یکساں تعمیراتی فیس

جموں و کشمیر کے محکمۂ ہاؤسنگ و شہری ترقی کی جانب سے پورے مرکزی زیرِ انتظام علاقے میں عمارتوں کے تعمیراتی اجازت ناموں کی فیس کو یکساں بنانے کا فیصلہ ایک خوش آئند اور دور رس اثرات کا حامل اقدام ہے۔ اب تک مختلف شہری بلدیاتی اداروں اور ترقیاتی اتھارٹیز میں الگ الگ فیس نافذ ہونے کے باعث شہریوں کو نہ صرف الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا بلکہ ایک ہی نوعیت کے تعمیراتی منصوبے مختلف علاقوں میں مختلف مالی بوجھ کے تحت آتے تھے۔ نئی پالیسی نے اس غیر ضروری تفاوت کو ختم کرکے شفافیت، یکسانیت اور انتظامی سادگی کی بنیاد رکھ دی ہے۔
اچھی حکمرانی کی بنیادی شرط یہ ہے کہ قانون اور ضوابط سب پر یکساں طور پر نافذ ہوں۔ جب ایک ہی نوعیت کی تعمیر کے لئے صرف علاقائی حدود کی بنیاد پر مختلف فیس وصول کی جائے تو مساوات کا اصول مجروح ہوتا ہے۔ یکساں فیس کا نفاذ اس احساس کو مضبوط کرے گا کہ حکومت شہریوں کے ساتھ امتیازی نہیں بلکہ منصفانہ طرزِ عمل اختیار کر رہی ہے۔ اس سے عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بھی بڑھے گا اور انتظامی نظام مزید قابلِ اعتبار بنے گا۔
یہ فیصلہ تعمیراتی شعبے سے وابستہ انجینئروں، معماروں، کنٹریکٹروں اور سرمایہ کاروں کے لئے بھی سہولت کا باعث بنے گا۔ مختلف اداروں کے الگ الگ ضوابط اور فیس کے بجائے اب ایک واضح اور مشترکہ نظام موجود ہوگا، جس سے منصوبہ بندی آسان ہوگی، غیر ضروری پیچیدگیاں کم ہوں گی اور اجازت ناموں کے حصول کا عمل زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھ سکے گا۔
اس اصلاح سے حکومت کو بھی مالیاتی نظم و نسق بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ یکساں فیس کے باعث محصولات کا حساب، آڈٹ اور آن لائن نظام کے ذریعے درخواستوں کی جانچ نسبتاً آسان ہوگی، جبکہ صوابدیدی فیصلوں اور ممکنہ بے ضابطگیوں کی گنجائش بھی محدود ہوگی۔ اگر اس اقدام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام سے جوڑ دیا جائے تو شفافیت اور جواب دہی میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تاہم اس فیصلے کی حقیقی کامیابی صرف فیس کی یکسانیت سے نہیں بلکہ اس کے مؤثر نفاذ سے وابستہ ہے۔ اگر شہریوں کو فیس تو ایک جیسی ادا کرنی پڑے مگر اجازت ناموں کے اجرا میں تاخیر، غیر ضروری کاغذی کارروائی یا دفتری رکاوٹیں برقرار رہیں تو اصلاحات کا اصل مقصد فوت ہو جائے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ درخواستوں کی بروقت منظوری، شفاف کارروائی اور مؤثر شکایتی نظام کو بھی یقینی بنایا جائے۔
یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ یکساں فیس کا مطلب عوام پر اضافی مالی بوجھ ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ متوسط اور کم آمدنی والے خاندان اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے گھر تعمیر کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ شہری ترقی کے لئے وسائل جمع کرنے اور عوام کی استطاعت کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھے اور وقتاً فوقتاً زمینی حقائق کے مطابق فیس کا جائزہ بھی لیتی رہے۔
مذہبی عمارتوں کو اس نظام سے مستثنیٰ قرار دینا ان کی سماجی اور مذہبی اہمیت کے پیشِ نظر ایک قابلِ فہم فیصلہ ہے، تاہم ہر قسم کی رعایت اور استثنا کو مکمل شفافیت کے ساتھ نافذ کیا جانا بھی ضروری ہے تاکہ کسی قسم کے غلط استعمال کی گنجائش باقی نہ رہے۔
جموں و کشمیر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی بہتر منصوبہ بندی، مؤثر بلدیاتی انتظام اور مضبوط شہری ڈھانچے کی متقاضی ہے۔ تعمیراتی اجازت ناموں کی یکساں فیس اسی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اس کے ساتھ غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام، آن لائن منظوری کے نظام، ضابطوں میں مزید سادگی اور عوام دوست طرزِ حکمرانی پر بھی یکساں توجہ دینا ہوگی۔
اگر حکومت اس اصلاح کو دیانت داری، شفافیت اور انتظامی مستعدی کے ساتھ نافذ کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ اقدام نہ صرف شہریوں کی مشکلات کم کرے گا بلکہ جموں و کشمیر میں جدید، منظم اور منصفانہ شہری ترقی کی مضبوط بنیاد بھی ثابت ہوگا۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

غزل

  محمد ایوب ترال بالا میں تھکا ہارا کہاں جاؤں میں درد کا...

غزل

  جاوید قسیم بزم میں جب وہ مل جاتے ہیں سب کے چہرے...

غزل

    ساحلؔ عرفان شفیع   ساحلؔ عرفان شفیع گلاس باغ کھاگ بڈگام ہر سمت...

اردو صحافت میں سرینگر جنگ کی درخشاں روایت برقرار، سینئر نامہ نگار عادل سلام قومی ایوارڈ سے سرفراز

مہناز نیوز ڈیسک سرینگر/نئی دہلی/وادی کشمیر کی اردو صحافت کے لئے...

ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا رد عمل،

ایران نے سنیچر کے روز امریکہ کو کسی بھی...

تازہ ترین خبریں

غزل

  محمد ایوب ترال بالا میں تھکا ہارا کہاں جاؤں میں درد کا...

غزل

  جاوید قسیم بزم میں جب وہ مل جاتے ہیں سب کے چہرے...

غزل

    ساحلؔ عرفان شفیع   ساحلؔ عرفان شفیع گلاس باغ کھاگ بڈگام ہر سمت...

اردو صحافت میں سرینگر جنگ کی درخشاں روایت برقرار، سینئر نامہ نگار عادل سلام قومی ایوارڈ سے سرفراز

مہناز نیوز ڈیسک سرینگر/نئی دہلی/وادی کشمیر کی اردو صحافت کے لئے...

ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا رد عمل،

ایران نے سنیچر کے روز امریکہ کو کسی بھی...

یکساں تعمیراتی فیس

جموں و کشمیر کے محکمۂ ہاؤسنگ و شہری ترقی کی جانب سے پورے مرکزی زیرِ انتظام علاقے میں عمارتوں کے تعمیراتی اجازت ناموں کی فیس کو یکساں بنانے کا فیصلہ ایک خوش آئند اور دور رس اثرات کا حامل اقدام ہے۔ اب تک مختلف شہری بلدیاتی اداروں اور ترقیاتی اتھارٹیز میں الگ الگ فیس نافذ ہونے کے باعث شہریوں کو نہ صرف الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا بلکہ ایک ہی نوعیت کے تعمیراتی منصوبے مختلف علاقوں میں مختلف مالی بوجھ کے تحت آتے تھے۔ نئی پالیسی نے اس غیر ضروری تفاوت کو ختم کرکے شفافیت، یکسانیت اور انتظامی سادگی کی بنیاد رکھ دی ہے۔
اچھی حکمرانی کی بنیادی شرط یہ ہے کہ قانون اور ضوابط سب پر یکساں طور پر نافذ ہوں۔ جب ایک ہی نوعیت کی تعمیر کے لئے صرف علاقائی حدود کی بنیاد پر مختلف فیس وصول کی جائے تو مساوات کا اصول مجروح ہوتا ہے۔ یکساں فیس کا نفاذ اس احساس کو مضبوط کرے گا کہ حکومت شہریوں کے ساتھ امتیازی نہیں بلکہ منصفانہ طرزِ عمل اختیار کر رہی ہے۔ اس سے عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بھی بڑھے گا اور انتظامی نظام مزید قابلِ اعتبار بنے گا۔
یہ فیصلہ تعمیراتی شعبے سے وابستہ انجینئروں، معماروں، کنٹریکٹروں اور سرمایہ کاروں کے لئے بھی سہولت کا باعث بنے گا۔ مختلف اداروں کے الگ الگ ضوابط اور فیس کے بجائے اب ایک واضح اور مشترکہ نظام موجود ہوگا، جس سے منصوبہ بندی آسان ہوگی، غیر ضروری پیچیدگیاں کم ہوں گی اور اجازت ناموں کے حصول کا عمل زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھ سکے گا۔
اس اصلاح سے حکومت کو بھی مالیاتی نظم و نسق بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ یکساں فیس کے باعث محصولات کا حساب، آڈٹ اور آن لائن نظام کے ذریعے درخواستوں کی جانچ نسبتاً آسان ہوگی، جبکہ صوابدیدی فیصلوں اور ممکنہ بے ضابطگیوں کی گنجائش بھی محدود ہوگی۔ اگر اس اقدام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام سے جوڑ دیا جائے تو شفافیت اور جواب دہی میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تاہم اس فیصلے کی حقیقی کامیابی صرف فیس کی یکسانیت سے نہیں بلکہ اس کے مؤثر نفاذ سے وابستہ ہے۔ اگر شہریوں کو فیس تو ایک جیسی ادا کرنی پڑے مگر اجازت ناموں کے اجرا میں تاخیر، غیر ضروری کاغذی کارروائی یا دفتری رکاوٹیں برقرار رہیں تو اصلاحات کا اصل مقصد فوت ہو جائے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ درخواستوں کی بروقت منظوری، شفاف کارروائی اور مؤثر شکایتی نظام کو بھی یقینی بنایا جائے۔
یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ یکساں فیس کا مطلب عوام پر اضافی مالی بوجھ ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ متوسط اور کم آمدنی والے خاندان اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے گھر تعمیر کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ شہری ترقی کے لئے وسائل جمع کرنے اور عوام کی استطاعت کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھے اور وقتاً فوقتاً زمینی حقائق کے مطابق فیس کا جائزہ بھی لیتی رہے۔
مذہبی عمارتوں کو اس نظام سے مستثنیٰ قرار دینا ان کی سماجی اور مذہبی اہمیت کے پیشِ نظر ایک قابلِ فہم فیصلہ ہے، تاہم ہر قسم کی رعایت اور استثنا کو مکمل شفافیت کے ساتھ نافذ کیا جانا بھی ضروری ہے تاکہ کسی قسم کے غلط استعمال کی گنجائش باقی نہ رہے۔
جموں و کشمیر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی بہتر منصوبہ بندی، مؤثر بلدیاتی انتظام اور مضبوط شہری ڈھانچے کی متقاضی ہے۔ تعمیراتی اجازت ناموں کی یکساں فیس اسی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اس کے ساتھ غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام، آن لائن منظوری کے نظام، ضابطوں میں مزید سادگی اور عوام دوست طرزِ حکمرانی پر بھی یکساں توجہ دینا ہوگی۔
اگر حکومت اس اصلاح کو دیانت داری، شفافیت اور انتظامی مستعدی کے ساتھ نافذ کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ اقدام نہ صرف شہریوں کی مشکلات کم کرے گا بلکہ جموں و کشمیر میں جدید، منظم اور منصفانہ شہری ترقی کی مضبوط بنیاد بھی ثابت ہوگا۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون