صبر و استقامت کے علمبردار:امام زین العابدین علیہ السلام

 

طفیل مگسی

سید الساجدین، زین العابدین حضرت امام علی بن الحسین علیہ السلام کی شہادت تاریخِ اسلام کا ایک انتہائی دردناک باب ہے۔ سانحہ کربلا کے بعد آپ نے جس طرح مظلومیت کے باوجود دینِ حق اور مشنِ حسینی کو زندہ رکھا، وہ اموی سلطنت کے لئے ایک مستقل خطرہ بنا رہا۔
امام عالی مقام کی شہادت کی مستند اور تفصیلی معلومات درج ذیل ہیں:

شہادت کا سبب اور زہر کا واقعہ
مستند تاریخی روایات کے مطابق، اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اپنے اقتدار کے لئے امام زین العابدین علیہ السلام کے وجود کو ایک بہت بڑا خطرہ سمجھا۔ امام کی علمی جلالت، تقویٰ اور لوگوں میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے ولید بن عبد الملک نے آپ کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔
ولید بن عبد الملک نے مدینہ کے گورنر (جو بعض روایات کے مطابق عثمان بن حیان تھا یا زہر بھیجنے کا کام براہِ راست انجام دیا گیا) کے ذریعے امام عالی مقام کو زہر دلوایا۔
تاریخِ شہادت اور مدفن
تاریخِ شہادت: مستند ترین روایات کے مطابق آپ کی شہادت 25 محرم الحرام 95 ہجری (بمطابق اکتوبر 713ء) کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ (بعض روایات میں 12 محرم یا 18 محرم بھی ذکر ہے، لیکن 25 محرم سب سے زیادہ مشہور اور معتبر ہے)۔
مدفن: آپ کو مدینہ منورہ کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں آپ کے چچا گرامی حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

مستند شیعہ و سنی حوالہ جات
امام زین العابدین علیہ السلام کی زہر کے ذریعے شہادت کا ذکر مکتبِ اہل بیت (شیعہ) اور مکتبِ خلفاء (سنی) دونوں کی معتبر کتب میں موجود ہے:
1. شیعہ مآخذ و حوالہ جات:
شیخ مفید (متوفی 413ھ) اپنی کتاب "الارشاد” میں لکھتے ہیں کہ امام علی بن الحسین علیہ السلام 95 ہجری میں زہر کے سبب شہید ہوئے اور جنت البقیع میں دفن کیے گئے۔
علامہ مجلسی "بحار الانوار” (جلد 46) میں مختلف روایات نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ولید بن عبد الملک نے آپ کو زہر دیا جس کے نتیجے میں آپ کی شہادت واقع ہوئی۔
قطب الدین راوندی "الخرائج و الجرائح” میں بھی اسی کا ذکر کرتے ہیں۔
2. سنی مآخذ و حوالہ جات:
حافظ ابن کثیر "البدایہ والنہایہ” (جلد 9، ذکرِ احوال علی بن الحسین): آپ کی وفات کا سال 95 ہجری بیان کرتے ہیں اور آپ کی عظمت و عبادت کا مفصل ذکر کرتے ہیں۔

ابن حجر عسقلانی "تہذیب التہذیب” (جلد 7): آپ کے فضائل اور 95 ہجری (جسے عام الفقہاء یعنی فقہاء کا سالِ وفات کہا جاتا ہے کیونکہ اس سال مدینہ کے کئی جلیل القدر فقہاء رحلت کر گئے تھے) میں شہادت کا ذکر کرتے ہیں۔
شمس الدین الذہبی "سیر اعلام النبلاء” (جلد 4): امام زین العابدین کے احوال میں آپ کی وفات 95 ہجری نقل کرتے ہیں۔
ابن صباغ مالکی "الفصول المهمة”: صراحت کے ساتھ لکھتے ہیں کہ آپ کی وفات زہر کے ذریعے ہوئی جو ولید بن عبد الملک کی طرف سے دیا گیا تھا۔
آخری وصایا اور غسل و کفن
روایات میں آتا ہے کہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں آپ نے اپنے فرزندِ ارجمند حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کو اپنے پاس بلایا، انہیں امامت کے اسرار و رموز اور ودیعتیں سونپیں اور صبر و تقویٰ کی وصیت فرمائی۔
ایک لرزہ خیز تاریخی حقیقت:
جب شہادت کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام کو غسل دیا جا رہا تھا، تو حاضرین نے دیکھا کہ آپ کی پشت (کمر) اور شانوں پر گہرے سیاہ نشانات موجود ہیں۔ جب امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا گیا تو انہوں نے روتے ہوئے فرمایا: "یہ نشانات کسی زخم کے نہیں، بلکہ یہ ان بھاری بوریوں کے ہیں جو میرے بابا رات کی تاریکی میں اپنی پشت پر اٹھا کر مدینہ کے یتیموں اور غریبوں کے گھروں تک پہنچایا کرتے تھے اور کسی کو معلوم نہ ہونے دیتے تھے۔”
آپ کے جنازے میں مدینہ منورہ کی تاریخ کا سب سے بڑا ہجوم اکٹھا ہوا، یہاں تک کہ مدینہ کی گلیاں انسانوں سے بھر گئیں اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

تازہ ترین خبریں

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

صبر و استقامت کے علمبردار:امام زین العابدین علیہ السلام

 

طفیل مگسی

سید الساجدین، زین العابدین حضرت امام علی بن الحسین علیہ السلام کی شہادت تاریخِ اسلام کا ایک انتہائی دردناک باب ہے۔ سانحہ کربلا کے بعد آپ نے جس طرح مظلومیت کے باوجود دینِ حق اور مشنِ حسینی کو زندہ رکھا، وہ اموی سلطنت کے لئے ایک مستقل خطرہ بنا رہا۔
امام عالی مقام کی شہادت کی مستند اور تفصیلی معلومات درج ذیل ہیں:

شہادت کا سبب اور زہر کا واقعہ
مستند تاریخی روایات کے مطابق، اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اپنے اقتدار کے لئے امام زین العابدین علیہ السلام کے وجود کو ایک بہت بڑا خطرہ سمجھا۔ امام کی علمی جلالت، تقویٰ اور لوگوں میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے ولید بن عبد الملک نے آپ کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔
ولید بن عبد الملک نے مدینہ کے گورنر (جو بعض روایات کے مطابق عثمان بن حیان تھا یا زہر بھیجنے کا کام براہِ راست انجام دیا گیا) کے ذریعے امام عالی مقام کو زہر دلوایا۔
تاریخِ شہادت اور مدفن
تاریخِ شہادت: مستند ترین روایات کے مطابق آپ کی شہادت 25 محرم الحرام 95 ہجری (بمطابق اکتوبر 713ء) کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ (بعض روایات میں 12 محرم یا 18 محرم بھی ذکر ہے، لیکن 25 محرم سب سے زیادہ مشہور اور معتبر ہے)۔
مدفن: آپ کو مدینہ منورہ کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں آپ کے چچا گرامی حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

مستند شیعہ و سنی حوالہ جات
امام زین العابدین علیہ السلام کی زہر کے ذریعے شہادت کا ذکر مکتبِ اہل بیت (شیعہ) اور مکتبِ خلفاء (سنی) دونوں کی معتبر کتب میں موجود ہے:
1. شیعہ مآخذ و حوالہ جات:
شیخ مفید (متوفی 413ھ) اپنی کتاب "الارشاد” میں لکھتے ہیں کہ امام علی بن الحسین علیہ السلام 95 ہجری میں زہر کے سبب شہید ہوئے اور جنت البقیع میں دفن کیے گئے۔
علامہ مجلسی "بحار الانوار” (جلد 46) میں مختلف روایات نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ولید بن عبد الملک نے آپ کو زہر دیا جس کے نتیجے میں آپ کی شہادت واقع ہوئی۔
قطب الدین راوندی "الخرائج و الجرائح” میں بھی اسی کا ذکر کرتے ہیں۔
2. سنی مآخذ و حوالہ جات:
حافظ ابن کثیر "البدایہ والنہایہ” (جلد 9، ذکرِ احوال علی بن الحسین): آپ کی وفات کا سال 95 ہجری بیان کرتے ہیں اور آپ کی عظمت و عبادت کا مفصل ذکر کرتے ہیں۔

ابن حجر عسقلانی "تہذیب التہذیب” (جلد 7): آپ کے فضائل اور 95 ہجری (جسے عام الفقہاء یعنی فقہاء کا سالِ وفات کہا جاتا ہے کیونکہ اس سال مدینہ کے کئی جلیل القدر فقہاء رحلت کر گئے تھے) میں شہادت کا ذکر کرتے ہیں۔
شمس الدین الذہبی "سیر اعلام النبلاء” (جلد 4): امام زین العابدین کے احوال میں آپ کی وفات 95 ہجری نقل کرتے ہیں۔
ابن صباغ مالکی "الفصول المهمة”: صراحت کے ساتھ لکھتے ہیں کہ آپ کی وفات زہر کے ذریعے ہوئی جو ولید بن عبد الملک کی طرف سے دیا گیا تھا۔
آخری وصایا اور غسل و کفن
روایات میں آتا ہے کہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں آپ نے اپنے فرزندِ ارجمند حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کو اپنے پاس بلایا، انہیں امامت کے اسرار و رموز اور ودیعتیں سونپیں اور صبر و تقویٰ کی وصیت فرمائی۔
ایک لرزہ خیز تاریخی حقیقت:
جب شہادت کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام کو غسل دیا جا رہا تھا، تو حاضرین نے دیکھا کہ آپ کی پشت (کمر) اور شانوں پر گہرے سیاہ نشانات موجود ہیں۔ جب امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا گیا تو انہوں نے روتے ہوئے فرمایا: "یہ نشانات کسی زخم کے نہیں، بلکہ یہ ان بھاری بوریوں کے ہیں جو میرے بابا رات کی تاریکی میں اپنی پشت پر اٹھا کر مدینہ کے یتیموں اور غریبوں کے گھروں تک پہنچایا کرتے تھے اور کسی کو معلوم نہ ہونے دیتے تھے۔”
آپ کے جنازے میں مدینہ منورہ کی تاریخ کا سب سے بڑا ہجوم اکٹھا ہوا، یہاں تک کہ مدینہ کی گلیاں انسانوں سے بھر گئیں اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں