہاد ناقدین اور محققین کی تعداد بڑھ رہی ہے جو ثابت کرتا ہے کہ مشینی ذہانت کی مانند تنقید سستی شہرت کا بہترین ذریعہ ہے۔مصنوعی ذہانت سے لکھوائی گئی کہانیوں کو سہ ماہی باغیچہ اطفال ، سیال کوٹ میں ’روبو کہانی‘ جب کہ روزنامہ اساس ،راولپنڈی میں’ اے آئی کہانی ‘کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے جو کہ قابل تقلید مثالیں ہیں۔جب کہ دیگر اخبارات و رسائل میں مصنوعی ذہانت سے لبریز تخلیقات کی اشاعت عیاں کر رہی ہیں کہ کہیں نہ کہیں لکھنے والے اور شائع کرنے والے حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔

خان حسنین عاقب مشینی ذہانت کی پیداوار تخلیقات کو ’روبو ادب‘ قرار دیتے ہیں لیکن کئی رسائل و اخبار ات نے اِس اصطلاح کو قبول نہیں کیا۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بجائے انسانی ذہانت پر مبنی تحریریں رسائل کا حصہ بنیں۔جب مدیران حقیقی تخلیق کاروں کی بجائے مصنوعی ذہانت کے بل بوتے پربطور تخلیق کار سامنے آنے والوں کو ترجیح دیں گے تب یقینی طور پرتخلیقات قابل مذمت ہوں گی۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر ناقدین مصنوعی ذہانت کی آڑ میں حقیقی کہانی کاروں پر انگلیاں اُٹھا رہے ہیں تاکہ اُن کی کردار کشی کی جاسکے ۔اِس طرح کا عمل ثابت کرتا ہے کہ ہمارے ہاں کس نوعیت کے ناقدین پائے جاتے ہیں۔اِس حوالے سے مدیران کا فرض بنتا ہے کہ وہ انسانی و مشینی ذہانت کا نہ صرف فرق معلوم کریں بل کہ مصنفین سے سوالات کرکے حقائق کو منظرعام پر رکھیں۔ کیوں کہ رسالے میں لکھنے والے تخلیق کاروں کی ساکھ کا تحفظ مدیر کی ذمہ داری ہے۔سوشل میڈیا پر کچھ بھی کہ دینا آسان ہے کیوں کہ ہرایک کے پاس وقت نہیں ہے کہ رسائل کو خطوط لکھیں اوراحتجاج کرسکیں کہ فلاں تحریرمشینی ذہانت سے لکھوائی گئی ہے۔ رسائل ایسے خطوط کو شائع نہیں کریں گے جن میں مصنوعی ذہانت سے لکھوائی گئی کہانیوں پر اعتراض ہوگا ۔ اگر مسلسل اے آئی تحریریں رسالے کی زینت بن رہی ہوںاورشکایات وصول ہو رہی ہوں تب مدیران شکایات سنجیدہ لیں۔ کیوں کہ نہ صرف رسالے بل کہ مصنفین کی ساکھ مجروح ہوگی،اِس حوالے سے بے احتیاطی سنگین نتائج سامنے لا سکتی ہے۔مزید برآں تخلیقات پر اعتراضات کی صورت میں وکالت کا حق صرف او ر صرف مدیران اور مذکورہ مصنف کو حاصل ہونا چاہیے۔ کسی تحریر کی آڑ میں تیسرے فرد کو کردارکشی کی اجازت دینا سنگین عمل ہوگا۔اگر کوئی قاری کسی تحریر کو قابل اعتراض سمجھتا ہے تو اُس کا فرض ہے کہ وہ پہلے رسالے کی انتظامیہ کو شکایات سے آگاہ کرے اور شنوائی نہ ہونے کی صورت میں سوشل میڈیا پر معاملہ اجاگر کرے تاکہ غلط فہمی رسالے کے ساتھ ساتھ شکایت کنندہ کی ساکھ مجروح نہ کرے،بصورت دیگر غلط الزام کی صورت میں ناقدین مستقبل میں ناقابل اعتبار ٹھہریں گے۔
۔ختم شد۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں