قرآن: سماجی و معاشی انصاف کا منشور

ڈاکٹر سراج الدین ندوی
قرآن مجید صرف عقائد و عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا الہامی منشور ہے جس نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لئے عدل، رحمت اور فلاح کے اصول عطا کیے۔ اس کا نزول ایسے دور میں ہوا جب دنیا سماجی ناانصافی، طبقاتی امتیاز، عورتوں کی بے توقیری اور معاشی استحصال کی گرفت میں تھی۔ قرآن نے انسانوں کے درمیان مساوات، انسانی وقار، باہمی حقوق اور معاشی انصاف کی بنیاد پر ایک ایسا نظام پیش کیا جس نے معاشرے کی کایا پلٹ دی۔ اس نے کمزور طبقات کو تحفظ دیا، عورت کو اس کا مقام و حقوق عطا کیے، دولت کی منصفانہ تقسیم کا اصول قائم کیا اور استحصالی معاشی رویوں کا خاتمہ کیا۔ یوں قرآن نے انسانیت کو سماجی و معاشی انصاف کا ایسا جامع منشور عطا کیا جس کی افادیت ہر زمانے میں مسلم ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں قرآن مجید کے اسی سماجی اور معاشی انقلاب کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
سماجی انقلاب:
نزول قرآن سے پہلے دنیا سماجی ناہمواری کا شکار تھی ۔انسان اونچ ،نیچ کے خانوں میں تقسیم تھے۔لڑکیوں کو زندہ رہنے کاحق نہ تھا،عورت کو احترام کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا ۔اولاد ماں کے ساتھ مباشرت کرسکتی تھی ،خواتین کا وراثت میںحصہ نہ تھا۔قرآن نے انسانوں کو مساوات کی تعلیم دی ۔نبی ﷺ نے عملاً مساوات کا درس دیا ، رسول نے مساوات کے نظام کو اس طرح قائم کیا کہ اک غلام زادہ امیر لشکر مقرر کردیا گیا ۔قرآن نے اعلان کیا:۔
یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِن ذَکَرٍ وَأُنثَیٰ(الحجرات:13)
’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔‘‘
یہ صرف دعویٰ نہیں تھا ۔بلکہ سارے انسان اپنے جیسے انسانوں کو ایک طرح سے پیدا ہوتے دیکھ رہے تھے ۔پیدا ہونے والا ہر بچہ ایک جیسا تھا۔خواہ امیر ہو یا غریب ہر کسی کے ہاتھ ،پائوں اور آنکھ کان بظاہر یکساں ہی تھے ،پھر پیدائش کی بنیاد پر وہ یکساں کیوں نہیں تھے ؟قرآن مجید نے اس غلط خیال اور کج فکری کی اصلاح کی ۔
اسلام نے عورت کو زندہ رہنے کا حق دیا ۔اور بتایا کہ حشر کے دن زمین میں زندہ دفن کی گئی بچی اپنے والدین اور سماج کے خلاف بولے گی اس لئے کہ اس سے اس کا خالق معلوم کرے گا کہ تجھے کیوں زندہ گاڑدیا گیا تھا۔وَإِذَا الْمَوْئُودَۃُ سُئِلَتْ ، بِأَیِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ (التکویر:8-9)’’اور جب زندہ دفن کی گئی بچی کے متعلق پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا؟‘‘
اسلام نے عورت کونہ صرف زندہ رہنے کا حق دیا بلکہ اس کے حقوق بھی متعین فرمائے ۔واضح الفاظ میں کہا گیا:۔وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِی عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ (البقرہ:228)
’’اور عورتوں کے لئے بھی معروف طریقے سے ویسے ہی حقوق ہیں جیسی ان پر ذمہ داریاں ہیں۔‘‘
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَیٰ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہُ حَیَاۃً طَیِّبَۃً  وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ أَجْرَہُم بِأَحْسَنِ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (النحل:97)’’جو کوئی نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی عطا کریں گے، اور ہم انہیں ان کے بہترین اعمال کے مطابق ضرور بہترین اجر دیں گے۔‘‘
قرآن مجید نے عورت پر لگائے گئے اُس تاریخی داغ کو مٹایا جس کی بنا پر مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں اسے گناہ کی جڑ، فتنہ کا سرچشمہ اور ناپاک تصور کیا جاتا رہا۔ یہ تاثر عام تھا کہ حضرت حواؑ ہی حضرت آدمؑ کو جنت سے نکلوانے کا سبب بنیں، لیکن قرآن نے اس یک طرفہ الزام کی تردید کی اور واضح کیا کہ شیطان نے دونوں کو بہکایا اور دونوں ہی اس معاملے میں آزمائش کا شکار ہوئے۔ قرآن کہتا ہے:
فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْطَانُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَا وُورِیَ عَنْہُمَا مِن سَوْآتِہِمَا (الأعراف:20)
’’پھر شیطان نے دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان پر ان کی شرم گاہیں کھول دے جو ان سے چھپائی گئی تھیں۔‘‘
ایک اور مقام پر فرمایا:فَأَزَلَّہُمَا الشَّیْطَانُ عَنْہَا فَأَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیہِ (البقرۃ:36)
’’پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس حالت میں وہ تھے اس سے انہیں نکلوا دیا۔‘‘
مزید فرمایا:فَوَسْوَسَ إِلَیْہِ الشَّیْطَانُ قَالَ یَا آدَمُ ہَلْ أَدُلُّکَ عَلَیٰ شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّا یَبْلَیٰ ، فَأَکَلَا مِنْہَا (طٰہٰ:120-121)
’’پھر شیطان نے آدم سے کہا: اے آدم! کیا میں تمہیں ہمیشہ رہنے والے درخت اور ایسی بادشاہت کا پتہ دوں جو کبھی ختم نہ ہو؟ پھر دونوں نے اس درخت سے کھالیا۔‘‘
قرآن مجید نے انسانیت کو صرف مساوات کا نعرہ نہیں دیا بلکہ عدل و انصاف پر مبنی ایک ایسا جامع نظام عطا کیا جس میں قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ ماقبلِ قرآن دنیا میں یہ عام روش تھی کہ اگر کوئی طاقت ور، رئیس، سردار یا بااثر شخص جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا، لیکن اگرکسی کمزور، غریب یا بے سہارا فرد سے کوئی خطا سرزد ہوجاتی تو اس پر فوراً قانون نافذ کر دیا جاتا اور سخت سزائیں دی جاتیں۔ قرآن نے اس ظالمانہ تفریق کو ختم کرتے ہوئے اعلان کیا:
إِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ (النحل:90)
’’بے شک اللہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔‘‘
مزید فرمایا:
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُونُوا قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ شُہَدَائَ لِلّٰہِ وَلَوْ عَلَیٰ أَنفُسِکُمْ أَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْأَقْرَبِینَ (النساء:135)
’’اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو، خواہ یہ گواہی خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔‘‘
ایک اور مقام پر فرمایا:
وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَیٰ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَیٰ (المائدہ:8)
’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔‘‘
قرآن نے جھوٹی گواہی، حق چھپانے اور انصاف کے قتل کو سنگین جرم قرار دیا۔ فرمایا:
وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (الحج:30) ’’اور جھوٹی بات سے بچو۔‘‘
اور فرمایا:وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہَادَۃَ  وَمَن یَکْتُمْہَا فَإِنَّہُ آثِمٌ قَلْبُہُ (البقرۃ:283)
’’گواہی کو نہ چھپاؤ، اور جو اسے چھپاتا ہے تو یقینا اس کا دل گناہ گار ہے۔‘‘
اس طرح قرآن نے طاقت، نسب، دولت اور طبقاتی برتری کے بجائے عدل کو معاشرے کی بنیاد بنایا اور انسانیت کو ایک ایسے نظام سے روشناس کرایا جہاں حق صرف طاقت وروں کا نہیں بلکہ ہر انسان کا حق ہے۔
معاشی انقلاب:
ماقبلِ قرآن دنیا میں معاشی نظام ظلم، استحصال اور طبقاتی ناانصافی پر قائم تھا۔ سرمایہ چند ہاتھوں میں مرتکز رہتاتھا، سودی لین دین عام تھا، غریبوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھایا جاتا تھا، ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مصنوعی قلت پیدا کی جاتی تھی، دلالی اور ناجائز منافع خوری کا چلن عام تھا اور کمزور طبقات بنیادی ضروریات سے بھی محروم رہتے تھے۔ قرآن مجید نے اس ظالمانہ معاشی ڈھانچے کو چیلنج کیا اور ایک عادلانہ معاشی نظام پیش کیا۔
 سب سے پہلے سود کو قطعی حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا:
وَأَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (البقرۃ:275)
’’اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘
سودی نظام کے خلاف مزید سخت اعلان فرمایا:
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ (البقرۃ:278-279)
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو، اور اگر ایسا نہیں کرتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ۔‘‘
٭ قرآن نے مال جمع کرکے رکھنے اور معاشرے کے ضرورت مند افراد کے حقوق دبانے والوں کو بھی سخت وعید سنائی:
وَالَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنفِقُونَہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْہُم بِعَذَابٍ أَلِیمٍ (التوبہ:34)
’’اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجیے۔‘‘
٭ قرآن نے مال میں غریبوں اور محروموں کا حق متعین کیا:
وَفِی أَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاریات:19)
’’اور ان کے مالوں میں سوال کرنے والوں اور محروم رہ جانے والوں کا حق تھا۔‘‘
٭ زکوٰۃ کا منظم نظام قائم کیا گیا تاکہ معاشرے میں خوش حالی عام ہو اور لوگوں کے درمیان معاشی توازن برقرار رہے:
خُذْ مِنْ أَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیہِم بِہَا (التوبہ:103)
’’آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لیجیے جس کے ذریعے آپ انہیں پاک کریں اور ان کا تزکیہ کریں۔‘‘
اور دولت کی منصفانہ گردش کے اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا:
کَیْ لَا یَکُونَ دُولَۃً بَیْنَ الْأَغْنِیَائِ مِنکُمْ (الحشر:7)
’’تاکہ دولت صرف تمہارے مالداروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتی رہے۔‘‘
اس طرح قرآن نے سرمایہ دارانہ استحصال، معاشی اجارہ داری اور طبقاتی ظلم کے مقابلے میں ایک ایسامعاشی نظام دیا جس میں دولت چند ہاتھوں کی لونڈی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی امانت بن جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں ’’کمیونیکیشن لاسٹ‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 30 جولائی: سرینگر میں مرزا محمد...

عمر عبداللہ حکومت نے 2016 کی مظلوم انشا ءمشتاق کے خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا

جنگ نیوز ڈیسک سنہ 2016 کے پُرآشوب حالات میں پیلٹ...

جنگلاتی حقوق کے مؤثر نفاذ کا فیصلہ قبائلی برادری کے لئے تاریخی قدم/عمران نبی ڈار

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 30 جولائی: NC کے ریاستی ترجمان...

پیپلز کانفرنس پر مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے نام استعمال کر کے PDP رہنماؤں کو دھمکانے کا الزام

جنگ نیوز سرینگر/ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی...

دہلی حکومت نے طلبہ احتجاج سے متعلقFIRS واپس لے لیں

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی حکومت نے جنتر منتر پر طلبہ...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں ’’کمیونیکیشن لاسٹ‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 30 جولائی: سرینگر میں مرزا محمد...

عمر عبداللہ حکومت نے 2016 کی مظلوم انشا ءمشتاق کے خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا

جنگ نیوز ڈیسک سنہ 2016 کے پُرآشوب حالات میں پیلٹ...

جنگلاتی حقوق کے مؤثر نفاذ کا فیصلہ قبائلی برادری کے لئے تاریخی قدم/عمران نبی ڈار

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 30 جولائی: NC کے ریاستی ترجمان...

پیپلز کانفرنس پر مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے نام استعمال کر کے PDP رہنماؤں کو دھمکانے کا الزام

جنگ نیوز سرینگر/ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی...

دہلی حکومت نے طلبہ احتجاج سے متعلقFIRS واپس لے لیں

جنگ نیوز نئی دہلی/دہلی حکومت نے جنتر منتر پر طلبہ...

