غزل

جاوید قسیم

مری زندگی پر ملالی رہی
مقدر میں بس پایمالی رہی
کوئی ہے جو گھر کو چلاتا رہا
ہمیشہ مری جیب خالی رہی
وہی اس حویلی کو کھودا کیے
کہ جن ہاتھوں میں دیکھ بھالی رہی

مری آنکھوں سے اشک بہتے رہے
سنہری وہ ہاتھوں میں جالی رہی
عطا جب ہوے موسمی گل اسے
مہکتی بدن کی وہ ڈالی رہی
بدن تھک کے ساکت ہوا ہے مرا
مگر پھر بھی روح انتقالی رہی
ہزاروں جلاے دیے رات دن
دن اجلا مگر رات کالی رہی
وہ بادل برس کر گزر بھی گیے
زمیں پر مگر قحط سالی رہی
یہ بنجر زمیں تھی غزل کہہ تو لی

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

غزل

جاوید قسیم

مری زندگی پر ملالی رہی
مقدر میں بس پایمالی رہی
کوئی ہے جو گھر کو چلاتا رہا
ہمیشہ مری جیب خالی رہی
وہی اس حویلی کو کھودا کیے
کہ جن ہاتھوں میں دیکھ بھالی رہی

مری آنکھوں سے اشک بہتے رہے
سنہری وہ ہاتھوں میں جالی رہی
عطا جب ہوے موسمی گل اسے
مہکتی بدن کی وہ ڈالی رہی
بدن تھک کے ساکت ہوا ہے مرا
مگر پھر بھی روح انتقالی رہی
ہزاروں جلاے دیے رات دن
دن اجلا مگر رات کالی رہی
وہ بادل برس کر گزر بھی گیے
زمیں پر مگر قحط سالی رہی
یہ بنجر زمیں تھی غزل کہہ تو لی

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں