11 جولائی شاعرقتیل شفائی کی25ویں برسی پر کچھ تاثرات

صبیحہ صدف 
مدھیہ پردیش
اک روز اس نے مجھکو سرانجمن قتیل
دیکھا نگاہ عام سے اور خاص کردیا
اس خوبصورت شعر کے خالق قتیل شفائی کا شمار پاکستان کے مقبول ترین شعراء میں ہوتا ہے۔ تھے انہونے اپنی،شاعری اور فلمی گیتوں سے بھارت اور پاکستان دونوں ممالک میں بہت مقبولیت و شہرت حاصل کی ۔ قتیل شفائی کا اصل نام محمد اورنگ زیب تھا۔وہ 24دسمبر سنہ 1919 کو ہری پور ہزارہ (جو اب پاکستان میں ہے) میں پیدا ہوئے۔اور ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی قتیل اپنی رومانی شاعری عام فہم گیتوں اور خوبصورت فلمی نغموں و غزلوں کے لیئے پہچانے جاتے ہیں۔قتیل کا شمار اردو ادب کے ممتاز اور مقبول ترین شعراء میں کیا جاتا ہے۔
قتیل کی تصانیف میں غزلوں،نظموں اور گیتوں کے مجموعہ شامل ہیں۔جنکے نام ہیں ہریالی، گجر، جلترنگ، روزن، جھومر، مطربہ،گفتگو،چھتنار،پیراہن،اورآ موختہ۔۔۔
  قتیل نے پاکستان کی اولین فلم ”تیری یاد ”سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا جو آ خر تک جاری رہا۔ قتیل شفائی اردو کے عصری ادب کی ایک اہم شخصیت ہیں ان کی اہمیت ان کی فکر کی صداقت اور لہجے کی انفرادیت سے عبارت ہے۔ قتیل مانگی ہوئی آواز میں شعر نہیں کہتے وہ صاحب اسلوب شاعر ہیں ان کا شعر ان کے نام کے بغیر بھی انہی کا شعر ہوتا ہے 10 اشعار  میں سے اگر ایک شعر اپ قتیل کا کسی غزل میں شامل کر دیں تو قاری اپنے اپ پہچان جائے گا کہ یہ شعر قتیل شفائی کا ہے انہوں نے جہاں اپنی فکر سے اجتماعی انسانی ذہن کو روشن کیا اور زندگی کو آ سودگی بخشی وہیں اظہار و ابلاغ کی نئی نئی راہیں بھی تراشی ہیں ۔اردو شاعری کو قتیل کا عطیہ بیش بہا ہے عصر حاضر کے تقاضوں کے ترجمانی کرتے ہوئے قتیل نے نہ صرف اپنی شاعری کو رفعتوں سے آ شناکیا ہے بلکہ اردو شاعری کو بھی نئی سمت دی ہے۔
فیض احمد فیض  کہتے ہیں کہ” قتیل نے جو کچھ بھی لکھا ہے بلا شرکت غیرے لکھا ہے جو کچھ کہا ہے کسی کے کہنے پر نہیں اپنے دل کی شہادت پر کہا ہے الفاظ کے طرف بیل بوٹے نہیں بنائے افکار میں کسی بال کی کھال اتارنے کی کوشش نہیں کی جنس اور لاشعور کی جوہر میں ڈبکیاں نہیں لگائیں بلکہ دھیمے سر لگائے ہیں اس لئے نغمہ کبھی بھی بے سرہ نہیں ہوپاتا ہے بلکہ ہلکے رنگ استعمال کیے ہیں اس لئے تصور کا کوئی نقش انکھ میں نہیں کھٹکتا یہی سادگی اور کم نمائی ان کے فن شخصیت کی نمایاں خوبی ہے یہی شیرینی  اور رسیلہ پن  ان کا زیور ہے۔
قتیل شفائی کی غزلیں پڑھ کر جو اہم بات سامنے اتی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے زبان و بیان اور لب و لہجے کو لطیف احساس جمال کے ساتھ ہم اہنگ کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختلف جہتوں اور سطحوں پر گہری نظر اور مشاہدے کی وسعت کے باعث قتیل غزل میں بلا کی وسعت گہرائی اور گیرائی پیدا ہوئی ہے جس میں فن کا گہرا رچائو بھی شامل ہے  اور اس کا رنگ غزل کے مزاج سے پوری طرح ہم اہنگ ہے۔ موضوعات کے متنوع قوس قزاح  میں قتیل شفاء نے اپنے فن کے معیار کو گرنے نہیں دیا اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے ہمارے سامنے ہر بار ایک نئے قتیل شفائی ابھرتا ہے جو  دلوں کی برف کو عارضوں سے شناخت کرتا ہے اور یوں غزل سرا ہوتا ہے کہ۔
یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
 کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے
میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
 برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے
قتیل شفائی غزل کو خوبصورت لہجہ عطا کرتا ہے اور یہ لہجہ لہجئہ مطربانہ ہے اس لئے بھی کہ رجائی اور جمالیاتی نقطئہ نظر اس کی شاعری کی بنیاد ہے اور اس طرح کی اردو غزل قتیل شفائی کے ذہن پر چھم کر کے اتری ہے اور اسے یوں طاقت گویائی ملی ہے کہ –
’’تھکی انا کا سفر کہاں تک کہیں تو رک جا کہیں تو دم لے
 بنا دیا ہے مسافتوں نے ترے ہی قدموں کی دھول تجھ کو
 یہ ریزہ ریزہ سے آ رزو ئیں کبھی تو کر دے میرے حوالے
 میں اپنے بکھرے بن بدن کی مانند دیکھتا ہوں ملول تجھ کو‘‘
’’اک روز اس نے مجھکو سر انجمن قتیل
دیکھا نگاہ عام سے اور خاص کردیا ‘‘
قتیل شفائی کی غزل کے بارے میں فیض صاحب یہی کہتے ہیں کہ قتیل صاحب ایک ایسا منفرد رنگ رکھتے ہیں جس میں قریب قریب سب رنگوں کی جھلکیاں ملتی ہیں لیکن رنگانگی کے باوجود ان کا کلام یک رنگ ہے اس  یک رنگی میں لہجے کو بھی دخل ہے اور معنی کو بھی اور ان کا لہجہ ہمیشہ سے مطربا نہ ہے ۔
بقول سلیم اختر گفتگو کی غزلیں قتیل شفائی کے فن میں ایک نئی جہت کی نشاندہی کرتی ہیں اور ان غزلوں میں ایک نیا قتیل نظر آتا ہے مثلا
”کیا عشق تھا جو باعث رسوائی بن گیا
 یارو تمام شہر تماشائی بن گیا
 بن مانگے مل گئے مری آنکھوں کو ر تجگے میں
 جب سے ایک چاند کا شیدائی بن گیا
 برہم ہوا تھا میری کسی بات پر کوئی
 وہ حادثہ ہی ہ وجہ،شناسائی بن گیا”
قتیل نے اپنے غزلوں میں غزل کی بنیادی وصف تغزل کو بھی برقرار رکھا ہے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس نے غزل کو گیت کی زبان دی ہے چنانچہ قتیل شفائی کے غزلوں میں جھانجھنے بجتی،اورچوڑیاں کھنکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ۔
قتیل شفائی کی مشہور زمانہ غزل
” زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا
 تو ملا ہے تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کو
 یہ میری عمر محبت کے لئے تھوڑی ہے
ایک ذرا سا غم دوراں کا بھی حق ہے جس پر
 میں نے وہ سانس بھی تیرے لئے رکھ چھوڑی ہے
تجھ پہ ہو جاؤں گا قربان تجھے چاہوں گا
 میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا
اس غزل کو پڑھ کر اور اس کو سن کر خصوصا مہدی حسن کی آواز سامع اور قاری احساس کی  ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں وہاں سے باہر نکلنا  بہت مشکل ہوتا ہے ۔
قتیل شفائی نے اپنی غزلوں اور نظموں میں نسوانی احساسات و جذبات کو بھی بہت خوبصورت طریقے سے پرویا ہے۔
” مثلا میرا دل کیوں دھڑکتا ہے سہیلی مجھ کو بتلا دے
 جو سینے میں خلش ہے تو اسے پہچانتی ہو گی
جوانی کیا اسی کا نام ہے تو جانتی ہو گی
 بتا دیکھو ںکون سے موسم میں یہ شعلہ بھڑکتا ہے
 میرا دل کیوں دھڑکتا ہے
نہ جانے میری سانسوں میں یہ ایک مہکار سی کیا ہے
بنا پائل جو میں سنتی ہوں وہ جھنکار سی کیا ہے
خیالوں میں کوئی گھونگٹ اٹھا کر اس کو تکتا ہے
میرا دل کیوں دھڑکتا ہے
میرا دل جھومتا ہے گیت اپنے اپ سن سن کر
جوانی مسکراتی ہے کسی کی چاپ سن سن  کر
میں اکثر چونک پڑتی ہوں جو پتہ بھی کھڑکتا ہے
میرا دل کیوں دھڑکتا ہے
 انوکھی سی کوئی تصویر دل کو گدگداتی ہے
 نہیں ہے سامنے کوئی مگر اواز آ تی ہے
 میرے سینے سے رہ رہ کر میرا انچل سرکتا ہے
 میرا دل کیوں دھڑکتا ہے سہیلی مجھ کو بتلا دے
اسی نسوانی جذبات کی ایک اور غزل ملاحظہ فرمائیے کہ
” شاعرانہ سی ہے زندگی کے فضا
اپ بھی زندگی کا مزہ لیجئے
 میں غزل بن گئی اپ کے سامنے
 شوق سے اپ بھی گنگنا لیجئے
 اپ سن تو رہے ہیں میرے دل کی لے
 اس میں بے نام سی اک  ادا سی بھی ہے
 اس اداسی میں نغمہ کوئی چھیڑ کر
ایک بے چین دل کی دعا لیجیے
 اپ کے پیار کا جو بھی معیار ہے
اس سے کب جانے جا مجھ کو انکار ہے
 جس طرح اپ چاہیں نظر اؤ میں
 مجھ کو ہر رنگ میں آزما لیجیے
قتیل شفائی اردو کے ایک اہم اور معروف شاعر ہیں انہوں نے غزل اور نظم کے علاوہ گیت بھی تخلیق کیے ہیں شعر و شاعری کے ان تمام اصناف میں ان کے رنگانرنگ شخصیت نمایاں طور پر جھلکتی ان کا لب و لہجہ صاف ستھرا اور سلجھا ہوا ہے اس لئے ان کی شاعری خصوصا ان کے گیت بہت مقبول ہوئے ہیں ۔
قتیل ایک کامیاب گیت گار ہیں ان کے گیتوں میں تازگی میٹھاس اور البیلا پن ہے ان گیتوں میں جہاں ایک طرف رقص و موسیقی کا ایک حسین منظر جلوہ گر ہوتا ہے وہیں دوسری طرف یہ گیت کیف و سرور اور سر مستی سے بھی سرشار ہے قتیل نے اپنے انوک سٹائل کو بیدار کر کے ان گیتوں میں نیا پن پیدا کر دیا ہے کہ انہیں سن کر قاری کے ہونٹ خود بخود گنگنا نے کو مجبور ہو جاتے ہیں ۔
”موہے آ ئے نہ جگ سے لاج
میں ایسا جھوم کے ناچے آ ج کہ گھنگرو ٹوٹ گئے ”
     قتیل شفائی کی شاعرانہ عظمت کے بارے میں نریش کمار شاد فرماتے ہیں کہ ان کی مقبولیت کا راز ان کے لب و لہجے کی شیرینی اور گہری رومانیت میں مضمر ہے اس رومانیت کا احتساب انہوں نے احمد ندیم قاسمی کے اثرات سے کیا ہے لیکن اپنی انفرادی تجربوں اور ذاتی کاوشوں کی رنگ آمیزی سے ان اثرات کو نیا حسن نئی زندگی عطا کی۔
قتیل شفائی نے جتنی ہمہ جہت موضوعات سے اپنے گیتوں اور اپنے غزلوں کو مختلف رنگوں سجایا ہے اس کا پورا احاطہ اس مختصر سے وقت میں ممکن نہیں ہے۔قتیل کی شاعری فن اور شخصیت پر مکمل معلومات وقت چاہتی ہے۔اردو زبان و ادب کا ہر دلعزیز  مقبول ترین عالمی شہرت یافتہ یہ شاعر 11جولائی2001کو لاہور پاکستان میں 81 برس کی عمر میں اس دیار فانی کو الوداع کہہ گیا۔۔۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

11 جولائی شاعرقتیل شفائی کی25ویں برسی پر کچھ تاثرات

صبیحہ صدف 
مدھیہ پردیش
اک روز اس نے مجھکو سرانجمن قتیل
دیکھا نگاہ عام سے اور خاص کردیا
اس خوبصورت شعر کے خالق قتیل شفائی کا شمار پاکستان کے مقبول ترین شعراء میں ہوتا ہے۔ تھے انہونے اپنی،شاعری اور فلمی گیتوں سے بھارت اور پاکستان دونوں ممالک میں بہت مقبولیت و شہرت حاصل کی ۔ قتیل شفائی کا اصل نام محمد اورنگ زیب تھا۔وہ 24دسمبر سنہ 1919 کو ہری پور ہزارہ (جو اب پاکستان میں ہے) میں پیدا ہوئے۔اور ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی قتیل اپنی رومانی شاعری عام فہم گیتوں اور خوبصورت فلمی نغموں و غزلوں کے لیئے پہچانے جاتے ہیں۔قتیل کا شمار اردو ادب کے ممتاز اور مقبول ترین شعراء میں کیا جاتا ہے۔
قتیل کی تصانیف میں غزلوں،نظموں اور گیتوں کے مجموعہ شامل ہیں۔جنکے نام ہیں ہریالی، گجر، جلترنگ، روزن، جھومر، مطربہ،گفتگو،چھتنار،پیراہن،اورآ موختہ۔۔۔
  قتیل نے پاکستان کی اولین فلم ”تیری یاد ”سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا جو آ خر تک جاری رہا۔ قتیل شفائی اردو کے عصری ادب کی ایک اہم شخصیت ہیں ان کی اہمیت ان کی فکر کی صداقت اور لہجے کی انفرادیت سے عبارت ہے۔ قتیل مانگی ہوئی آواز میں شعر نہیں کہتے وہ صاحب اسلوب شاعر ہیں ان کا شعر ان کے نام کے بغیر بھی انہی کا شعر ہوتا ہے 10 اشعار  میں سے اگر ایک شعر اپ قتیل کا کسی غزل میں شامل کر دیں تو قاری اپنے اپ پہچان جائے گا کہ یہ شعر قتیل شفائی کا ہے انہوں نے جہاں اپنی فکر سے اجتماعی انسانی ذہن کو روشن کیا اور زندگی کو آ سودگی بخشی وہیں اظہار و ابلاغ کی نئی نئی راہیں بھی تراشی ہیں ۔اردو شاعری کو قتیل کا عطیہ بیش بہا ہے عصر حاضر کے تقاضوں کے ترجمانی کرتے ہوئے قتیل نے نہ صرف اپنی شاعری کو رفعتوں سے آ شناکیا ہے بلکہ اردو شاعری کو بھی نئی سمت دی ہے۔
فیض احمد فیض  کہتے ہیں کہ” قتیل نے جو کچھ بھی لکھا ہے بلا شرکت غیرے لکھا ہے جو کچھ کہا ہے کسی کے کہنے پر نہیں اپنے دل کی شہادت پر کہا ہے الفاظ کے طرف بیل بوٹے نہیں بنائے افکار میں کسی بال کی کھال اتارنے کی کوشش نہیں کی جنس اور لاشعور کی جوہر میں ڈبکیاں نہیں لگائیں بلکہ دھیمے سر لگائے ہیں اس لئے نغمہ کبھی بھی بے سرہ نہیں ہوپاتا ہے بلکہ ہلکے رنگ استعمال کیے ہیں اس لئے تصور کا کوئی نقش انکھ میں نہیں کھٹکتا یہی سادگی اور کم نمائی ان کے فن شخصیت کی نمایاں خوبی ہے یہی شیرینی  اور رسیلہ پن  ان کا زیور ہے۔
قتیل شفائی کی غزلیں پڑھ کر جو اہم بات سامنے اتی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے زبان و بیان اور لب و لہجے کو لطیف احساس جمال کے ساتھ ہم اہنگ کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختلف جہتوں اور سطحوں پر گہری نظر اور مشاہدے کی وسعت کے باعث قتیل غزل میں بلا کی وسعت گہرائی اور گیرائی پیدا ہوئی ہے جس میں فن کا گہرا رچائو بھی شامل ہے  اور اس کا رنگ غزل کے مزاج سے پوری طرح ہم اہنگ ہے۔ موضوعات کے متنوع قوس قزاح  میں قتیل شفاء نے اپنے فن کے معیار کو گرنے نہیں دیا اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے ہمارے سامنے ہر بار ایک نئے قتیل شفائی ابھرتا ہے جو  دلوں کی برف کو عارضوں سے شناخت کرتا ہے اور یوں غزل سرا ہوتا ہے کہ۔
یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
 کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے
میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
 برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے
قتیل شفائی غزل کو خوبصورت لہجہ عطا کرتا ہے اور یہ لہجہ لہجئہ مطربانہ ہے اس لئے بھی کہ رجائی اور جمالیاتی نقطئہ نظر اس کی شاعری کی بنیاد ہے اور اس طرح کی اردو غزل قتیل شفائی کے ذہن پر چھم کر کے اتری ہے اور اسے یوں طاقت گویائی ملی ہے کہ –
’’تھکی انا کا سفر کہاں تک کہیں تو رک جا کہیں تو دم لے
 بنا دیا ہے مسافتوں نے ترے ہی قدموں کی دھول تجھ کو
 یہ ریزہ ریزہ سے آ رزو ئیں کبھی تو کر دے میرے حوالے
 میں اپنے بکھرے بن بدن کی مانند دیکھتا ہوں ملول تجھ کو‘‘
’’اک روز اس نے مجھکو سر انجمن قتیل
دیکھا نگاہ عام سے اور خاص کردیا ‘‘
قتیل شفائی کی غزل کے بارے میں فیض صاحب یہی کہتے ہیں کہ قتیل صاحب ایک ایسا منفرد رنگ رکھتے ہیں جس میں قریب قریب سب رنگوں کی جھلکیاں ملتی ہیں لیکن رنگانگی کے باوجود ان کا کلام یک رنگ ہے اس  یک رنگی میں لہجے کو بھی دخل ہے اور معنی کو بھی اور ان کا لہجہ ہمیشہ سے مطربا نہ ہے ۔
بقول سلیم اختر گفتگو کی غزلیں قتیل شفائی کے فن میں ایک نئی جہت کی نشاندہی کرتی ہیں اور ان غزلوں میں ایک نیا قتیل نظر آتا ہے مثلا
”کیا عشق تھا جو باعث رسوائی بن گیا
 یارو تمام شہر تماشائی بن گیا
 بن مانگے مل گئے مری آنکھوں کو ر تجگے میں
 جب سے ایک چاند کا شیدائی بن گیا
 برہم ہوا تھا میری کسی بات پر کوئی
 وہ حادثہ ہی ہ وجہ،شناسائی بن گیا”
قتیل نے اپنے غزلوں میں غزل کی بنیادی وصف تغزل کو بھی برقرار رکھا ہے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس نے غزل کو گیت کی زبان دی ہے چنانچہ قتیل شفائی کے غزلوں میں جھانجھنے بجتی،اورچوڑیاں کھنکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں ۔
قتیل شفائی کی مشہور زمانہ غزل
” زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا
 تو ملا ہے تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کو
 یہ میری عمر محبت کے لئے تھوڑی ہے
ایک ذرا سا غم دوراں کا بھی حق ہے جس پر
 میں نے وہ سانس بھی تیرے لئے رکھ چھوڑی ہے
تجھ پہ ہو جاؤں گا قربان تجھے چاہوں گا
 میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا
اس غزل کو پڑھ کر اور اس کو سن کر خصوصا مہدی حسن کی آواز سامع اور قاری احساس کی  ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں وہاں سے باہر نکلنا  بہت مشکل ہوتا ہے ۔
قتیل شفائی نے اپنی غزلوں اور نظموں میں نسوانی احساسات و جذبات کو بھی بہت خوبصورت طریقے سے پرویا ہے۔
” مثلا میرا دل کیوں دھڑکتا ہے سہیلی مجھ کو بتلا دے
 جو سینے میں خلش ہے تو اسے پہچانتی ہو گی
جوانی کیا اسی کا نام ہے تو جانتی ہو گی
 بتا دیکھو ںکون سے موسم میں یہ شعلہ بھڑکتا ہے
 میرا دل کیوں دھڑکتا ہے
نہ جانے میری سانسوں میں یہ ایک مہکار سی کیا ہے
بنا پائل جو میں سنتی ہوں وہ جھنکار سی کیا ہے
خیالوں میں کوئی گھونگٹ اٹھا کر اس کو تکتا ہے
میرا دل کیوں دھڑکتا ہے
میرا دل جھومتا ہے گیت اپنے اپ سن سن کر
جوانی مسکراتی ہے کسی کی چاپ سن سن  کر
میں اکثر چونک پڑتی ہوں جو پتہ بھی کھڑکتا ہے
میرا دل کیوں دھڑکتا ہے
 انوکھی سی کوئی تصویر دل کو گدگداتی ہے
 نہیں ہے سامنے کوئی مگر اواز آ تی ہے
 میرے سینے سے رہ رہ کر میرا انچل سرکتا ہے
 میرا دل کیوں دھڑکتا ہے سہیلی مجھ کو بتلا دے
اسی نسوانی جذبات کی ایک اور غزل ملاحظہ فرمائیے کہ
” شاعرانہ سی ہے زندگی کے فضا
اپ بھی زندگی کا مزہ لیجئے
 میں غزل بن گئی اپ کے سامنے
 شوق سے اپ بھی گنگنا لیجئے
 اپ سن تو رہے ہیں میرے دل کی لے
 اس میں بے نام سی اک  ادا سی بھی ہے
 اس اداسی میں نغمہ کوئی چھیڑ کر
ایک بے چین دل کی دعا لیجیے
 اپ کے پیار کا جو بھی معیار ہے
اس سے کب جانے جا مجھ کو انکار ہے
 جس طرح اپ چاہیں نظر اؤ میں
 مجھ کو ہر رنگ میں آزما لیجیے
قتیل شفائی اردو کے ایک اہم اور معروف شاعر ہیں انہوں نے غزل اور نظم کے علاوہ گیت بھی تخلیق کیے ہیں شعر و شاعری کے ان تمام اصناف میں ان کے رنگانرنگ شخصیت نمایاں طور پر جھلکتی ان کا لب و لہجہ صاف ستھرا اور سلجھا ہوا ہے اس لئے ان کی شاعری خصوصا ان کے گیت بہت مقبول ہوئے ہیں ۔
قتیل ایک کامیاب گیت گار ہیں ان کے گیتوں میں تازگی میٹھاس اور البیلا پن ہے ان گیتوں میں جہاں ایک طرف رقص و موسیقی کا ایک حسین منظر جلوہ گر ہوتا ہے وہیں دوسری طرف یہ گیت کیف و سرور اور سر مستی سے بھی سرشار ہے قتیل نے اپنے انوک سٹائل کو بیدار کر کے ان گیتوں میں نیا پن پیدا کر دیا ہے کہ انہیں سن کر قاری کے ہونٹ خود بخود گنگنا نے کو مجبور ہو جاتے ہیں ۔
”موہے آ ئے نہ جگ سے لاج
میں ایسا جھوم کے ناچے آ ج کہ گھنگرو ٹوٹ گئے ”
     قتیل شفائی کی شاعرانہ عظمت کے بارے میں نریش کمار شاد فرماتے ہیں کہ ان کی مقبولیت کا راز ان کے لب و لہجے کی شیرینی اور گہری رومانیت میں مضمر ہے اس رومانیت کا احتساب انہوں نے احمد ندیم قاسمی کے اثرات سے کیا ہے لیکن اپنی انفرادی تجربوں اور ذاتی کاوشوں کی رنگ آمیزی سے ان اثرات کو نیا حسن نئی زندگی عطا کی۔
قتیل شفائی نے جتنی ہمہ جہت موضوعات سے اپنے گیتوں اور اپنے غزلوں کو مختلف رنگوں سجایا ہے اس کا پورا احاطہ اس مختصر سے وقت میں ممکن نہیں ہے۔قتیل کی شاعری فن اور شخصیت پر مکمل معلومات وقت چاہتی ہے۔اردو زبان و ادب کا ہر دلعزیز  مقبول ترین عالمی شہرت یافتہ یہ شاعر 11جولائی2001کو لاہور پاکستان میں 81 برس کی عمر میں اس دیار فانی کو الوداع کہہ گیا۔۔۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں