معاہدۂ سعد آبادکے 89 سال

جنگ فیچر ڈیسک

جب پہلی جنگِ عظیم کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی نقشہ یکسر تبدیل ہوگیا۔ نئی آزاد ریاستیں وجود میں آئیں، نوآبادیاتی طاقتوں کا اثر و رسوخ بڑھا اور خطہ غیر یقینی حالات سے دوچار ہوگیا۔ ایسے ماحول میں ترکی، ایران، عراق اور افغانستان نے باہمی اعتماد، امن اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لئے ایک تاریخی قدم اٹھایا، جو معاہدۂ سعد آباد کے نام سے تاریخ میں محفوظ ہے۔
معاہدۂ سعد آباد کیا تھا؟
8 جولائی 1937 کو ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع سعد آباد محل میں ترکی، ایران، عراق اور افغانستان کے درمیان ایک عدم جارحیت (Non-Aggression) معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ چاروں ممالک ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت سے گریز کریں، باہمی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیں۔
25 جون 1938 کو اس معاہدے کی توثیق (Ratification) کے بعد یہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوا اور اسی سال اسے لیگ آف نیشنز کے معاہداتی ریکارڈ میں بھی شامل کرلیا گیا۔
اس معاہدے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
1930 کی دہائی میں مشرقِ وسطیٰ کئی داخلی اور خارجی خطرات سے دوچار تھا۔ ایک طرف یورپی نوآبادیاتی طاقتیں خطے میں اپنے اثرات بڑھا رہی تھیں، جبکہ دوسری طرف سوویت یونین کے پھیلتے ہوئے اثرات نے بھی علاقائی ریاستوں کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔
فرانس شام میں جبکہ برطانیہ ہندوستان، فلسطین، عمان اور یمن سمیت کئی علاقوں میں اپنا سیاسی و عسکری اثر رکھتا تھا۔ ایسے حالات میں آزاد مسلم ممالک نے محسوس کیا کہ اگر وہ متحد نہ ہوئے تو ان کی خودمختاری کو مزید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
ترکی کی خارجہ پالیسی اور مصطفیٰ کمال اتاترک
ترکی کے بانی صدر مصطفیٰ کمال اتاترک نے پہلی جنگِ عظیم اور جنگِ آزادی کے بعد ایک جدید، خودمختار اور مضبوط ترکی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے صنعتی ترقی، سیکولر اصلاحات اور متوازن خارجہ پالیسی کو فروغ دیا۔
اتاترک کی خواہش تھی کہ ترکی اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرے۔ یورپ میں بالکان معاہدہ کی کامیابی کے بعد انہوں نے یہی تصور مشرقِ وسطیٰ میں بھی اپنانے کی کوشش کی، تاکہ علاقائی ریاستوں کے درمیان اعتماد اور تعاون کو مضبوط بنایا جاسکے۔
افغانستان کے شاہ ظاہر شاہ کا کردار
افغانستان کے آخری بادشاہ محمد ظاہر شاہ مشرقِ وسطیٰ کے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون کے مضبوط حامی تھے۔ وہ نہ صرف ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں تھے بلکہ مختلف مسلم اقوام کی اخلاقی اور سفارتی حمایت بھی کرتے تھے۔
ان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مسلم ریاستیں ایک دوسرے کے قریب آئیں اور بیرونی دباؤ کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرسکیں۔
عراق کی بدلتی ہوئی سیاست
1936 سے 1937 تک عراق میں بکر صدقی کی فوجی حکومت قائم رہی، جسے عرب قوم پرستی کے مقابلے میں زیادہ علاقائی تعاون پر یقین رکھنے والی حکومت سمجھا جاتا ہے۔ بکر صدقی کرد تھے جبکہ وزیر اعظم حکمت سلیمان ترکمان تھے، اس لئے ان کی حکومت نے ایران اور ترکی جیسے مشرقی ہمسایوں کے ساتھ بہتر سفارتی تعلقات قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
لیگ آف نیشنز کا کردار
پہلی جنگِ عظیم کے بعد 10 جنوری 1920 کو قائم ہونے والی لیگ آف نیشنز کا مقصد عالمی امن، سفارت کاری اور مذاکرات کو فروغ دینا تھا تاکہ مستقبل میں عالمی جنگوں سے بچا جاسکے۔
اسی ادارے کے سفارتی ماحول نے مختلف ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع فراہم کیا، جس کے نتیجے میں معاہدۂ سعد آباد جیسے علاقائی معاہدے بھی ممکن ہوئے۔
معاہدے کی اہم شقیں
معاہدۂ سعد آباد کی بنیادی روح درج ذیل نکات پر مشتمل تھی:
• ایک دوسرے کے خلاف طاقت یا جارحیت کا استعمال نہ کرنا۔
• باہمی اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا۔
• علاقائی امن، استحکام اور ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینا۔
• ایک دوسرے کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کا احترام کرنا۔
توسیع اور اختتام
1943 میں چونکہ کسی بھی رکن ملک نے معاہدے سے علیحدگی اختیار نہیں کی، اس لئے اسے خودکار طور پر مزید پانچ برس کے لئے توسیع دے دی گئی۔ تاہم توسیعی مدت مکمل ہونے کے بعد یہ معاہدہ باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہوگیا۔
تاریخی اہمیت
اگرچہ معاہدۂ سعد آباد کو دوسری جنگِ عظیم یا یورپ کے بڑے سیاسی واقعات، خصوصاً جرمنی میں ایڈولف ہٹلر کے عروج، کی وجہ سے عالمی سطح پر زیادہ توجہ حاصل نہ ہوسکی، لیکن علاقائی تاریخ میں اس کی اپنی ایک منفرد اہمیت ہے۔
یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کے آزاد ممالک کی جانب سے علاقائی تعاون، امن اور باہمی اعتماد قائم کرنے کی پہلی منظم سفارتی کوششوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے ترکی، ایران، عراق اور افغانستان کے درمیان مستقل سفارتی روابط کی بنیاد رکھی اور دوسری جنگِ عظیم کے ابتدائی برسوں میں ان ممالک کی غیر جانبداری برقرار رکھنے میں بھی ایک حد تک کردار ادا کیا۔
آج کے تناظر میں معاہدۂ سعد آباد
آج جب مشرقِ وسطیٰ مختلف سیاسی، سلامتی اور جغرافیائی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، معاہدۂ سعد آباد اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ علاقائی امن کا سب سے مؤثر راستہ باہمی اعتماد، سفارت کاری، مذاکرات اور مشترکہ مفادات کا احترام ہے۔
اگرچہ یہ معاہدہ اپنی مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہوگیا، لیکن اس کا بنیادی پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے کہ پائیدار امن طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ مکالمے، تعاون اور ہمسائیگی کے مثبت تعلقات سے قائم ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

تازہ ترین خبریں

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

معاہدۂ سعد آبادکے 89 سال

جنگ فیچر ڈیسک

جب پہلی جنگِ عظیم کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی نقشہ یکسر تبدیل ہوگیا۔ نئی آزاد ریاستیں وجود میں آئیں، نوآبادیاتی طاقتوں کا اثر و رسوخ بڑھا اور خطہ غیر یقینی حالات سے دوچار ہوگیا۔ ایسے ماحول میں ترکی، ایران، عراق اور افغانستان نے باہمی اعتماد، امن اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے لئے ایک تاریخی قدم اٹھایا، جو معاہدۂ سعد آباد کے نام سے تاریخ میں محفوظ ہے۔
معاہدۂ سعد آباد کیا تھا؟
8 جولائی 1937 کو ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع سعد آباد محل میں ترکی، ایران، عراق اور افغانستان کے درمیان ایک عدم جارحیت (Non-Aggression) معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ چاروں ممالک ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت سے گریز کریں، باہمی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیں۔
25 جون 1938 کو اس معاہدے کی توثیق (Ratification) کے بعد یہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوا اور اسی سال اسے لیگ آف نیشنز کے معاہداتی ریکارڈ میں بھی شامل کرلیا گیا۔
اس معاہدے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
1930 کی دہائی میں مشرقِ وسطیٰ کئی داخلی اور خارجی خطرات سے دوچار تھا۔ ایک طرف یورپی نوآبادیاتی طاقتیں خطے میں اپنے اثرات بڑھا رہی تھیں، جبکہ دوسری طرف سوویت یونین کے پھیلتے ہوئے اثرات نے بھی علاقائی ریاستوں کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔
فرانس شام میں جبکہ برطانیہ ہندوستان، فلسطین، عمان اور یمن سمیت کئی علاقوں میں اپنا سیاسی و عسکری اثر رکھتا تھا۔ ایسے حالات میں آزاد مسلم ممالک نے محسوس کیا کہ اگر وہ متحد نہ ہوئے تو ان کی خودمختاری کو مزید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
ترکی کی خارجہ پالیسی اور مصطفیٰ کمال اتاترک
ترکی کے بانی صدر مصطفیٰ کمال اتاترک نے پہلی جنگِ عظیم اور جنگِ آزادی کے بعد ایک جدید، خودمختار اور مضبوط ترکی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے صنعتی ترقی، سیکولر اصلاحات اور متوازن خارجہ پالیسی کو فروغ دیا۔
اتاترک کی خواہش تھی کہ ترکی اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرے۔ یورپ میں بالکان معاہدہ کی کامیابی کے بعد انہوں نے یہی تصور مشرقِ وسطیٰ میں بھی اپنانے کی کوشش کی، تاکہ علاقائی ریاستوں کے درمیان اعتماد اور تعاون کو مضبوط بنایا جاسکے۔
افغانستان کے شاہ ظاہر شاہ کا کردار
افغانستان کے آخری بادشاہ محمد ظاہر شاہ مشرقِ وسطیٰ کے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون کے مضبوط حامی تھے۔ وہ نہ صرف ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں تھے بلکہ مختلف مسلم اقوام کی اخلاقی اور سفارتی حمایت بھی کرتے تھے۔
ان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مسلم ریاستیں ایک دوسرے کے قریب آئیں اور بیرونی دباؤ کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرسکیں۔
عراق کی بدلتی ہوئی سیاست
1936 سے 1937 تک عراق میں بکر صدقی کی فوجی حکومت قائم رہی، جسے عرب قوم پرستی کے مقابلے میں زیادہ علاقائی تعاون پر یقین رکھنے والی حکومت سمجھا جاتا ہے۔ بکر صدقی کرد تھے جبکہ وزیر اعظم حکمت سلیمان ترکمان تھے، اس لئے ان کی حکومت نے ایران اور ترکی جیسے مشرقی ہمسایوں کے ساتھ بہتر سفارتی تعلقات قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
لیگ آف نیشنز کا کردار
پہلی جنگِ عظیم کے بعد 10 جنوری 1920 کو قائم ہونے والی لیگ آف نیشنز کا مقصد عالمی امن، سفارت کاری اور مذاکرات کو فروغ دینا تھا تاکہ مستقبل میں عالمی جنگوں سے بچا جاسکے۔
اسی ادارے کے سفارتی ماحول نے مختلف ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع فراہم کیا، جس کے نتیجے میں معاہدۂ سعد آباد جیسے علاقائی معاہدے بھی ممکن ہوئے۔
معاہدے کی اہم شقیں
معاہدۂ سعد آباد کی بنیادی روح درج ذیل نکات پر مشتمل تھی:
• ایک دوسرے کے خلاف طاقت یا جارحیت کا استعمال نہ کرنا۔
• باہمی اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا۔
• علاقائی امن، استحکام اور ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینا۔
• ایک دوسرے کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کا احترام کرنا۔
توسیع اور اختتام
1943 میں چونکہ کسی بھی رکن ملک نے معاہدے سے علیحدگی اختیار نہیں کی، اس لئے اسے خودکار طور پر مزید پانچ برس کے لئے توسیع دے دی گئی۔ تاہم توسیعی مدت مکمل ہونے کے بعد یہ معاہدہ باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہوگیا۔
تاریخی اہمیت
اگرچہ معاہدۂ سعد آباد کو دوسری جنگِ عظیم یا یورپ کے بڑے سیاسی واقعات، خصوصاً جرمنی میں ایڈولف ہٹلر کے عروج، کی وجہ سے عالمی سطح پر زیادہ توجہ حاصل نہ ہوسکی، لیکن علاقائی تاریخ میں اس کی اپنی ایک منفرد اہمیت ہے۔
یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کے آزاد ممالک کی جانب سے علاقائی تعاون، امن اور باہمی اعتماد قائم کرنے کی پہلی منظم سفارتی کوششوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے ترکی، ایران، عراق اور افغانستان کے درمیان مستقل سفارتی روابط کی بنیاد رکھی اور دوسری جنگِ عظیم کے ابتدائی برسوں میں ان ممالک کی غیر جانبداری برقرار رکھنے میں بھی ایک حد تک کردار ادا کیا۔
آج کے تناظر میں معاہدۂ سعد آباد
آج جب مشرقِ وسطیٰ مختلف سیاسی، سلامتی اور جغرافیائی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، معاہدۂ سعد آباد اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ علاقائی امن کا سب سے مؤثر راستہ باہمی اعتماد، سفارت کاری، مذاکرات اور مشترکہ مفادات کا احترام ہے۔
اگرچہ یہ معاہدہ اپنی مدت پوری ہونے کے بعد ختم ہوگیا، لیکن اس کا بنیادی پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے کہ پائیدار امن طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ مکالمے، تعاون اور ہمسائیگی کے مثبت تعلقات سے قائم ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں