جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی/: مرکزی وزیر زراعت، کسان بہبود اور دیہی ترقی شیوراج سنگھ چوہان نے افغانستان کے وزیر زراعت، آبپاشی و مویشی پروری مولوی عطاء اللہ عمری اور ان کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں نئی شراکت داری قائم کرنے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ اجلاس میں وزارت زراعت اور ICAR کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔
شیوراج سنگھ چوہان نے افغان وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور افغانستان کے درمیان صدیوں پر محیط تہذیبی، تاریخی اور عوامی روابط موجود ہیں اور بھارت ہمیشہ افغانستان کے زرعی شعبے کی ترقی، غذائی تحفظ اور کسانوں کی خوشحالی میں تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی جدید زرعی ٹیکنالوجی، سائنسی مہارت، تحقیقی اداروں اور کامیاب تجربات کو افغانستان کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
بھارتی وزیر نے کہا کہ ICAR کے ذریعے مشترکہ تحقیقی منصوبے، سائنس دانوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلے، لیبارٹری تعاون، تربیتی پروگرام اور زرعی ماہرین کی استعداد کار میں اضافے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے افغانستان کی زرعی پیداوار میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
افغان وزیر مولوی عطاء اللہ عمری نے افغانستان کے زرعی شعبے کے لیے بھارت کی مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک گندم کی پیداوار میں اضافے، معیاری بیجوں کی دستیابی، جدید آبپاشی نظام، مویشی پروری، زرعی تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی، زرعی کاروبار اور نجی شعبے کی شراکت کو فروغ دینے میں بھارت کے ساتھ مزید تعاون کا خواہاں ہے۔
دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ زرعی اجناس، معیاری بیجوں اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تجارت کو فروغ دیا جائے، نجی شعبے کے درمیان روابط مضبوط کیے جائیں اور افغان زرعی مصنوعات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی آسان بنائی جائے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ زراعت اور مویشی پروری کے شعبوں میں طویل مدتی تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا، جو مشترکہ ترجیحات کی بنیاد پر جامع روڈ میپ تیار کرے گا اور دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان مستقل رابطے کو فروغ دے گا۔
ملاقات کے اختتام پر شیوراج سنگھ چوہان نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات بھارت اور افغانستان کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ زراعت، غذائی تحفظ، تحقیق، اختراع، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور کسانوں کی خوشحالی کے لیے نئے امکانات پیدا کریں گے۔


