زندگی کی جنگ یا موت کا انتخاب؟

 

قیصر محمد عراقی

 

خودکشی ایک ایسا فعل ہے جس کی کوئی مذہب یا معاشرہ اجازت نہیں دیتا۔ دنیا کے تمام بڑے مذاہب عیسائیت، یہودیت اور ہندوازم کے مطابق انسان کی زندگی خدا کی ملکیت ہے اور اس میں دخل اندازی یعنی خودکشی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ اسلام میں تمام مذاہب سے بڑھ کر خودکشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ اسلام کے نزدیک خودکشی کرنے والا نہ صرف جہنمی ہے بلکہ اس کا جنازہ پڑھنے سے بھی روکا گیا ہے۔
اس کے باوجود دنیا بھر میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق انسان کے ذہن میں خودکشی کا خیال صرف چند لمحوں کے لئے آتا ہے اور اگر ان لمحوں پر قابو پا لیا جائے تو اس رجحان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ لوگ زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے بجائے اپنی زندگی ہی ختم کر دیتے ہیں؟
حالات کا ستایا ہوا یا خواہشات کا غلام شخص جب اپنے مسائل کا حل نہیں ڈھونڈ پاتا تو خودکشی کو نجات سمجھ بیٹھتا ہے۔ گھریلو مسائل، محبت میں ناکامی، بے روزگاری اور دیگر وجوہات کے باعث لوگ خودکشی کر رہے ہیں۔ اگر ہم ان خبروں کا گہرائی سے جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ تقریباً 70 فیصد لوگ مالی پریشانیوں اور غربت، 20 فیصد ذہنی بیماریوں اور 10 فیصد گھریلو جھگڑوں کے باعث اس ناقابلِ معافی فعل کا ارتکاب کرتے ہیں۔
موجودہ حالات میں جس تیزی سے معاشی مسائل بڑھ رہے ہیں، اسی رفتار سے خودکشی کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ مہنگائی نے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے۔ مسلسل محنت کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر انسان محرومی اور ناامیدی کا شکار ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ امید کا دامن نہیں چھوڑتے، مگر کچھ افراد ڈپریشن میں مبتلا ہو کر منفی سوچوں کے زیرِ اثر اپنی یا دوسروں کی زندگی کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں۔
مردوں کے ساتھ عورتیں اور بچے بھی اس رجحان کا شکار ہیں۔ عورتوں میں بے جوڑ شادیاں، مالی مسائل اور گھریلو مشکلات نمایاں اسباب ہیں۔ بعض گھرانے مجبوری میں بے روزگار لڑکوں سے رشتے کر دیتے ہیں، جس کے بعد معاشی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ ایسے حالات بعض خواتین کو خودکشی پر آمادہ کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کم آمدنی، گھریلو جھگڑے اور بڑے خاندان بھی اس المیے کو جنم دیتے ہیں۔
گھریلو مسائل اور غربت سے تنگ آ کر بعض خواتین خودسوزی کرتی ہیں، جبکہ نوجوان بے روزگاری اور محرومیوں سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کرتے ہیں۔ خودکشی کی ایک بڑی وجہ ملکی معیشت کی کمزوری بھی ہے۔ بجٹ میں غریب عوام کی فلاح، سستا انصاف، فنی تعلیم اور روزگار کی فراہمی پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جاتی، جس سے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔
حالات کے مارے ہوئے جذباتی افراد معمولی تنخواہوں، احساسِ محرومی اور غربت کے باعث کبھی جرائم اور کبھی خودکشی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
خودکشی کی شرح میں اضافے کا ذمہ دار صرف حکومت نہیں بلکہ معاشرہ بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق غربت، بے روزگاری اور ضروریاتِ زندگی کی کمی انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتی ہے جہاں اسے صحیح اور غلط میں فرق محسوس نہیں ہوتا اور وہ اپنے دکھوں کا علاج خودکشی میں تلاش کرتا ہے۔
غربت، فاقہ کشی، بے روزگاری اور گھریلو جھگڑوں کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بڑھتا اخلاقی انحطاط بھی خودکشی کی شرح میں اضافے کا سبب ہے۔ اس کے اثرات بچوں تک پہنچ چکے ہیں، یہاں تک کہ بعض طلبہ امتحان میں ناکامی کے بعد خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں۔
جب اخبارات میں خودکشی کے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کبھی غربت سے تنگ آ کر ماں بچوں سمیت جان دے دیتی ہے، کبھی بے روزگار باپ اپنی اولاد سمیت زہریلی دوا پی لیتا ہے یا کوئی طالب علم اپنی کلائی کی رگ کاٹ لیتا ہے۔ ہم خبر پڑھ کر چند لمحے افسردہ ہوتے ہیں اور پھر اپنی مصروفیات میں کھو جاتے ہیں، حالانکہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسے افراد کی کیفیت کو سمجھیں اور ان کے علاج و رہنمائی کا انتظام کریں۔ ممکن ہے کہ ان کی ذہنی بیماری اس حد تک بڑھ چکی ہو کہ وہ کسی بھی وقت انتہائی قدم اٹھا لیں۔ لہٰذا ذہنی انتشار کی وجوہات دور کر کے اس سنگین مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مصنوعی ذہانت کے دور میں کتب خانوں کے مستقبل پرIUSTمیں ورکشاپ

جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ، یکم ستمبر: اسلامک یونیورسٹی آف...

آزاد فلم سازوں کی حمایت اور نوجوان ٹیلنٹ کو مواقع فراہم کرنے پر زور

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر انڈیپنڈنٹ فلم میکرز گلڈ...

امریکہ کے ایران پر دو روز میں دوسری بار فضائی حملے

جنگ نیوز امریکی فوج نے منگل کو آبنائے ہرمز کے...

15 ہزار روپے رشوت معاملے میں دو پولیس افسر گرفتار

  جنگ نیوز انسداد بدعنوانی بیورو (ACB) نے سرینگر میں مبینہ...

انتظامیہ میں ردوبدل: 136 کے قریب JKASافسران کے تبادلے

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ جموں و کشمیر انتظامیہ نے ایک...

تازہ ترین خبریں

مصنوعی ذہانت کے دور میں کتب خانوں کے مستقبل پرIUSTمیں ورکشاپ

جنگ نیوز ڈیسک اونتی پورہ، یکم ستمبر: اسلامک یونیورسٹی آف...

آزاد فلم سازوں کی حمایت اور نوجوان ٹیلنٹ کو مواقع فراہم کرنے پر زور

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر انڈیپنڈنٹ فلم میکرز گلڈ...

امریکہ کے ایران پر دو روز میں دوسری بار فضائی حملے

جنگ نیوز امریکی فوج نے منگل کو آبنائے ہرمز کے...

15 ہزار روپے رشوت معاملے میں دو پولیس افسر گرفتار

  جنگ نیوز انسداد بدعنوانی بیورو (ACB) نے سرینگر میں مبینہ...

انتظامیہ میں ردوبدل: 136 کے قریب JKASافسران کے تبادلے

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ جموں و کشمیر انتظامیہ نے ایک...

زندگی کی جنگ یا موت کا انتخاب؟

 

قیصر محمد عراقی

 

خودکشی ایک ایسا فعل ہے جس کی کوئی مذہب یا معاشرہ اجازت نہیں دیتا۔ دنیا کے تمام بڑے مذاہب عیسائیت، یہودیت اور ہندوازم کے مطابق انسان کی زندگی خدا کی ملکیت ہے اور اس میں دخل اندازی یعنی خودکشی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ اسلام میں تمام مذاہب سے بڑھ کر خودکشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ اسلام کے نزدیک خودکشی کرنے والا نہ صرف جہنمی ہے بلکہ اس کا جنازہ پڑھنے سے بھی روکا گیا ہے۔
اس کے باوجود دنیا بھر میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق انسان کے ذہن میں خودکشی کا خیال صرف چند لمحوں کے لئے آتا ہے اور اگر ان لمحوں پر قابو پا لیا جائے تو اس رجحان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ لوگ زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے بجائے اپنی زندگی ہی ختم کر دیتے ہیں؟
حالات کا ستایا ہوا یا خواہشات کا غلام شخص جب اپنے مسائل کا حل نہیں ڈھونڈ پاتا تو خودکشی کو نجات سمجھ بیٹھتا ہے۔ گھریلو مسائل، محبت میں ناکامی، بے روزگاری اور دیگر وجوہات کے باعث لوگ خودکشی کر رہے ہیں۔ اگر ہم ان خبروں کا گہرائی سے جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ تقریباً 70 فیصد لوگ مالی پریشانیوں اور غربت، 20 فیصد ذہنی بیماریوں اور 10 فیصد گھریلو جھگڑوں کے باعث اس ناقابلِ معافی فعل کا ارتکاب کرتے ہیں۔
موجودہ حالات میں جس تیزی سے معاشی مسائل بڑھ رہے ہیں، اسی رفتار سے خودکشی کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ مہنگائی نے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے۔ مسلسل محنت کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر انسان محرومی اور ناامیدی کا شکار ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ امید کا دامن نہیں چھوڑتے، مگر کچھ افراد ڈپریشن میں مبتلا ہو کر منفی سوچوں کے زیرِ اثر اپنی یا دوسروں کی زندگی کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں۔
مردوں کے ساتھ عورتیں اور بچے بھی اس رجحان کا شکار ہیں۔ عورتوں میں بے جوڑ شادیاں، مالی مسائل اور گھریلو مشکلات نمایاں اسباب ہیں۔ بعض گھرانے مجبوری میں بے روزگار لڑکوں سے رشتے کر دیتے ہیں، جس کے بعد معاشی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ ایسے حالات بعض خواتین کو خودکشی پر آمادہ کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کم آمدنی، گھریلو جھگڑے اور بڑے خاندان بھی اس المیے کو جنم دیتے ہیں۔
گھریلو مسائل اور غربت سے تنگ آ کر بعض خواتین خودسوزی کرتی ہیں، جبکہ نوجوان بے روزگاری اور محرومیوں سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کرتے ہیں۔ خودکشی کی ایک بڑی وجہ ملکی معیشت کی کمزوری بھی ہے۔ بجٹ میں غریب عوام کی فلاح، سستا انصاف، فنی تعلیم اور روزگار کی فراہمی پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جاتی، جس سے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔
حالات کے مارے ہوئے جذباتی افراد معمولی تنخواہوں، احساسِ محرومی اور غربت کے باعث کبھی جرائم اور کبھی خودکشی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
خودکشی کی شرح میں اضافے کا ذمہ دار صرف حکومت نہیں بلکہ معاشرہ بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق غربت، بے روزگاری اور ضروریاتِ زندگی کی کمی انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتی ہے جہاں اسے صحیح اور غلط میں فرق محسوس نہیں ہوتا اور وہ اپنے دکھوں کا علاج خودکشی میں تلاش کرتا ہے۔
غربت، فاقہ کشی، بے روزگاری اور گھریلو جھگڑوں کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بڑھتا اخلاقی انحطاط بھی خودکشی کی شرح میں اضافے کا سبب ہے۔ اس کے اثرات بچوں تک پہنچ چکے ہیں، یہاں تک کہ بعض طلبہ امتحان میں ناکامی کے بعد خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں۔
جب اخبارات میں خودکشی کے واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کبھی غربت سے تنگ آ کر ماں بچوں سمیت جان دے دیتی ہے، کبھی بے روزگار باپ اپنی اولاد سمیت زہریلی دوا پی لیتا ہے یا کوئی طالب علم اپنی کلائی کی رگ کاٹ لیتا ہے۔ ہم خبر پڑھ کر چند لمحے افسردہ ہوتے ہیں اور پھر اپنی مصروفیات میں کھو جاتے ہیں، حالانکہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسے افراد کی کیفیت کو سمجھیں اور ان کے علاج و رہنمائی کا انتظام کریں۔ ممکن ہے کہ ان کی ذہنی بیماری اس حد تک بڑھ چکی ہو کہ وہ کسی بھی وقت انتہائی قدم اٹھا لیں۔ لہٰذا ذہنی انتشار کی وجوہات دور کر کے اس سنگین مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں