جنگ نیوز
نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان اور رکنِ اسمبلی زڈی بل تنویر صادق نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی سے جموں و کشمیر میں پولیس کارروائی سے متعلق اپنے بیان پر عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ریمارکس پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کو جائز قرار دیتے ہیں۔
تنویر صادق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے محبوبہ مفتی کو جنتر منتر احتجاج میں شرکت کی دعوت دی تھی، تاہم انہوں نے اس میں شرکت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد میں محبوبہ مفتی کا یہ کہنا کہ جموں و کشمیر میں پولیس کارروائی معمول کی بات ہے جبکہ دہلی میں ایسی کارروائی ناقابل قبول ہے، انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا جموں و کشمیر میں اپنے حقوق، ریزرویشن، بے روزگاری یا عوامی مسائل پر احتجاج کرنے والا ہر شخص عسکریت پسند قرار دیا جائے گا؟ ایسا بیان عوام کے جمہوری حقوق کو کمزور کرنے اور طاقت کے استعمال کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام بھی ملک کے دیگر شہریوں کی طرح مساوی عزت، جمہوری آزادیوں اور آئینی حقوق کے مستحق ہیں، اس لئے محبوبہ مفتی کو اپنے بیان پر معذرت کرنی چاہیے۔
انہوں نے نیشنل کانفرنس کے جنتر منتر احتجاج کو جموں و کشمیر کے حقوق کی بحالی کے لئے ایک تاریخی تحریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ شاید ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی برسراقتدار سیاسی جماعت نے اپنے موجودہ وزیرِ اعلیٰ کی قیادت میں قومی دارالحکومت میں احتجاج کیا۔
تنویر صادق نے کہا کہ اگرچہ احتجاج کی اجازت آخری وقت تک نہیں ملی، اس کے باوجود پارٹی قیادت، کارکن اور حامی جنتر منتر پہنچے، پرامن احتجاج ریکارڈ کرایا اور عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی رہنما اس تاریخی احتجاج میں شریک ہونے کے بجائے صرف سوشل میڈیا تک محدود رہے۔
انسانی حقوق پر دوہرا معیار ناقابلِ قبول
جنگ نیوز
عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان انعام النبی نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق پر بات کرنے سے پہلے اپنے دورِ حکومت میں کشمیری نوجوانوں کے ساتھ پیش آئے واقعات پر عوام سے معافی مانگیں۔
انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کا دہلی اور کشمیر میں طاقت کے استعمال کے حوالے سے الگ الگ معیار اختیار کرنا سیاسی منافقت ہے۔ ان کے مطابق کشمیر کے عوام بھی ملک کے دیگر شہریوں کی طرح مساوی انصاف اور انسانی حقوق کے مستحق ہیں۔
انعام النبی نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو پہلے اپنے دورِ حکومت کے اقدامات پر جوابدہی کرتے ہوئے غیر مشروط معافی مانگنی چاہیے، کیونکہ کشمیری نوجوان ماضی کو فراموش نہیں کر سکتے۔