قرآن: سماجی و معاشی انصاف کا منشور

ڈاکٹر سراج الدین ندوی
قرآن مجید صرف عقائد و عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ایک ایسا الہامی منشور ہے جس نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لئے عدل، رحمت اور فلاح کے اصول عطا کیے۔ اس کا نزول ایسے دور میں ہوا جب دنیا سماجی ناانصافی، طبقاتی امتیاز، عورتوں کی بے توقیری اور معاشی استحصال کی گرفت میں تھی۔ قرآن نے انسانوں کے درمیان مساوات، انسانی وقار، باہمی حقوق اور معاشی انصاف کی بنیاد پر ایک ایسا نظام پیش کیا جس نے معاشرے کی کایا پلٹ دی۔ اس نے کمزور طبقات کو تحفظ دیا، عورت کو اس کا مقام و حقوق عطا کیے، دولت کی منصفانہ تقسیم کا اصول قائم کیا اور استحصالی معاشی رویوں کا خاتمہ کیا۔ یوں قرآن نے انسانیت کو سماجی و معاشی انصاف کا ایسا جامع منشور عطا کیا جس کی افادیت ہر زمانے میں مسلم ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں قرآن مجید کے اسی سماجی اور معاشی انقلاب کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
سماجی انقلاب:
نزول قرآن سے پہلے دنیا سماجی ناہمواری کا شکار تھی ۔انسان اونچ ،نیچ کے خانوں میں تقسیم تھے۔لڑکیوں کو زندہ رہنے کاحق نہ تھا،عورت کو احترام کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا ۔اولاد ماں کے ساتھ مباشرت کرسکتی تھی ،خواتین کا وراثت میںحصہ نہ تھا۔قرآن نے انسانوں کو مساوات کی تعلیم دی ۔نبی ﷺ نے عملاً مساوات کا درس دیا ، رسول نے مساوات کے نظام کو اس طرح قائم کیا کہ اک غلام زادہ امیر لشکر مقرر کردیا گیا ۔قرآن نے اعلان کیا:۔
یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِن ذَکَرٍ وَأُنثَیٰ(الحجرات:13)
’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔‘‘
یہ صرف دعویٰ نہیں تھا ۔بلکہ سارے انسان اپنے جیسے انسانوں کو ایک طرح سے پیدا ہوتے دیکھ رہے تھے ۔پیدا ہونے والا ہر بچہ ایک جیسا تھا۔خواہ امیر ہو یا غریب ہر کسی کے ہاتھ ،پائوں اور آنکھ کان بظاہر یکساں ہی تھے ،پھر پیدائش کی بنیاد پر وہ یکساں کیوں نہیں تھے ؟قرآن مجید نے اس غلط خیال اور کج فکری کی اصلاح کی ۔
اسلام نے عورت کو زندہ رہنے کا حق دیا ۔اور بتایا کہ حشر کے دن زمین میں زندہ دفن کی گئی بچی اپنے والدین اور سماج کے خلاف بولے گی اس لئے کہ اس سے اس کا خالق معلوم کرے گا کہ تجھے کیوں زندہ گاڑدیا گیا تھا۔وَإِذَا الْمَوْئُودَۃُ سُئِلَتْ ، بِأَیِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ (التکویر:8-9)’’اور جب زندہ دفن کی گئی بچی کے متعلق پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا؟‘‘
اسلام نے عورت کونہ صرف زندہ رہنے کا حق دیا بلکہ اس کے حقوق بھی متعین فرمائے ۔واضح الفاظ میں کہا گیا:۔وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِی عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ (البقرہ:228)
’’اور عورتوں کے لئے بھی معروف طریقے سے ویسے ہی حقوق ہیں جیسی ان پر ذمہ داریاں ہیں۔‘‘
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَیٰ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہُ حَیَاۃً طَیِّبَۃً  وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ أَجْرَہُم بِأَحْسَنِ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ (النحل:97)’’جو کوئی نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی عطا کریں گے، اور ہم انہیں ان کے بہترین اعمال کے مطابق ضرور بہترین اجر دیں گے۔‘‘
قرآن مجید نے عورت پر لگائے گئے اُس تاریخی داغ کو مٹایا جس کی بنا پر مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں اسے گناہ کی جڑ، فتنہ کا سرچشمہ اور ناپاک تصور کیا جاتا رہا۔ یہ تاثر عام تھا کہ حضرت حواؑ ہی حضرت آدمؑ کو جنت سے نکلوانے کا سبب بنیں، لیکن قرآن نے اس یک طرفہ الزام کی تردید کی اور واضح کیا کہ شیطان نے دونوں کو بہکایا اور دونوں ہی اس معاملے میں آزمائش کا شکار ہوئے۔ قرآن کہتا ہے:
فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْطَانُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَا وُورِیَ عَنْہُمَا مِن سَوْآتِہِمَا (الأعراف:20)
’’پھر شیطان نے دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان پر ان کی شرم گاہیں کھول دے جو ان سے چھپائی گئی تھیں۔‘‘
ایک اور مقام پر فرمایا:فَأَزَلَّہُمَا الشَّیْطَانُ عَنْہَا فَأَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیہِ (البقرۃ:36)
’’پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس حالت میں وہ تھے اس سے انہیں نکلوا دیا۔‘‘
مزید فرمایا:فَوَسْوَسَ إِلَیْہِ الشَّیْطَانُ قَالَ یَا آدَمُ ہَلْ أَدُلُّکَ عَلَیٰ شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْکٍ لَّا یَبْلَیٰ ، فَأَکَلَا مِنْہَا (طٰہٰ:120-121)
’’پھر شیطان نے آدم سے کہا: اے آدم! کیا میں تمہیں ہمیشہ رہنے والے درخت اور ایسی بادشاہت کا پتہ دوں جو کبھی ختم نہ ہو؟ پھر دونوں نے اس درخت سے کھالیا۔‘‘
قرآن مجید نے انسانیت کو صرف مساوات کا نعرہ نہیں دیا بلکہ عدل و انصاف پر مبنی ایک ایسا جامع نظام عطا کیا جس میں قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ ماقبلِ قرآن دنیا میں یہ عام روش تھی کہ اگر کوئی طاقت ور، رئیس، سردار یا بااثر شخص جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا، لیکن اگرکسی کمزور، غریب یا بے سہارا فرد سے کوئی خطا سرزد ہوجاتی تو اس پر فوراً قانون نافذ کر دیا جاتا اور سخت سزائیں دی جاتیں۔ قرآن نے اس ظالمانہ تفریق کو ختم کرتے ہوئے اعلان کیا:
إِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ (النحل:90)
’’بے شک اللہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔‘‘
مزید فرمایا:
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُونُوا قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ شُہَدَائَ لِلّٰہِ وَلَوْ عَلَیٰ أَنفُسِکُمْ أَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْأَقْرَبِینَ (النساء:135)
’’اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو، خواہ یہ گواہی خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔‘‘
ایک اور مقام پر فرمایا:
وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَیٰ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَیٰ (المائدہ:8)
’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔‘‘
قرآن نے جھوٹی گواہی، حق چھپانے اور انصاف کے قتل کو سنگین جرم قرار دیا۔ فرمایا:
وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (الحج:30) ’’اور جھوٹی بات سے بچو۔‘‘
اور فرمایا:وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہَادَۃَ  وَمَن یَکْتُمْہَا فَإِنَّہُ آثِمٌ قَلْبُہُ (البقرۃ:283)
’’گواہی کو نہ چھپاؤ، اور جو اسے چھپاتا ہے تو یقینا اس کا دل گناہ گار ہے۔‘‘
اس طرح قرآن نے طاقت، نسب، دولت اور طبقاتی برتری کے بجائے عدل کو معاشرے کی بنیاد بنایا اور انسانیت کو ایک ایسے نظام سے روشناس کرایا جہاں حق صرف طاقت وروں کا نہیں بلکہ ہر انسان کا حق ہے۔
معاشی انقلاب:
ماقبلِ قرآن دنیا میں معاشی نظام ظلم، استحصال اور طبقاتی ناانصافی پر قائم تھا۔ سرمایہ چند ہاتھوں میں مرتکز رہتاتھا، سودی لین دین عام تھا، غریبوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھایا جاتا تھا، ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مصنوعی قلت پیدا کی جاتی تھی، دلالی اور ناجائز منافع خوری کا چلن عام تھا اور کمزور طبقات بنیادی ضروریات سے بھی محروم رہتے تھے۔ قرآن مجید نے اس ظالمانہ معاشی ڈھانچے کو چیلنج کیا اور ایک عادلانہ معاشی نظام پیش کیا۔
 سب سے پہلے سود کو قطعی حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا:
وَأَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (البقرۃ:275)
’’اور اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘
سودی نظام کے خلاف مزید سخت اعلان فرمایا:
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ (البقرۃ:278-279)
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو، اور اگر ایسا نہیں کرتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ۔‘‘
٭ قرآن نے مال جمع کرکے رکھنے اور معاشرے کے ضرورت مند افراد کے حقوق دبانے والوں کو بھی سخت وعید سنائی:
وَالَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنفِقُونَہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْہُم بِعَذَابٍ أَلِیمٍ (التوبہ:34)
’’اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجیے۔‘‘
٭ قرآن نے مال میں غریبوں اور محروموں کا حق متعین کیا:
وَفِی أَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاریات:19)
’’اور ان کے مالوں میں سوال کرنے والوں اور محروم رہ جانے والوں کا حق تھا۔‘‘
٭ زکوٰۃ کا منظم نظام قائم کیا گیا تاکہ معاشرے میں خوش حالی عام ہو اور لوگوں کے درمیان معاشی توازن برقرار رہے:
خُذْ مِنْ أَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیہِم بِہَا (التوبہ:103)
’’آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لیجیے جس کے ذریعے آپ انہیں پاک کریں اور ان کا تزکیہ کریں۔‘‘
اور دولت کی منصفانہ گردش کے اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا:
کَیْ لَا یَکُونَ دُولَۃً بَیْنَ الْأَغْنِیَائِ مِنکُمْ (الحشر:7)
’’تاکہ دولت صرف تمہارے مالداروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتی رہے۔‘‘
اس طرح قرآن نے سرمایہ دارانہ استحصال، معاشی اجارہ داری اور طبقاتی ظلم کے مقابلے میں ایک ایسامعاشی نظام دیا جس میں دولت چند ہاتھوں کی لونڈی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی امانت بن جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں