جنگ نیوز ڈیسک
میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے کادی کدل سرینگر میں مسجد خلفائے راشدین کی توسیع و تعمیرِ نو کا سنگِ بنیاد رکھا اور اس موقع پر مقامی آبادی کو اس اہم اقدام پر مبارکباد پیش کی۔
وہا ں موجوداجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ مسجد محض عبادت کی جگہ نہیں بلکہ اسے مقامی لوگوں کے روزمرہ مسائل، چاہے وہ سماجی، معاشی یا دینی نوعیت کے ہوں، پر باہمی گفت و شنید اور مشاورت کا مرکز بھی ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر افراد کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات اور تنازعات کو بھی مساجد میں بات چیت، افہام و تفہیم اور فریقین کے باہمی تحفظات کے ازالے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش ہونی چاہئے، بجائے اس کے کہ فوراً عدالتوں سے رخ کیا جائے جہاں وقت اور پیسہ دونوں صرف ہوتے ہیں۔
تاریخی جامع مسجد سرینگر کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ اس کا منبر صدیوں سے عوام کے مسائل اور حالات سے جڑا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے معاشرے میں ہفتے بھر کے دوران جو کچھ بھی پیش آتا ہے، خواہ وہ دینی، سماجی یا سیاسی نوعیت کا ہو، اس پر گفتگو ہونی چاہئے اور اسے زیرِ بحث لا کر اس کا حل تلاش کیا جانا چاہئے۔ مساجد اپنے لوگوں کو درپیش حالات اور مسائل سے لاتعلق نہیں رہ سکتیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کا جامع مسجد اور ادارۂ میرواعظ کے ساتھ ایک گہرا اور تاریخی رشتہ رہا ہے۔ ’’بحیثیت میرواعظ، عوام کے مسائل ، تحفظات اور خدشات جامع مسجد کے منبر سے بدستور اٹھائے جاتے رہیں گے۔‘‘
میرواعظ نے ملک کے مختلف حصوں میں دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے مختلف حیلوں بہانوں کے تحت مساجد کو تنازعات، دعوؤں اور قانونی چارہ جوئی میں الجھائے جانے کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کا احترام اور تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہئے۔ اس طرح کے اقدامات مختلف برادریوں میں عدم تحفظ اور خدشات پیدا کرتے ہیں، جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کیلئے نقصان دہ ہیں۔


