غزل

 

 

ساحلؔ عرفان شفیع

گلاس باغ کھاگ بڈگام

ہر سمت وہ حُسنِ تمام نظر آتا ہے
ہر ذرّے میں کامل نظام نظر آتا ہے
اُن کا جب بھی نام لبوں پر آتا ہے
بہت اونچا اپنا مقام نظر آتا ہے
چاند تاروں کی سجی محفل فلک پر

قدرت کا حسین انعام نظر آتا ہے
برگِ گل ہو یا چٹانوں کی سخت ساخت
ہر سُو کمالِ انتظام نظر آتا ہے
لوگ دوسروں پہ کیچڑ اُچھالتے رہے
کہاں اپنا دامن اُنہیں خام نظر آتا ہے
جھوٹ کتنا بھی سر چڑھ کے بولے
آ خر سچ ہی سرِ عام نظر آتا ہے
دل کی نظر سے دنیا دیکھ لو، ساحلؔ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

غزل

 

 

ساحلؔ عرفان شفیع

گلاس باغ کھاگ بڈگام

ہر سمت وہ حُسنِ تمام نظر آتا ہے
ہر ذرّے میں کامل نظام نظر آتا ہے
اُن کا جب بھی نام لبوں پر آتا ہے
بہت اونچا اپنا مقام نظر آتا ہے
چاند تاروں کی سجی محفل فلک پر

قدرت کا حسین انعام نظر آتا ہے
برگِ گل ہو یا چٹانوں کی سخت ساخت
ہر سُو کمالِ انتظام نظر آتا ہے
لوگ دوسروں پہ کیچڑ اُچھالتے رہے
کہاں اپنا دامن اُنہیں خام نظر آتا ہے
جھوٹ کتنا بھی سر چڑھ کے بولے
آ خر سچ ہی سرِ عام نظر آتا ہے
دل کی نظر سے دنیا دیکھ لو، ساحلؔ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون