
ساحلؔ عرفان شفیع
گلاس باغ کھاگ بڈگام
ہر سمت وہ حُسنِ تمام نظر آتا ہے
ہر ذرّے میں کامل نظام نظر آتا ہے
اُن کا جب بھی نام لبوں پر آتا ہے
بہت اونچا اپنا مقام نظر آتا ہے
چاند تاروں کی سجی محفل فلک پر
قدرت کا حسین انعام نظر آتا ہے
برگِ گل ہو یا چٹانوں کی سخت ساخت
ہر سُو کمالِ انتظام نظر آتا ہے
لوگ دوسروں پہ کیچڑ اُچھالتے رہے
کہاں اپنا دامن اُنہیں خام نظر آتا ہے
جھوٹ کتنا بھی سر چڑھ کے بولے
آ خر سچ ہی سرِ عام نظر آتا ہے
دل کی نظر سے دنیا دیکھ لو، ساحلؔ


