
رشید پروین
تاریخ گواہ ہے کہ کبھی کبھی بہت ہی شاندار، جاندار، مضبوط اور مستحکم تہذیبیں اور ممالک آناً فاناً معمولی وجوہات یا زلزلوں کے جھٹکوں سے ایسے بھی زمین بوس ہو چکے ہیں کہ صرف آنے والے زمانوں کے لئے عبرت کا نشان ہی بن کر رہ گئے، یا یوں کہیے کہ ایک حقیر سی اور معمولی چنگاری نے شاہی محلات کو راکھ کے ڈھیروں میں تبدیل کر دیا ہے۔ انسانی عقل ان کے مٹنے اور بالکل مختصر سی مدت میں ان کے زمین بوس ہونے کی وجوہات پر اب تک حیران و پریشان ہے، لیکن یہ ’’وقت‘‘ ہے، ’’زمانہ‘‘ ہے، جو اپنی تسبیحِ روز و شب کا احتساب کرتا رہتا ہے۔ بہرحال، اللہ ہی کے منصوبے بہتر اور کارگر ہوتے ہیں۔
اب تک کاکروچ جنتا پارٹی کی کامیابی پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، اس لئے بس مختصر یہ کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا آغاز ۱۵ مئی ۲۰۲۶ء کو اس ایک لمحے میں ہوا، جب جج سوریا کانت نے ایک طنزیہ ریمارک میں بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ اور پیراسائٹس (پرجیوی) سے تشبیہ دی۔ ۱۶ مئی کو اس طنز اور تضحیک کے ردِعمل میں ابھجیت دیپکے نے اس طنز کو اپنے گلے کا ہار بنا کر نوجوانوں اور بے روزگاروں کو سوشل میڈیا پر مجتمع ہونے کی پریرنا دی۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ محض کئی دنوں میں اس پارٹی کے اراکین کی تعداد کروڑوں میں پہنچ گئی۔ اس کی یہ تیز رفتاری دراصل حالیہ پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف ایک آندھی اور طوفان تھا، جس نے اپنے سامنے آنے والی ہر چیز اور ہر رکاوٹ کو اپنے ساتھ بہا کر لے لیا۔ چونکہ امتحانی بے ضابطگیاں اور پیپر لیک اس سے پہلے بھی ہوتے رہے تھے اور گزشتہ برسوں سے مقابلے کے امتحانات میں مسلسل بحران پیدا ہوتا رہا، جس کی وجہ سے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل نہ صرف تاریک ہوتا گیا بلکہ ان کی ذہنی کیفیت بھی متاثر ہوتی رہی، جس کے ردِعمل میں اس بار کئی نوجوانوں نے اپنی زندگیوں کا خاتمہ ہی کر لیا۔ یہ ایک اچھے، ترقی پذیر یا ترقی یافتہ معاشرے کی دلیل نہیں بنتی، جس کا ڈھول چوبیس گھنٹے بجایا جا رہا ہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ نیٹ (NEET) سے پہلے ہر ریاست اپنا ایک داخلہ امتحان منعقد کرتی تھی، جس سے لاکھوں طلبہ اس شدید دباؤ اور ذہنی تناؤ سے مبرا رہتے تھے۔ لیکن موجودہ حکومت کی ہر معاملے میں ایک مخصوص پالیسی ہے کہ تمام ادارے، شعبہ جات اور ان کے جسم و جان پر سرکار کی گرفت نہ صرف مضبوط ہو بلکہ ان کے در و دیوار بھی ایک ہی رنگ میں رنگے نظر آئیں۔ ظاہر ہے کہ یہ پالیسی ہر لحاظ سے معاشرے اور وطن کے لئے سمِ قاتل ہی ثابت ہوگی۔ (پی ایس سی اور این ٹی اے) جیسے اداروں کی سرپرستی بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
حضرت علیؓ کا قول ہے کہ: ’’کفر کے معاشرے چل سکتے ہیں، لیکن ظلم و جبر کے معاشرے نہیں چل سکتے۔‘‘ ایسا لگتا تھا کہ موجودہ سرکار، جس طرح ہر مسئلے کو نظر انداز کرکے اپنے اور اپنے حواریوں کے مفادات کی رکھوالی میں کامیاب رہی ہے، اس بات کا ان کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں رہا ہوگا کہ صرف چند ہی دنوں میں ان کے مضبوط در و دیوار ہل جائیں گے۔ کیونکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سرکار بڑی مستحکم اور مضبوط ہے۔ اسی سوچ و فکر نے سرکار کو بہت سارے عوامی مسائل سے نہ صرف غافل کر رکھا ہے بلکہ کئی ایسے کلچر بھی جنم لے چکے ہیں، جو ظلم و جبر کے معاشروں کی زینت اور حسن بنتے ہیں۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس تحریک نے سارے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور طلبہ کے والدین اور مثبت سوچ کے حامل لوگ بڑی تیز رفتاری سے اس تحریک کے ساتھ جڑ گئے، جنہوں نے جنتر منتر کو اپنا احتجاجی مسکن بنا کر اپنے عزائم کا اظہار کیا۔ اس دوران اپنے وہی پرانے اور آزمائے ہوئے فرسودہ طریقۂ کار، یعنی طاقت کے استعمال، کو بروئے کار لایا گیا۔ ڈنڈے، لاٹھی چارج، آنسو گیس اور باخبر ذرائع کے مطابق پیلٹ گنوں کا استعمال بھی کیا گیا، لیکن نوجوان، موت و حیات سے بے نیاز، جب ڈٹ جاتے ہیں تو ہمالیائی عزم کے ساتھ ڈٹ جاتے ہیں۔
جس رفتار سے یہ تحریک ملک کے کونے کونے میں سرایت کر گئی، اس نے دیر سے ہی سہی، موجودہ سرکار کو گھٹنوں کے بل گرا کر ہی دم لیا۔ اور یہ بڑی اچھی بات ہے کہ اربابِ اقتدار اور امیت شاہ نے عقل کے ناخن لیتے ہوئے طلبہ کے تمام مطالبات مان لئے۔ کچھ تاخیر سے ہی سہی، لیکن ملک بھر کے طلبہ کے موڈ کا اندازہ کرکے ان کے سارے مطالبات تسلیم کیے گئے۔
ان مطالبات میں وزیرِ تعلیم دھرمیندر کا استعفیٰ، زخمی طلبہ کے معاوضے، احتجاجیوں پر درج تمام ایف آئی آرز کی واپسی، اور اس سلسلے میں گرفتار طلبہ کی رہائی کا مطالبہ شامل تھا۔ یہ ایک تاریخ رقم ہو چکی ہے، اور اس سے یہ نتائج بھی اخذ ہوتے ہیں کہ کوئی بھی سرکار کسی بھی صورت اور حالت میں ناقابلِ شکست نہیں ہوتی، اور اپنے ظلم و جبر، ڈنڈوں اور گولیوں کے خوف میں اپنی رعایا کو بہت زیادہ دیر تک مبتلا نہیں رکھ سکتی۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلبہ کے حق میں ۲۱ جولائی کو وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہر کانگریس کے دھرنے کی قیادت کی اور طلبہ پر تشدد اور پیلٹ گنوں کے استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ درجنوں طلبہ پیلٹ سے زخمی ہوئے ہیں، جو ایک مناسب اور انصاف پسندانہ مطالبہ ہے۔
ہماری پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے بھی اس طلبہ تحریک کی نہ صرف حمایت کی بلکہ ایک اچھی مثال قائم کرتے ہوئے خود جنتر منتر پہنچ کر اس تحریک میں شامل ہوئیں۔ بظاہر ان کی یہ شمولیت سراہی جا سکتی ہے۔ ہمیں ان کی سیاسی پینترے بازی سے کوئی لینا دینا نہیں، لیکن اس سے عام کشمیری لوگوں اور طلبہ کے زخم نئے سرے سے ہرے ہو گئے اور یقینی طور پر ان زخموں سے عوام کراہ اٹھے۔
محبوبہ جی نے ۲۰ جولائی کو دہلی پولیس اور ریپڈ فورس کی جانب سے جنتر منتر پر کیے گئے تشدد کی مذمت کی، اسے ظلم اور بربریت قرار دیا اور اس بربریت کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس اظہارِ ہمدردی نے ہمیں پھر ایک بار ماضیِ قریب، یعنی ۲۰۱۶ء کے ان خونیں واقعات کے کرب میں مبتلا کیا، جب برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پوری وادی احتجاج میں ڈوب گئی تھی اور مظاہرین پر پیلٹ گنوں کا بے دریغ استعمال کیا گیا تھا، جن میں ہزاروں نوجوان زخمی ہوئے، درجنوں اپنی آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوئے اور ہلاکتوں کی تعداد سو سے تجاوز کر گئی تھی۔
محبوبہ جی اس وقت اقتدار میں تھیں، اس لئے ان طلبہ اور نوجوانوں پر ہونے والی بربریت اور ظلم و ستم کوئی قابلِ مذمت بات نہیں تھی، کیونکہ وہ خود اقتدار کی کرسی پر براجمان تھیں۔ عجیب طرح کے پیمانے ہیں کہ ایک جیسی بربریت اور ہلاکتوں پر آپ کے دو مختلف نقطۂ نگاہ کیسے ہو سکتے ہیں؟
دہلی میں ہماری طرح کے سینکڑوں خونیں واقعات کا عشرِ عشیر بھی نہیں ہو سکتا، اور ہونا بھی نہیں چاہیے، لیکن آپ اسی دھرتی کے باشندوں کو جانوروں کی مانند ذبح کرتے رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ہمارے اب کے معصوم سے، سادہ سے، صورت والے عمر عبداللہ کا کارنامہ بھی اس سے کچھ کم نہیں۔ وہ اگرچہ دہلی نہیں پہنچ سکے، لیکن ان کے الفاظ بھی لگ بھگ وہی تھے جو دہلی دربار تک پہنچے ہوں گے کہ ہم اس بربریت اور تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور طلبہ کی حمایت کرتے ہیں۔
کشمیری سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں اقتدار میں آ کر سارے اصول اور انصاف کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔ عمر عبداللہ کے دور میں شوپیان، نند بھابھی ریپ اور قتل کا واقعہ پیش آیا، پھر ۱۱ جون کو ایک نو عمر طالبِ علم، طفیل احمد متو، کے سر کو سیکورٹی فورسز نے ٹیر گیس شیل کا نشانہ بنایا۔ اس بربریت کے خلاف رگڑو تحریک کی شروعات ہوئی، جو کئی مہینوں پر محیط رہی۔ اس تحریک کے علمبردار بھی کالجوں اور اسکولوں کے نو عمر بچے تھے۔
پیلٹ گنوں کے استعمال سے اس تحریک میں بھی سو سے زیادہ طلبہ اور عام شہری ہلاک ہوئے، اور ایک رپورٹ کے مطابق پندرہ سو (۱۵۰۰) سے زیادہ طلبہ نہ صرف زخمی ہوئے بلکہ ان میں ایک بہت بڑی تعداد آنکھوں کی بینائی سے بھی محروم ہوئی، لیکن عمر عبداللہ نے نہ اس وقت اور نہ اس کے بعد، آج تک، اس بربریت کے بارے میں ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نہیں نکالا۔
یہ لوگ کہاں اور کیسے اپنے گھروں کو اندھیروں میں دھکیل کر کہیں اور گھی کے چراغ جلانے جاتے ہیں، اور اپنے لوگوں پر ڈھائے گئے ظلم و ستم کو نہ کبھی یاد کرتے ہیں اور نہ کبھی ان پر اظہارِ افسوس کرتے ہیں، کیونکہ یہاں انہیں صرف اقتدار کی فکر رہتی ہے، جو صرف اور صرف آقا کے سامنے سر بسجود رہنے سے حاصل ہو سکتا ہے۔
اقتدار کی ہوس اور اقتدار پر براجمان رہنے کی خاطر یہ ہر ظلم و ستم اور ہر بربریت نہ صرف ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے ہیں بلکہ اس کے لئے نئی نئی تاویلیں تراشتے رہتے ہیں، اور دوسروں کے مظالم بھی خوشی خوشی اپنے سر لے لیتے ہیں اور اپنے کھاتوں میں درج کرکے آقا کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔
پُرامن احتجاج کو دہلی پہنچ کر جمہوریت کی آن، بان اور شان کہتے ہیں اور اس طرح کشمیری طلبہ اور عوام کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں۔
بہرحال، کشمیر نے اس طرح کے سینکڑوں واقعات دیکھے اور سہے ہیں، جو اس دور کی تاریخ میں بہرحال رقم ہیں۔ اس خاموشی اور مجرمانہ سوچ کا نتیجہ اس کے سوا کیا ہو سکتا تھا کہ تم لوگوں کے سروں پر، لے دے کر، پُروقار اور احترام والی دستار کے بدلے اب مسخروں اور بھانڈوں کی دستاریں بندھی ہوئی ملتی ہیں۔
جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ اب یہی لوگ مسخروں کی طرح دہلی پہنچ کر اس ریاست کے لئے اسٹیٹ ہڈ چاہتے ہیں، جو ماضیِ قریب میں ایک مہاراجائی اور خود مختار ریاست تھی، جسے ان لوگوں نے خود گنوایا۔ اور اگر اب اسٹیٹ ہڈ مل بھی جائے تو کیا؟ کیا تم لوگ اب (پری ترپن) کا تصور کر سکتے ہو؟ کیا تمہاری حیثیت بھارت کے کسی دوسرے چیف منسٹر کے برابر ہو سکتی ہے؟
یہاں کے چیف منسٹروں کے ہاتھوں میں تو پہلے ہی سے آئین کی زنجیریں ڈال دی گئی ہیں۔ تم لوگ تو دوسرے چیف منسٹروں کی دستاروں کی بلندی کو سر اٹھا کر بھی نہیں دیکھ پاتے، اور یہ سب تمہاری اسی خاموشی اور اقتدار کی ہوس کا نتیجہ ہے، جس کے لئے تم نے نہ کبھی خود زبان کھولی اور نہ کسی دوسرے شخص کو زبان کھولنے کی اجازت دی۔
نہ خود احتجاج کیا، نہ اقتدار کی کرسی سے ایک لمحے کے لئے جدا ہونے کا تصور کیا۔ اب نہ وہ زمانے ہیں اور نہ وقت کا مزاج تمہارے موافق ہے۔ دہلی اور بھارت کے دوسرے حصوں کا احتجاج ایک اور بات ہے، اور تم لوگوں کی وجہ سے یہاں کا پُرامن احتجاج ممنوع، دہشت گردی اور پیلٹ گنوں کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
اس وقت جو ہے، اس پر صبر کرو، کیونکہ اقتدار کے لئے تم ’’صبر کرنا جانتے ہو‘‘۔
افسوس کہ تم کبھی اپنے ماضی کو کھنگالتے نہیں، جس کے آئینے میں کبھی تم اپنے اصل چہروں کو دیکھ لیتے!


