ام ماریہ حق: ایک تعارف، ایک تاثر

 انور آفاقی
عہدِ حاضر میں اردو ادب کی دنیا صرف مرد قلم کاروں کی فکر و فن سے ہی منور نہیں، بلکہ خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں، فکری بالیدگی اور علمی کاوشوں سے بھی یکساں طور پر روشن ہے۔ ہمارے زمانے کی خواتین نے ادب، تحقیق، تنقید اور تخلیق کے مختلف میدانوں میں اپنی مضبوط اور باوقار موجودگی درج کرائی ہے۔ ایسی ہی سنجیدہ، حساس اور فعال قلم کاروں میں محترمہ ام ماریہ حق کا نام بھی احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے، جنہوں نے اپنی نثر اور شاعری کے ذریعے اہلِ ذوق کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔
شبینہ بنت رفیع اللہ، جو ادبی دنیا میں ام ماریہ حق کے قلمی نام سے معروف ہیں، یکم جولائی 1979ء کو فیروز آباد میں پیدا ہوئیں، جب کہ ان کا آبائی تعلق دہلی سے ہے۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے بی۔اے کی تعلیم مکمل کی۔ ازدواجی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد بھی ان کا علمی سفر رکا نہیں۔ ان کے شوہر جناب صلاح الدین حق نے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کی بلکہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہر ممکن تعاون بھی فراہم کیا۔ چنانچہ انہوں نے 2015ء میں بیچلر آف ڈیزائن (B.Des) کی ڈگری حاصل کی اور پیشہ ورانہ طور پر انٹیریئر ڈیزائننگ سے وابستہ ہوئیں۔
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ ان کے شریکِ حیات خود شعر و ادب سے گہری دل چسپی رکھتے ہیں اور ادبی حلقوں میں ابو صارم صارم کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ دونوں میاں بیوی نے اپنے قلمی نام اپنی اولاد کی کنیت سے اخذ کیے، جو ان کی خاندانی وابستگی اور جذباتی تعلق کی ایک خوب صورت علامت ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران اخبارات، رسائل اور سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ام ماریہ حق کی تخلیقات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس گہرا ہوتا گیا ہے کہ ان کی تحریروں کے پس منظر میں وسیع مطالعہ، فکری سنجیدگی اور اظہار کی دیانت کارفرما ہے۔ وہ جس شخصیت، کتاب یا ادبی موضوع پر قلم اٹھاتی ہیں، اس سے پہلے اس کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیتی ہیں، پھر خلوص اور اعتماد کے ساتھ اپنے تاثرات کو تحریر کی صورت عطا کرتی ہیں۔ ان کے یہاں اظہار کی بے ساختگی کے ساتھ ساتھ مطالعے کی پختگی بھی دکھائی دیتی ہے، جس کے باعث ان کی تحریریں محض تاثراتی نہیں رہتیں بلکہ ان میں تنقیدی شعور کی جھلک بھی نمایاں ہوتی ہے۔
مختلف شعرا و ادبا کی کتابوں پر ان کے تحریر کردہ مضامین اور تبصرے ان کے تنقیدی شعور کی عمدہ مثالیں ہیں۔ شمع افروز زیدی کے مضامین اور انٹرویو کے مجموعے "جنہیں میں نے دیکھا، جنہیں میں نے جانا”، پروفیسر کوثر مظہری کے شعری مجموعے "رات، سمندر، خواب” اور اسرار الحق مجاز کی شخصیت و فن پر ان کا مضمون "اسرار الحق مجاز: ایک مطالعہ” ان کی سنجیدہ ادبی دل چسپی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان تمام تحریروں کا مطالعہ راقم کے لئے اس اعتبار سے بھی اہم رہا کہ ان کے ذریعے ام ماریہ حق کے مطالعے کی وسعت، ان کے زاویۂ نظر اور ان کے تنقیدی ذوق کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔
شمع افروز زیدی کی مذکورہ کتاب، جس میں تینتیس مضامین اور دو انٹرویو شامل ہیں، کا پہلا مضمون کشمیری لال ذاکر پر ہے۔ اس مضمون کے حوالے سے ام ماریہ حق لکھتی ہیں:
"اس مضمون میں مصنفہ کی تنقیدی بصیرت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ ذاکر صاحب کی مقبولیت کا راز ان کی تحریروں میں پنہاں ہے۔ وہ علم و ادب اور فکر و فن کے ایک ایسے دریا کے مانند تھے جو تا زندگی اپنی روایتی شان کے ساتھ رواں دواں رہے۔”
اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ام ماریہ حق کسی ادبی شخصیت کا جائزہ لیتے ہوئے محض معلومات کی فراہمی پر اکتفا نہیں کرتیں بلکہ اس کی ادبی معنویت اور فکری جہات کو بھی نشان زد کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
پروفیسر کوثر مظہری کا مجموعۂ کلام "رات، سمندر، خواب”، جس میں غزلیں اور نظمیں شامل ہیں، ان کی توجہ کا مرکز بنا۔ اس مجموعے کے بارے میں وہ رقم طراز ہیں:
"مصنف نے اپنی شاعری میں سادگی کو بڑے سلیقے سے جگہ دی ہے۔ ان کی غزلوں میں انہوں نے سادہ، سلیس اور ہلکے پھلکے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔”
یہ مختصر تبصرہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ام ماریہ حق شاعری میں لسانی پیچیدگی کے بجائے فطری اظہار اور ابلاغ کی قوت کو اہمیت دیتی ہیں اور شعر کی تاثیر کو اس کی سادگی اور سچائی سے وابستہ سمجھتی ہیں۔
اسی طرح مجاز لکھنوی پر اپنے مضمون "اسرار الحق مجاز: ایک مطالعہ” میں وہ تحریر فرماتی ہیں:
"ان کی معصومیت اور ان کی محبوبیت، ان کی شہرت اور عظمت کے باعث ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اردو شاعری کی تمام لطافت، نزاکت اور روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مجاز نے اپنا رنگ و آہنگ نمایاں کیا۔”
مجاز کی شاعری کے حوالے سے یہ رائے ان کے متوازن تنقیدی رویے کی مظہر ہے، جہاں وہ روایت کے احترام کے ساتھ شاعر کی انفرادیت کو بھی پیشِ نظر رکھتی ہیں۔
اسی تناظر میں ڈاکٹر بشیر بدر کی وفات کے فوراً بعد ام ماریہ حق نے "الوداع ڈاکٹر بشیر بدر” کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا، جو دراصل ایک عظیم شاعر کو خراجِ عقیدت بھی ہے اور ان کے فن کا مختصر مگر بامعنی جائزہ بھی۔ اس مضمون میں وہ لکھتی ہیں:
"سادہ سلیس زبان میں شعر کہنے والے اور جدید غزل کو معتبر بنانے والے بشیر بدر صاحب کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ ان کے اشعار محض الفاظ کا مجموعہ نہیں تھے بلکہ انسانی احساسات کے ترجمان تھے۔”
چونکہ بشیر بدر راقم کے بھی پسندیدہ اور عصرِ حاضر کے محبوب ترین شاعروں میں سے ایک تھے، اس لئے ان کی وفات کے بعد ان کی شاعری کے حوالے سے جو احساسات و تاثرات دل میں ابھرے، انہیں اس تناظر میں شامل کرنا بے محل نہ ہوگا۔
بشیر بدر نے غزل کی روایتی فضا کو برقرار رکھتے ہوئے روزمرہ زندگی کے مناظر، مانوس لفظیات اور سادہ مگر دل نشیں اظہار کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار براہِ راست قاری کے احساسات سے ہم کلام ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً:
بھٹک رہی ہے پرانی دلائیاں اوڑھے
حویلیوں میں میرے خاندان کی خوشبو
