نشہ مخالف مہم اب ہماری ذمہ داری!

نشہ مُکت جموں و کشمیر مہم کے سو روز مکمل ہو چکے ہیں۔ گرفتاریاں، منشیات کی ضبطی اور بحالی کے اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسی مہمات صرف سرکاری اعلانات سے کامیاب نہیں ہوتیں۔ اگر مہم کا جذبہ عوام کے دلوں میں زندہ نہ رہے تو کاغذوں پر درج کامیابیاں وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہیں۔
منشیات کا خاتمہ صرف حکومت یا پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر والدین، استاد، عالمِ دین، سماجی کارکن اور نوجوان کا بھی فرض ہے۔ ہر شہری کو اپنے اردگرد نظر رکھنی ہوگی، مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دینی ہوگی اور نشے میں مبتلا افراد کو نفرت نہیں بلکہ علاج اور بحالی کی طرف لے جانا ہوگا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں، مساجد، امام بارگاہوں، سماجی تنظیموں اور میڈیا کو اس مہم کا مستقل حصہ بنایا جائے۔ نوجوانوں کو کھیل، تعلیم، ہنر مندی اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ہی منشیات کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ شعور بیدار ہوگا تو نئی نسل خود اس لعنت سے دور رہے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ ہر محلے اور ہر گاؤں میں عوامی نگرانی کا ایسا ماحول قائم ہونا چاہیے جہاں منشیات فروشوں کے لئے کوئی جگہ نہ ہو۔ جب معاشرہ خود بیدار ہو جائے تو جرائم پیشہ عناصر کے لئے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل ناممکن ہو جاتی ہے۔ خاموشی جرائم کو طاقت دیتی ہے، جبکہ اجتماعی بیداری انہیں کمزور کر دیتی ہے۔
منشیات فروش معاشرے کے دشمن ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے، لیکن نشے کے شکار نوجوانوں کو نئی زندگی دینے کے لئے پورے معاشرے کو ان کا سہارا بننا ہوگا۔
سو روزہ مہم اپنے اختتام کو پہنچ گئی، مگر نشہ سے پاک جموں و کشمیر کا خواب تبھی شرمندۂ تعبیر ہوگا جب ہر شہری اس مہم کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھ کر اس کی روح کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ یہی اس مہم کی حقیقی کامیابی ہوگی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

نشہ مخالف مہم اب ہماری ذمہ داری!

نشہ مُکت جموں و کشمیر مہم کے سو روز مکمل ہو چکے ہیں۔ گرفتاریاں، منشیات کی ضبطی اور بحالی کے اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسی مہمات صرف سرکاری اعلانات سے کامیاب نہیں ہوتیں۔ اگر مہم کا جذبہ عوام کے دلوں میں زندہ نہ رہے تو کاغذوں پر درج کامیابیاں وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہیں۔
منشیات کا خاتمہ صرف حکومت یا پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر والدین، استاد، عالمِ دین، سماجی کارکن اور نوجوان کا بھی فرض ہے۔ ہر شہری کو اپنے اردگرد نظر رکھنی ہوگی، مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع دینی ہوگی اور نشے میں مبتلا افراد کو نفرت نہیں بلکہ علاج اور بحالی کی طرف لے جانا ہوگا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں، مساجد، امام بارگاہوں، سماجی تنظیموں اور میڈیا کو اس مہم کا مستقل حصہ بنایا جائے۔ نوجوانوں کو کھیل، تعلیم، ہنر مندی اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ہی منشیات کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ شعور بیدار ہوگا تو نئی نسل خود اس لعنت سے دور رہے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ ہر محلے اور ہر گاؤں میں عوامی نگرانی کا ایسا ماحول قائم ہونا چاہیے جہاں منشیات فروشوں کے لئے کوئی جگہ نہ ہو۔ جب معاشرہ خود بیدار ہو جائے تو جرائم پیشہ عناصر کے لئے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل ناممکن ہو جاتی ہے۔ خاموشی جرائم کو طاقت دیتی ہے، جبکہ اجتماعی بیداری انہیں کمزور کر دیتی ہے۔
منشیات فروش معاشرے کے دشمن ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے، لیکن نشے کے شکار نوجوانوں کو نئی زندگی دینے کے لئے پورے معاشرے کو ان کا سہارا بننا ہوگا۔
سو روزہ مہم اپنے اختتام کو پہنچ گئی، مگر نشہ سے پاک جموں و کشمیر کا خواب تبھی شرمندۂ تعبیر ہوگا جب ہر شہری اس مہم کو اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھ کر اس کی روح کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ یہی اس مہم کی حقیقی کامیابی ہوگی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں