کپاس صرف ایک زرعی فصل نہیں بلکہ ہندوستان کی معیشت، ٹیکسٹائل صنعت اور کروڑوں افراد کے روزگار کی بنیاد ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ رقبے پر کپاس کی کاشت کرنے والا ملک ہونے کے باوجود بھارت کے لئے اصل چیلنج پیداوار، معیار اور عالمی منڈی میں مسابقت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ حکومت نے کم از کم امدادی قیمت (MSP)، مشن فار کاٹن پروڈکٹیویٹی، ڈیجیٹل خریداری اور "کستوری کاٹن بھارت” جیسے اقدامات کے ذریعے اس شعبے کو نئی سمت دینے کی کوشش کی ہے۔
کپاس کا شعبہ تقریباً ساٹھ لاکھ کسانوں اور کروڑوں مزدوروں کی روزی روٹی سے وابستہ ہے۔ اگر جدید بیج، بہتر آبپاشی، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی طریقوں اور ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے تو نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی ٹیکسٹائل صنعت بھی عالمی سطح پر مزید مضبوط ہوگی۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ہندوستان کی برآمدات میں کپاس اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کا نمایاں حصہ ہے۔ عالمی منڈی میں معیار، ٹریس ایبلٹی اور برانڈنگ کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں "کستوری کاٹن بھارت” جیسے اقدامات نہ صرف ہندوستانی کپاس کو بین الاقوامی شناخت فراہم کریں گے بلکہ برآمدات میں اضافہ، زرمبادلہ کے حصول اور مقامی صنعتوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، کیڑوں کے حملے اور پیداواری لاگت میں اضافہ کپاس کے کاشتکاروں کے لئے نئے چیلنج بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ تحقیق، زرعی توسیعی خدمات، معیاری بیجوں کی فراہمی اور جدید زرعی مشینری تک کسانوں کی آسان رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ پائیدار کاشتکاری ہی اس شعبے کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔اسی طرح کپاس کی ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر خام کپاس برآمد کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ تیار ملبوسات، ٹیکسٹائل مصنوعات اور طبی استعمال کی اشیا ملک میں تیار کی جائیں تو روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، دیہی معیشت مستحکم ہوگی اور ہندوستان عالمی ٹیکسٹائل صنعت میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکے گا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ کپاس کو صرف ایک فصل نہیں بلکہ قومی اقتصادی طاقت کا اہم ستون سمجھا جائے۔ کسانوں کو منافع بخش قیمت، جدید سہولیات اور عالمی معیار کی پیداوار کے مواقع فراہم کرنا ہی "آتم نربھر بھارت” کے خواب کو حقیقت میں بدل سکتا ہے۔ جب کھیت سے کارخانے تک ہر کڑی مضبوط ہوگی تو ہندوستان کا "سفید سونا” نہ صرف ملکی خوشحالی بلکہ عالمی منڈی میں بھی اپنی منفرد شناخت مزید مستحکم کرے گا۔


