
جاوید اختر بھارتی
سب سے پہلے آغاز اپنے نظرئیے سے سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے قدموں کی جوتیاں راقم الحروف کے سر کا تاج ہیں امام عالی مقام کے قدموں کی دھول راقم الحروف کی آنکھوں کا سرمہ ہے لعنت ہو ان بدبختوں پر جنہوں نے باغ گل زہرہ کے پھول کو شہید کیا فرزند بتول پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے رسول کائنات کے نواسے کی گردن پر تلوار چلائی ،، آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسین منی وانا من الحسین حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں مطلب یہ ہوا کہ حسین سے جس نے محبت کی اس نے نبی سے محبت کی جس نے نبی سے محبت کی اس نے حسین سے محبت کی امام علی مقام کے رتبے کا کیا کہنا کہ ممبر رسول پر اپنے نانا کے ساتھ بیٹھے کائنات کے ذرے ذرے کا نبی جب سجدے میں جائیں تو امام علی مقام پشت پر سوار ہو جائیں تو محبت پیار شفقت کا یہ عالم کہ نبی سید الکونین اپنے سجدے کو طول دے دیں اس سے امام حسین کے مقام و مرتبے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ امام حسین سے بغض رکھنا دنیا و اخرت کے لئے ذلت و رسوائی اور تباہی کا ذریعہ ہے،، ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے سچی محبت رکھے-جہاں دنیاوی محبت کی بات آتی ہے تو ہم دن اور رات ایک کر دیتے ہیں اور جہاں رب کے قران اور نبی کے فرمان سے محبت کی بات آتی ہے تو ہم زبانی جمع خرچی سے کام چلاتے ہیں روایات اختلافات اور بے جا ناقص خرافاتی رسم و رواج کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں وہاں ہمیں محبت کا اصل معیار اور اصل پیمانہ کیوں یاد نہیں اتا؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مجلسوں میں یہ کہا جاتا ہے کہ سیدنا امام حسین نے سر کٹا کر نماز بچائی یعنی ایک طرف ہمیں حضرت امام حسین کی عظمت کا اعتراف ہے پھر بھی ہم ان کے مشن اور ان کے پیغام پر عمل سے کوسوں دور ہیں،، یقیناً امام عالی مقام کے نام سے سبیلووں کا اہتمام اچھی بات ہے لیکن سبیلوں کے اہتمام میں نماز چھوٹ جائے تو ایسی سبیل سے کوئی فائدہ نہیں، یقیناً امام عالی مقام کے نام کی مجلس کا اہتمام اچھی بات ہے لیکن اس مجلس کے انتظام میں نماز چھوٹ جائے تو ایسی مجلس کا کوئی فائدہ نہیں،، یقیناً جلسہ سیرۃ النبی و میلادالنبی کا اہتمام اچھی بات ہے لیکن اس کے انتظام میں، اسٹیج کی سجاوٹ میں، ٹینٹ و شامیانا لگانے میں نماز چھوٹ جائے تو ایسے جلسوں اور جلوسوں اور اسٹیج کا کوئی فائدہ نہیں
حضرت امام حسینؓ نے کربلا کے میدان میں ظلم، جبر، بھوک، پیاس، شہادتِ عزیزان اور ہر قسم کی آزمائش کے باوجود اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ترک نہیں کیا۔ جب نماز کا وقت آیا تو تلواروں اور تیروں کی بارش میں بھی نماز قائم کی گئی، کیونکہ ان کے نزدیک اللہ کی رضا ہر چیز سے بڑھ کر تھی۔
آج ہم خود کو امام حسینؓ کا ماننے والا کہتے ہیں، ان سے محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں، ان کے غم میں مجالس اور جلوسوں میں شریک بھی ہوتے ہیں، لیکن اگر انہی دنوں میں ہماری اپنی نمازیں قضا ہو جائیں، فجر سو کر گزر جائے، ظہر و عصر کاروبار میں رہ جائیں، مغرب و عشاء غفلت کی نذر ہو جائیں، تو ہمیں اپنے دل سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا ہماری محبت صرف دعووں تک محدود ہے؟
امام حسینؓ نے اپنی جان، اپنے اہلِ بیتؓ اور اپنے ساتھیوں کی قربانی دے کر یہ پیغام دیا کہ اللہ تعالیٰ کے دین پر ثابت قدم رہنا ہی کامیابی ہے۔ اگر ہم واقعی حسینی ہیں تو ہماری پہچان بھی سچائی، تقویٰ، عدل، صبر، حسنِ اخلاق اور سب سے بڑھ کر نماز کی پابندی ہونی چاہیے۔
محرم کا اصل پیغام یہ نہیں کہ صرف آنسو بہائے جائیں، بلکہ یہ ہے کہ اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مطابق ڈھالا جائے۔ جو شخص امام حسینؓ سے محبت کرتا ہے، وہ ان کے کردار، ان کی قربانی اور ان کی عبادت سے بھی محبت کرے۔
آئیے عہد کریں کہ اس محرم کے مہینے میں ہم صرف امام حسینؓ کو صرف نمائشی طور پر یاد نہیں کریں گے بلکہ ان کے پیغام پر عمل بھی کریں گے۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کریں گے، گناہوں سے بچیں گے، حق کا ساتھ دیں گے اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں گے۔ یہی امام حسینؓ سے سچی محبت اور حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔
ملک عرب کے تپتے ہوئے صحرا و جنگل ، میدان و بیابان میں بھوک و پیاس سے نڈھال ہوکر ، ظلم و ستم کے پہاڑ سہ کر نماز قضا نہیں کی کیوں ؟ اس لئے کہ نماز میرے آقا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور امام حسین میرے آقا کے نواسے ہیں ،، یعنی نواسے نے ظلم و جبر کے میدان میں بھی اعلان کردیا کہ او میرے نانا کا کلمہ پڑھنے والوں یاد رکھنا نماز میرے نانا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے –
افسوس صد افسوس آج کے دور میں اکثریت میں دیکھا جاتا ہے کہ علماء، خطباء، شعراء وغیرہ ہر چیز کو تجارت کا رنگ دینے میں پیچھے نہیں ہیں،، امام عالی مقام نے کربلا کی سرزمین پر مصائب کو برداشت کیا اور صبر کا دامن تھامے رکھا اور آج کا خطیب اسی مصائپ کو بیان کرنے کا منہ مانگی قیمت وصول کرنے میں لگا رہتا ہے اور اپنی تقریر جمانے کے لئے ابو مخنف لوط بن یحیی کی غیر معتبر و غیر مستند تحریر و روایات کا سہارا لیتا ہے اور ایسی ایسی فرضی و من گھڑت روایات بیان کرتا ہے کہ خود امام عالی مقام کی توہین تک کر بیٹھتا ہے اور ایسے خطیبوں کے روئیے سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا مقصد صرف رونا رلانا ہوتا ہے یقیناً ایسے خطباء بھی لعنت کے ہی مستحق ہیں ،، ان میں بعض خطباء ایسے ہیں کہ وہ اپنی چرب زبانی کے آگے ادب لحاظ کو بھی بالائے طاق رکھ دیتے ہیں امام عالی مقام کی شان میں پچپن سال کا بوڑھا کہنا کیا یہ ادب کے خلاف نہیں ہے،، بالکل ادب کے خلاف ہے،، چرب زبانی کا حال تو یہ ہے کہ ایک خطیب نے جذباتی انداز میں بولتے ہوئے کہتا ہے کہ امام عالی مقام کا گھوڑا پوری رات دھوپ میں کھڑا رہا،، یہ حال ہے آج کے دور کے بعض خطباء و مقررین کا انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہماری بات دلائل پر مبنی ہے یا ہوائی ریومر ہے-


