جنگ فیچر ڈیسک
سال 1916 میں پیدا ہونے والے بیگم اکبر جہاں عبداللہ جموں و کشمیر کے معروف رہنما شیخ محمد عبداللہ کی اہلیہ تھیں۔
اکبر جہاں ایک کشمیری-کروشین النسل خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مائیکل ہنری نیڈو (جنہیں ہیری نیڈو بھی کہا جاتا تھا) یورپی نژاد ہوٹل کاروباری تھے، جن کے خاندان کی ملکیت میں سرینگر کا معروف نیڈوز ہوٹل سمیت ہندوستان کے کئی ہوٹل شامل تھے۔ ان کی والدہ میرجان کشمیری تھیں۔ مائیکل ہنری نیڈو خود بھی سیاحتی مقام گلمرگ میں ایک ہوٹل کے مالک تھے۔ اکبر جہاں نے 1933ء میں شیخ محمد عبداللہ سے شادی کی۔
انہوں نے 1977ء سے 1979ء تک چھٹی لوک سبھا میں سرینگر پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کی، جبکہ 1984ء سے 1989ء تک آٹھویں لوک سبھا میں اننت ناگ پارلیمانی حلقے سے رکنِ پارلیمان رہیں۔
بیگم اکبر جہاں کو 1947ء سے 1951ء تک جموں و کشمیر ریڈ کراس سوسائٹی کی پہلی صدر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ وہ 1975ء میں بین الاقوامی سالِ خواتین کی ریاستی سطح کی کمیٹی کی چیئرپرسن، 1976ء میں آل انڈیا فیملی ویلفیئر ایسوسی ایشن (ریاستی شاخ) کی صدر، اور 1977ء میں آل انڈیا ویمنز کانفرنس (ریاستی شاخ) کی صدر بھی رہیں۔بیگم اکبر جہاں عبداللہ کا انتقال 11 جولائی 2000ء کو سرینگر میں 84 برس کی عمر میں ہوا۔
معروف ادیب وی۔ ایس۔ نائپال نے اپنی سفرنامہAn Area of Darkness میں عبداللہ خاندان کے پس منظر کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق گلمرگ کے دورانِ سفر یورپی ہوٹل مالک مائیکل ہنری نیڈو ایک مسلمان خاتون میرجان سے متاثر ہوئے اور ان سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔ میرجان کے والدین نے شادی کے لئے اسلام قبول کرنے کی شرط رکھی، جسے نیڈو نے قبول کر لیا۔
اس شادی سے اکبر جہاں پیدا ہوئیں، جنہوں نے بعد میں شیخ محمد عبداللہ سے شادی کی۔ شیخ عبداللہ جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ کی ایک نمایاں شخصیت اور نیشنل کانفرنس کے بانی تھے۔
بیگم اکبر جہاں، جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی والدہ اور موجودہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی دادی تھیں۔


