
جاوید قسیم
مری زندگی پر ملالی رہی
مقدر میں بس پایمالی رہی
کوئی ہے جو گھر کو چلاتا رہا
ہمیشہ مری جیب خالی رہی
وہی اس حویلی کو کھودا کیے
کہ جن ہاتھوں میں دیکھ بھالی رہی
مری آنکھوں سے اشک بہتے رہے
سنہری وہ ہاتھوں میں جالی رہی
عطا جب ہوے موسمی گل اسے
مہکتی بدن کی وہ ڈالی رہی
بدن تھک کے ساکت ہوا ہے مرا
مگر پھر بھی روح انتقالی رہی
ہزاروں جلاے دیے رات دن
دن اجلا مگر رات کالی رہی
وہ بادل برس کر گزر بھی گیے
زمیں پر مگر قحط سالی رہی
یہ بنجر زمیں تھی غزل کہہ تو لی