وہی شہر ہے، وہی راستے، وہی گھر ہے، وہی لان ہے
مگر اس دریچے سے پوچھنا، وہ درختِ انار کا کیا ہوا
بارشوں میں کسی پیڑ کو دیکھنا
شال اوڑھے ہوئے بھیگتا کون ہے
ان اشعار میں زندگی کے مانوس تجربات کو جس سادگی، تصویریت اور اثر انگیزی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، وہ بشیر بدر کے منفرد اسلوب کی نمایاں شناخت ہے۔ ام ماریہ حق نے اپنے مضمون میں اسی انفرادیت کو محسوس کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
ام ماریہ حق کی تخلیقی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی نثری نظمیں بھی ہیں۔ اردو نثری نظم کے آغاز اور ارتقا کے حوالے سے ناقدین میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ بعض اہلِ تحقیق اس کے ابتدائی نقوش عبدالحلیم شرر کی نثری تحریروں میں تلاش کرتے ہیں، جب کہ اکثر ناقدین کے نزدیک نثری نظم نے بیسویں صدی میں ایک مستقل صنف کی حیثیت اختیار کی۔ ن۔م۔راشد اور میرا جی نے اس کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا اور اس صنف کو داخلی تجربات، نفسیاتی کیفیات اور عصری مسائل کے اظہار کا مؤثر وسیلہ بنایا۔
ام ماریہ حق نے بھی اپنے احساسات اور باطنی تجربات کے اظہار کے لئے نثری نظم کو اختیار کیا ہے۔ ان کی نظم "گلابی ڈائنامائٹ” خواب، لاشعور اور تخیل کی ایسی دنیا آباد کرتی ہے جہاں رات کی خاموشی انسان کو حقیقت کی سختیوں سے عارضی نجات بخشتی ہے۔ اس نظم میں "تکیہ” ایک علامت بن کر سامنے آتا ہے، جو شاعرہ کو ناممکن خواہشات، قسمت کے سر بستہ رازوں اور تخیل کی وسعتوں کی جانب لے جاتا ہے۔ نظم کی تجریدی فضا، علامتی پیکر اور خواب و حقیقت کا امتزاج شاعرہ کے حساس اور جستجو کرنے والے ذہن کی ترجمانی کرتا ہے۔
اس کے برعکس ان کی نظم "نئی راہ” امید، محبت اور انسان دوستی کی آئینہ دار ہے۔ شاعرہ ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھتی ہیں جہاں انا، رنجش، تلخ لہجوں اور دکھوں کی دھوپ کا وجود نہ ہو؛ جہاں محبت اور خلوص کی ننھی ننھی بالیاں جھومتی ہوں، خوشی کے پھول کھلتے ہوں اور انسانی رشتے اخلاص اور اعتماد کی بنیاد پر استوار ہوں۔ یہ نظم ایک مثالی دنیا کی خواہش کے ساتھ ساتھ ہمارے عہد کے بگڑتے ہوئے معاشرتی رویّوں کے خلاف ایک نرم مگر مؤثر احتجاج بھی ہے۔
اگرچہ بعض مقامات پر ان کی نثری نظموں میں تجرید کا غلبہ قاری سے اضافی توجہ اور تامل کا تقاضا کرتا ہے، تاہم یہی تجرید ان کے تخلیقی تجربے کی انفرادیت بھی ہے۔ ان کی شاعری میں داخلی کرب، خواب آفرینی، انسانی محبت اور بہتر معاشرتی قدروں کی جستجو ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
مجموعی طور پر ام ماریہ حق کی نثر اور شاعری ان کے وسیع مطالعے، فکری پختگی اور حساس طرزِ احساس کی مظہر ہے۔ ان کی تحریریں قاری کو محض جمالیاتی آسودگی فراہم نہیں کرتیں بلکہ اسے سوچنے، محسوس کرنے اور ایک بہتر انسانی معاشرے کا خواب دیکھنے کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔ یہی کسی بامقصد ادب کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
دعا ہے کہ محترمہ ام ماریہ حق اسی خلوص، وقار اور تخلیقی توانائی کے ساتھ اردو زبان و ادب کی خدمت کرتی رہیں،

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

ام ماریہ حق: ایک تعارف، ایک تاثر

 انور آفاقی
عہدِ حاضر میں اردو ادب کی دنیا صرف مرد قلم کاروں کی فکر و فن سے ہی منور نہیں، بلکہ خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں، فکری بالیدگی اور علمی کاوشوں سے بھی یکساں طور پر روشن ہے۔ ہمارے زمانے کی خواتین نے ادب، تحقیق، تنقید اور تخلیق کے مختلف میدانوں میں اپنی مضبوط اور باوقار موجودگی درج کرائی ہے۔ ایسی ہی سنجیدہ، حساس اور فعال قلم کاروں میں محترمہ ام ماریہ حق کا نام بھی احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے، جنہوں نے اپنی نثر اور شاعری کے ذریعے اہلِ ذوق کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔
شبینہ بنت رفیع اللہ، جو ادبی دنیا میں ام ماریہ حق کے قلمی نام سے معروف ہیں، یکم جولائی 1979ء کو فیروز آباد میں پیدا ہوئیں، جب کہ ان کا آبائی تعلق دہلی سے ہے۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے بی۔اے کی تعلیم مکمل کی۔ ازدواجی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد بھی ان کا علمی سفر رکا نہیں۔ ان کے شوہر جناب صلاح الدین حق نے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کی بلکہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہر ممکن تعاون بھی فراہم کیا۔ چنانچہ انہوں نے 2015ء میں بیچلر آف ڈیزائن (B.Des) کی ڈگری حاصل کی اور پیشہ ورانہ طور پر انٹیریئر ڈیزائننگ سے وابستہ ہوئیں۔
یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ ان کے شریکِ حیات خود شعر و ادب سے گہری دل چسپی رکھتے ہیں اور ادبی حلقوں میں ابو صارم صارم کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ دونوں میاں بیوی نے اپنے قلمی نام اپنی اولاد کی کنیت سے اخذ کیے، جو ان کی خاندانی وابستگی اور جذباتی تعلق کی ایک خوب صورت علامت ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران اخبارات، رسائل اور سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ام ماریہ حق کی تخلیقات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس گہرا ہوتا گیا ہے کہ ان کی تحریروں کے پس منظر میں وسیع مطالعہ، فکری سنجیدگی اور اظہار کی دیانت کارفرما ہے۔ وہ جس شخصیت، کتاب یا ادبی موضوع پر قلم اٹھاتی ہیں، اس سے پہلے اس کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیتی ہیں، پھر خلوص اور اعتماد کے ساتھ اپنے تاثرات کو تحریر کی صورت عطا کرتی ہیں۔ ان کے یہاں اظہار کی بے ساختگی کے ساتھ ساتھ مطالعے کی پختگی بھی دکھائی دیتی ہے، جس کے باعث ان کی تحریریں محض تاثراتی نہیں رہتیں بلکہ ان میں تنقیدی شعور کی جھلک بھی نمایاں ہوتی ہے۔
مختلف شعرا و ادبا کی کتابوں پر ان کے تحریر کردہ مضامین اور تبصرے ان کے تنقیدی شعور کی عمدہ مثالیں ہیں۔ شمع افروز زیدی کے مضامین اور انٹرویو کے مجموعے "جنہیں میں نے دیکھا، جنہیں میں نے جانا”، پروفیسر کوثر مظہری کے شعری مجموعے "رات، سمندر، خواب” اور اسرار الحق مجاز کی شخصیت و فن پر ان کا مضمون "اسرار الحق مجاز: ایک مطالعہ” ان کی سنجیدہ ادبی دل چسپی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان تمام تحریروں کا مطالعہ راقم کے لئے اس اعتبار سے بھی اہم رہا کہ ان کے ذریعے ام ماریہ حق کے مطالعے کی وسعت، ان کے زاویۂ نظر اور ان کے تنقیدی ذوق کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔
شمع افروز زیدی کی مذکورہ کتاب، جس میں تینتیس مضامین اور دو انٹرویو شامل ہیں، کا پہلا مضمون کشمیری لال ذاکر پر ہے۔ اس مضمون کے حوالے سے ام ماریہ حق لکھتی ہیں:
"اس مضمون میں مصنفہ کی تنقیدی بصیرت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ ذاکر صاحب کی مقبولیت کا راز ان کی تحریروں میں پنہاں ہے۔ وہ علم و ادب اور فکر و فن کے ایک ایسے دریا کے مانند تھے جو تا زندگی اپنی روایتی شان کے ساتھ رواں دواں رہے۔”
اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ام ماریہ حق کسی ادبی شخصیت کا جائزہ لیتے ہوئے محض معلومات کی فراہمی پر اکتفا نہیں کرتیں بلکہ اس کی ادبی معنویت اور فکری جہات کو بھی نشان زد کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
پروفیسر کوثر مظہری کا مجموعۂ کلام "رات، سمندر، خواب”، جس میں غزلیں اور نظمیں شامل ہیں، ان کی توجہ کا مرکز بنا۔ اس مجموعے کے بارے میں وہ رقم طراز ہیں:
"مصنف نے اپنی شاعری میں سادگی کو بڑے سلیقے سے جگہ دی ہے۔ ان کی غزلوں میں انہوں نے سادہ، سلیس اور ہلکے پھلکے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔”
یہ مختصر تبصرہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ام ماریہ حق شاعری میں لسانی پیچیدگی کے بجائے فطری اظہار اور ابلاغ کی قوت کو اہمیت دیتی ہیں اور شعر کی تاثیر کو اس کی سادگی اور سچائی سے وابستہ سمجھتی ہیں۔
اسی طرح مجاز لکھنوی پر اپنے مضمون "اسرار الحق مجاز: ایک مطالعہ” میں وہ تحریر فرماتی ہیں:
"ان کی معصومیت اور ان کی محبوبیت، ان کی شہرت اور عظمت کے باعث ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اردو شاعری کی تمام لطافت، نزاکت اور روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مجاز نے اپنا رنگ و آہنگ نمایاں کیا۔”
مجاز کی شاعری کے حوالے سے یہ رائے ان کے متوازن تنقیدی رویے کی مظہر ہے، جہاں وہ روایت کے احترام کے ساتھ شاعر کی انفرادیت کو بھی پیشِ نظر رکھتی ہیں۔
اسی تناظر میں ڈاکٹر بشیر بدر کی وفات کے فوراً بعد ام ماریہ حق نے "الوداع ڈاکٹر بشیر بدر” کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا، جو دراصل ایک عظیم شاعر کو خراجِ عقیدت بھی ہے اور ان کے فن کا مختصر مگر بامعنی جائزہ بھی۔ اس مضمون میں وہ لکھتی ہیں:
"سادہ سلیس زبان میں شعر کہنے والے اور جدید غزل کو معتبر بنانے والے بشیر بدر صاحب کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ ان کے اشعار محض الفاظ کا مجموعہ نہیں تھے بلکہ انسانی احساسات کے ترجمان تھے۔”
چونکہ بشیر بدر راقم کے بھی پسندیدہ اور عصرِ حاضر کے محبوب ترین شاعروں میں سے ایک تھے، اس لئے ان کی وفات کے بعد ان کی شاعری کے حوالے سے جو احساسات و تاثرات دل میں ابھرے، انہیں اس تناظر میں شامل کرنا بے محل نہ ہوگا۔
بشیر بدر نے غزل کی روایتی فضا کو برقرار رکھتے ہوئے روزمرہ زندگی کے مناظر، مانوس لفظیات اور سادہ مگر دل نشیں اظہار کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار براہِ راست قاری کے احساسات سے ہم کلام ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ مثلاً:
بھٹک رہی ہے پرانی دلائیاں اوڑھے
حویلیوں میں میرے خاندان کی خوشبو
وہی شہر ہے، وہی راستے، وہی گھر ہے، وہی لان ہے
مگر اس دریچے سے پوچھنا، وہ درختِ انار کا کیا ہوا
بارشوں میں کسی پیڑ کو دیکھنا
شال اوڑھے ہوئے بھیگتا کون ہے
ان اشعار میں زندگی کے مانوس تجربات کو جس سادگی، تصویریت اور اثر انگیزی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، وہ بشیر بدر کے منفرد اسلوب کی نمایاں شناخت ہے۔ ام ماریہ حق نے اپنے مضمون میں اسی انفرادیت کو محسوس کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
ام ماریہ حق کی تخلیقی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی نثری نظمیں بھی ہیں۔ اردو نثری نظم کے آغاز اور ارتقا کے حوالے سے ناقدین میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ بعض اہلِ تحقیق اس کے ابتدائی نقوش عبدالحلیم شرر کی نثری تحریروں میں تلاش کرتے ہیں، جب کہ اکثر ناقدین کے نزدیک نثری نظم نے بیسویں صدی میں ایک مستقل صنف کی حیثیت اختیار کی۔ ن۔م۔راشد اور میرا جی نے اس کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا اور اس صنف کو داخلی تجربات، نفسیاتی کیفیات اور عصری مسائل کے اظہار کا مؤثر وسیلہ بنایا۔
ام ماریہ حق نے بھی اپنے احساسات اور باطنی تجربات کے اظہار کے لئے نثری نظم کو اختیار کیا ہے۔ ان کی نظم "گلابی ڈائنامائٹ” خواب، لاشعور اور تخیل کی ایسی دنیا آباد کرتی ہے جہاں رات کی خاموشی انسان کو حقیقت کی سختیوں سے عارضی نجات بخشتی ہے۔ اس نظم میں "تکیہ” ایک علامت بن کر سامنے آتا ہے، جو شاعرہ کو ناممکن خواہشات، قسمت کے سر بستہ رازوں اور تخیل کی وسعتوں کی جانب لے جاتا ہے۔ نظم کی تجریدی فضا، علامتی پیکر اور خواب و حقیقت کا امتزاج شاعرہ کے حساس اور جستجو کرنے والے ذہن کی ترجمانی کرتا ہے۔
اس کے برعکس ان کی نظم "نئی راہ” امید، محبت اور انسان دوستی کی آئینہ دار ہے۔ شاعرہ ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھتی ہیں جہاں انا، رنجش، تلخ لہجوں اور دکھوں کی دھوپ کا وجود نہ ہو؛ جہاں محبت اور خلوص کی ننھی ننھی بالیاں جھومتی ہوں، خوشی کے پھول کھلتے ہوں اور انسانی رشتے اخلاص اور اعتماد کی بنیاد پر استوار ہوں۔ یہ نظم ایک مثالی دنیا کی خواہش کے ساتھ ساتھ ہمارے عہد کے بگڑتے ہوئے معاشرتی رویّوں کے خلاف ایک نرم مگر مؤثر احتجاج بھی ہے۔
اگرچہ بعض مقامات پر ان کی نثری نظموں میں تجرید کا غلبہ قاری سے اضافی توجہ اور تامل کا تقاضا کرتا ہے، تاہم یہی تجرید ان کے تخلیقی تجربے کی انفرادیت بھی ہے۔ ان کی شاعری میں داخلی کرب، خواب آفرینی، انسانی محبت اور بہتر معاشرتی قدروں کی جستجو ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
مجموعی طور پر ام ماریہ حق کی نثر اور شاعری ان کے وسیع مطالعے، فکری پختگی اور حساس طرزِ احساس کی مظہر ہے۔ ان کی تحریریں قاری کو محض جمالیاتی آسودگی فراہم نہیں کرتیں بلکہ اسے سوچنے، محسوس کرنے اور ایک بہتر انسانی معاشرے کا خواب دیکھنے کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔ یہی کسی بامقصد ادب کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
دعا ہے کہ محترمہ ام ماریہ حق اسی خلوص، وقار اور تخلیقی توانائی کے ساتھ اردو زبان و ادب کی خدمت کرتی رہیں،

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں