پیٹرول میں اِیتھنال : نتائج پر اُٹھتے سوال

 

اختر جمال عثمانی

آج کل ہندوستان میں پیٹرول میں ایتھنال (Ethanol) ملانے کے حکومتی منصوبے پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔ سوشل میڈیا، اخبارات، ٹی وی مباحثوں اور عدالتوں تک اس موضوع پر الگ الگ طرح کی رائیں سامنے آ رہی ہیں۔ حکومت اسے ملک کی معیشت، کسانوں اور ماحولیات کے لیے مفید قرار د دے رہی ہے ، جبکہ بہت سے شہری اس کے نقصانات، گاڑیوں پر اثرات اور حکومتی پالیسی کے طریقہ کار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ایتھنال ایک قسم کی الکحل ہے جو گنے، مکئی اور بعض دوسری زرعی اجناس سے تیار کی جاتی ہے۔ حکومت اسے پیٹرول میں ملا کر بطور ایندھن استعمال کر رہی ہے۔ اس وقت ہندوستان میں E10 اور E20 یعنی دس سے بیس فیصد تک ایتھنال ملا ہوا پیٹرول فروخت کیا جا رہا ہے۔حکومت کے مطابق مقصد یہ ہے کہ کچے تیل کی درآمد پر انحصار کم ہو، زرمبادلہ کی بچت ہو، کسانوں کی آمدنی بڑھے اور ماحول کو کم نقصان پہنچے۔ہندوستان اپنی پیٹرول کی ضرورت کا بڑا حصہ بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے۔ اگر پیٹرول میں بیس فیصد ایتھنال شامل کیا جائے تو کروڑوں ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے، جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثر پڑے گا۔چونکہ ایتھنال گنے، مکئی اور دیگر زرعی پیداوار سے تیار ہوتا ہے، اس لیے اس کی طلب بڑھنے سے کسانوں کو اپنی فصلوں کے لیے اچھی مارکیٹ مل سکتی ہے اور ان کی آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ایتھنال کو نسبتاً صاف ایندھن تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے کاربن کے اخراج میں کمی آ سکتی ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔برازیل اور امریکہ جیسے کئی ممالک برسوں سے ایتھنال ملا ہوا ایندھن استعمال کر رہے ہیں۔ ان ممالک کے تجربات کو دیکھتے ہوئے ہندوستان بھی اسی سمت میں پیش قدمی کر رہا ہے۔یہ سارے دعوے حکومت کے ہیں۔
اگرچہ حکومتی دعوے اپنی جگہ ہیں، لیکن عوام کے ایک بڑے طبقے میں کئی خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔ پہلے حکومت کی جانب سے اسے ایک بڑا تجربہ قرار دیا گیا۔ تو سوال اٹھتا ہے کہ اگر ایتھنال بلینڈنگ کے طویل مدتی اثرات کا ابھی مکمل اندازہ نہیں ہے، تو کروڑوں گاڑیوں پر ایک ساتھ اس طرح کا تجربہ کیوں کیا جا رہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب کسی نئی چیز کا تجربہ کیا جاتا ہے تو عموماً محدود پیمانے پر کیا جاتا ہے، لیکن یہاں تقریباً چالیس کروڑ رجسٹرڈ گاڑیوں والے ملک میں بڑے پیمانے پر یہ پالیسی نافذ کی جا رہی ہے۔ لوگ اس معاملے کا موازنہ کورونا ویکسین کے دور سے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس طرح اس وقت جلدی میں فیصلے کیے گئے، اسی طرح اب بھی عوام کو ایک بڑے تجربے کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔اگر گاڑیوں کو نقصان ہوا تو ذمہ داری کس کی ہوگی۔یہ ایک اہم عوامی سوال ہے۔اگر مستقبل میں گاڑیوں کے انجن، فیول سسٹم یا دیگر پرزوں کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔کیا حکومت اس نقصان کی تلافی کرے گی۔یا پھر حسب روایت یہ کہہ دیا جائے گا کہ لوگوں کو پہلے سے معلومات فراہم کر دی گئی تھیں۔یہ سوالات ابھی تک عوامی بحث کا حصہ ہیں۔گاڑیوں پر ممکنہ اثراتماہرین کے مطابق E20 ایندھن کے اثرات کا انحصار گاڑی کی ساخت اور ٹیکنالوجی پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سے 2023 قبل بنی گاڑیوں کے انجن E20 کے مطابق نہیں ہیں جس کی وجہ سے اس طرح کی بے شمار شکایتیں آرہی ہیں کہ اس ایندھن کے استعمال سے گاڑی کی مائلیج کم ہوئی ، رفتار میں کمی آئی اور انجن بری طرح متاثر ہوا ۔ صارفین ان خرابیوں کے لئے ایندھن کو ذمہدار قرار دے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ اور بھی نقصانات سامنے آ رہے ہیں ایتھنال نمی کو جذب کرتا ہے۔ اگر پانی کی مقدار بڑھ جائے تو پرانے ماڈل کی گاڑیوں کے فیول ٹینک، پائپ اور انجیکٹر میں زنگ لگنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ربڑ اور پلاسٹک کے پرزوں پر اثر پڑ سکتا ہے ۔پرانی گاڑیوں میں استعمال ہونے والی ربڑ کی نلکیاں، سیل اور گیسکیٹ ایتھنال کے مسلسل استعمال سے متاثر ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں رساؤ یا دیگر خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ چونکہ ایتھنال کی توانائی کی مقدار پیٹرول سے کم ہوتی ہے، اس لیے لوگ مائلیج میں کمی کی شکایت کرتے ہیں۔ کچھ افراد کے مطابق ان کی گاڑی پہلے کے مقابلے میں فی لیٹر کم چل رہی ہے۔تاہم، اصل فرق گاڑی کے ماڈل، انجن کی ٹیکنالوجی اور ڈرائیونگ کے انداز پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ ایتھنال والے ایندھن میں سرد علاقوں میں گاڑی اسٹارٹ ہونے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔فیول پمپ اور انجیکٹر پر اثراتایتھنال کی مختلف کیمیائی خصوصیات کی وجہ سے بعض پرزوں کی عمر کم ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان گاڑیوں میں جو E20 کے مطابق ڈیزائن نہیں کی گئی ہیں۔ کاربوریٹر والی پرانی گاڑیاںپرانی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں میں کاربوریٹر کے مسائل، جیٹ بند ہونے یا ایندھن کی کم یا زیادہ فراہمی جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔نئی اور پرانی گاڑیوں کی ٹیکنولوجی میں فرق ہے۔ آٹو موبائل کمپنیاں اب E20 کے مطابق انجن تیار کر رہی ہیں۔ نئی BS6 فیز-2 گاڑیوں کو بھی اسی معیار کے مطابق بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔لیکن کئی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ نئی گاڑیوں میں بھی مائلیج کم ہونے، انجن کی آواز بدلنے یا دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایتھینال بنانے میں کثیر مقدار میں پانی کا استعمال کیا جاتا ہے ، ملک میں پہلے سے ہی بہت سی جگہوں پر صاف پانی کی قلت ہے جس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔
حکومت کی طرف سے نقصانات پر صفائی دینے کی کوششیں بھی جاری ہیں ۔ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پری کا کہنا ہے کہ ریسنگ کاروں میں ایتھینال کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ تیزی سے رفتار پکڑنے میں مدد کرتا ہے ۔ مرکزی وزیر نتن گڈگری جنہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے عوام کی اتنی مخالفت کے باوجود اپنے فیصلے کا دفاع کر رہے ہیں ۔ عوام کا ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایتھنال ملا کر حکومت کو مالی فائدہ ہو رہا ہے، تو اس کا کچھ حصہ صارفین تک کیوں نہیں پہنچ رہا ہے ۔کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب ایتھنال کی قیمت پیٹرول سے کم ہے تو پیٹرول کے نرخ کم ہونے چاہئیں، لیکن حقیقت میں قیمتوں میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔حکومت کا کہنا یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمتیں عالمی منڈی، ٹیکس، کچے تیل کی قیمت اور دیگر عوامل سے بھی متاثر ہوتی ہیں، اس لیے صرف ایتھنال بلینڈنگ کی بنیاد پر قیمتوں میں بڑی کمی کا اندازہ لگانا درست نہیں ہوگا۔غذائی تحفظ اور زرعی وسائل کا سوالایک اور اہم بحث یہ ہے کہ اگر زیادہ مقدار میں گنا اور مکئی ایندھن بنانے کے لیے استعمال ہونے لگیں تو کیا اناج ، شکر وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔عوامی رائے اور سوشل میڈیاسوشل میڈیا پر ہزاروں افراد اپنے تجربات اور شکایات شیئر کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی موٹر سائیکل یا کار کی مائلیج کم ہو گئی ہے، جبکہ بعض افراد کسی خاص فرق سے انکار کرتے ہیں۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر اس مسئلے پر مختلف تجربات اور آراء موجود ہیں، اور ایک متفقہ نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ اب تو ایسی بھی اطلاعات آ رہی ہیں جن میں میں E85 یعنی پچاسی فیصد ایتھنال والے ایندھن کا بھی ذکر کیا جا رہاہے، لیکن ایسے ایندھن کے لیے خصوصی فلیکس فیول گاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ عام گاڑیاں اس کے لیے موزوں نہیں ہوتیں۔لہٰذا اگر مستقبل میں ایسا کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو اس کے لیے الگ تکنیکی معیار اور بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی۔
پیٹرول میں ایتھنال کی ملاوٹ ایندھن کی اہم قومی پالیسی ہے، جس کے اپنے ممکنہ فوائد او نقصانات دونوں ہیں۔ایک طرف یہ کسانوں کی آمدنی، زرمبادلہ کی بچت اور ماحولیات کے لیے مفید قرار دی جا رہی ہے، تو دوسری جانب عوام کے ذہنوں میں گاڑیوں کی کارکردگی، انجن کے ممکنہ نقصانات، مائلیج میں کمی اور حکومتی ذمہ داری سے متعلق سوالات بھی موجود ہیں۔کسی بھی جمہوری معاشرے میں شہریوں کا سوال کرنا ان کا حق ہے، اور حکومت کی ذمہ داری ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ مکمل شفافیت کے ساتھ سائنسی حقائق، تکنیکی رپورٹس اور ممکنہ خطرات سے عوام کو آگاہ کرے۔بالآخر، اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت، کسان، صارفین، آٹو موبائل صنعت اور ماہرین مل کر کس طرح ایک متوازن، محفوظ اور پائیدار راستہ اختیار کرتے ہیں، تاکہ ملک کی ترقی کے ساتھ ساتھ عوامی مفادات اور شہریوں کے اعتماد کا بھی مکمل تحفظ کیا جا سکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

امتحانی پرچہ لیک روکنے کا ترمیمی بل لوک سبھا سے منظور

جنگ نیوز نئی دہلی/لوک سبھا نے بدھ کے روز شدید...

تازہ ترین خبریں

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

امتحانی پرچہ لیک روکنے کا ترمیمی بل لوک سبھا سے منظور

جنگ نیوز نئی دہلی/لوک سبھا نے بدھ کے روز شدید...

پیٹرول میں اِیتھنال : نتائج پر اُٹھتے سوال

 

اختر جمال عثمانی

آج کل ہندوستان میں پیٹرول میں ایتھنال (Ethanol) ملانے کے حکومتی منصوبے پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔ سوشل میڈیا، اخبارات، ٹی وی مباحثوں اور عدالتوں تک اس موضوع پر الگ الگ طرح کی رائیں سامنے آ رہی ہیں۔ حکومت اسے ملک کی معیشت، کسانوں اور ماحولیات کے لیے مفید قرار د دے رہی ہے ، جبکہ بہت سے شہری اس کے نقصانات، گاڑیوں پر اثرات اور حکومتی پالیسی کے طریقہ کار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ایتھنال ایک قسم کی الکحل ہے جو گنے، مکئی اور بعض دوسری زرعی اجناس سے تیار کی جاتی ہے۔ حکومت اسے پیٹرول میں ملا کر بطور ایندھن استعمال کر رہی ہے۔ اس وقت ہندوستان میں E10 اور E20 یعنی دس سے بیس فیصد تک ایتھنال ملا ہوا پیٹرول فروخت کیا جا رہا ہے۔حکومت کے مطابق مقصد یہ ہے کہ کچے تیل کی درآمد پر انحصار کم ہو، زرمبادلہ کی بچت ہو، کسانوں کی آمدنی بڑھے اور ماحول کو کم نقصان پہنچے۔ہندوستان اپنی پیٹرول کی ضرورت کا بڑا حصہ بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے۔ اگر پیٹرول میں بیس فیصد ایتھنال شامل کیا جائے تو کروڑوں ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے، جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثر پڑے گا۔چونکہ ایتھنال گنے، مکئی اور دیگر زرعی پیداوار سے تیار ہوتا ہے، اس لیے اس کی طلب بڑھنے سے کسانوں کو اپنی فصلوں کے لیے اچھی مارکیٹ مل سکتی ہے اور ان کی آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ایتھنال کو نسبتاً صاف ایندھن تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے کاربن کے اخراج میں کمی آ سکتی ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔برازیل اور امریکہ جیسے کئی ممالک برسوں سے ایتھنال ملا ہوا ایندھن استعمال کر رہے ہیں۔ ان ممالک کے تجربات کو دیکھتے ہوئے ہندوستان بھی اسی سمت میں پیش قدمی کر رہا ہے۔یہ سارے دعوے حکومت کے ہیں۔
اگرچہ حکومتی دعوے اپنی جگہ ہیں، لیکن عوام کے ایک بڑے طبقے میں کئی خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔ پہلے حکومت کی جانب سے اسے ایک بڑا تجربہ قرار دیا گیا۔ تو سوال اٹھتا ہے کہ اگر ایتھنال بلینڈنگ کے طویل مدتی اثرات کا ابھی مکمل اندازہ نہیں ہے، تو کروڑوں گاڑیوں پر ایک ساتھ اس طرح کا تجربہ کیوں کیا جا رہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب کسی نئی چیز کا تجربہ کیا جاتا ہے تو عموماً محدود پیمانے پر کیا جاتا ہے، لیکن یہاں تقریباً چالیس کروڑ رجسٹرڈ گاڑیوں والے ملک میں بڑے پیمانے پر یہ پالیسی نافذ کی جا رہی ہے۔ لوگ اس معاملے کا موازنہ کورونا ویکسین کے دور سے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس طرح اس وقت جلدی میں فیصلے کیے گئے، اسی طرح اب بھی عوام کو ایک بڑے تجربے کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔اگر گاڑیوں کو نقصان ہوا تو ذمہ داری کس کی ہوگی۔یہ ایک اہم عوامی سوال ہے۔اگر مستقبل میں گاڑیوں کے انجن، فیول سسٹم یا دیگر پرزوں کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔کیا حکومت اس نقصان کی تلافی کرے گی۔یا پھر حسب روایت یہ کہہ دیا جائے گا کہ لوگوں کو پہلے سے معلومات فراہم کر دی گئی تھیں۔یہ سوالات ابھی تک عوامی بحث کا حصہ ہیں۔گاڑیوں پر ممکنہ اثراتماہرین کے مطابق E20 ایندھن کے اثرات کا انحصار گاڑی کی ساخت اور ٹیکنالوجی پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سے 2023 قبل بنی گاڑیوں کے انجن E20 کے مطابق نہیں ہیں جس کی وجہ سے اس طرح کی بے شمار شکایتیں آرہی ہیں کہ اس ایندھن کے استعمال سے گاڑی کی مائلیج کم ہوئی ، رفتار میں کمی آئی اور انجن بری طرح متاثر ہوا ۔ صارفین ان خرابیوں کے لئے ایندھن کو ذمہدار قرار دے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ اور بھی نقصانات سامنے آ رہے ہیں ایتھنال نمی کو جذب کرتا ہے۔ اگر پانی کی مقدار بڑھ جائے تو پرانے ماڈل کی گاڑیوں کے فیول ٹینک، پائپ اور انجیکٹر میں زنگ لگنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ربڑ اور پلاسٹک کے پرزوں پر اثر پڑ سکتا ہے ۔پرانی گاڑیوں میں استعمال ہونے والی ربڑ کی نلکیاں، سیل اور گیسکیٹ ایتھنال کے مسلسل استعمال سے متاثر ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں رساؤ یا دیگر خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ چونکہ ایتھنال کی توانائی کی مقدار پیٹرول سے کم ہوتی ہے، اس لیے لوگ مائلیج میں کمی کی شکایت کرتے ہیں۔ کچھ افراد کے مطابق ان کی گاڑی پہلے کے مقابلے میں فی لیٹر کم چل رہی ہے۔تاہم، اصل فرق گاڑی کے ماڈل، انجن کی ٹیکنالوجی اور ڈرائیونگ کے انداز پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ ایتھنال والے ایندھن میں سرد علاقوں میں گاڑی اسٹارٹ ہونے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔فیول پمپ اور انجیکٹر پر اثراتایتھنال کی مختلف کیمیائی خصوصیات کی وجہ سے بعض پرزوں کی عمر کم ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان گاڑیوں میں جو E20 کے مطابق ڈیزائن نہیں کی گئی ہیں۔ کاربوریٹر والی پرانی گاڑیاںپرانی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں میں کاربوریٹر کے مسائل، جیٹ بند ہونے یا ایندھن کی کم یا زیادہ فراہمی جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔نئی اور پرانی گاڑیوں کی ٹیکنولوجی میں فرق ہے۔ آٹو موبائل کمپنیاں اب E20 کے مطابق انجن تیار کر رہی ہیں۔ نئی BS6 فیز-2 گاڑیوں کو بھی اسی معیار کے مطابق بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔لیکن کئی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ نئی گاڑیوں میں بھی مائلیج کم ہونے، انجن کی آواز بدلنے یا دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایتھینال بنانے میں کثیر مقدار میں پانی کا استعمال کیا جاتا ہے ، ملک میں پہلے سے ہی بہت سی جگہوں پر صاف پانی کی قلت ہے جس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔
حکومت کی طرف سے نقصانات پر صفائی دینے کی کوششیں بھی جاری ہیں ۔ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پری کا کہنا ہے کہ ریسنگ کاروں میں ایتھینال کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ تیزی سے رفتار پکڑنے میں مدد کرتا ہے ۔ مرکزی وزیر نتن گڈگری جنہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے عوام کی اتنی مخالفت کے باوجود اپنے فیصلے کا دفاع کر رہے ہیں ۔ عوام کا ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایتھنال ملا کر حکومت کو مالی فائدہ ہو رہا ہے، تو اس کا کچھ حصہ صارفین تک کیوں نہیں پہنچ رہا ہے ۔کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب ایتھنال کی قیمت پیٹرول سے کم ہے تو پیٹرول کے نرخ کم ہونے چاہئیں، لیکن حقیقت میں قیمتوں میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔حکومت کا کہنا یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمتیں عالمی منڈی، ٹیکس، کچے تیل کی قیمت اور دیگر عوامل سے بھی متاثر ہوتی ہیں، اس لیے صرف ایتھنال بلینڈنگ کی بنیاد پر قیمتوں میں بڑی کمی کا اندازہ لگانا درست نہیں ہوگا۔غذائی تحفظ اور زرعی وسائل کا سوالایک اور اہم بحث یہ ہے کہ اگر زیادہ مقدار میں گنا اور مکئی ایندھن بنانے کے لیے استعمال ہونے لگیں تو کیا اناج ، شکر وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔عوامی رائے اور سوشل میڈیاسوشل میڈیا پر ہزاروں افراد اپنے تجربات اور شکایات شیئر کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی موٹر سائیکل یا کار کی مائلیج کم ہو گئی ہے، جبکہ بعض افراد کسی خاص فرق سے انکار کرتے ہیں۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر اس مسئلے پر مختلف تجربات اور آراء موجود ہیں، اور ایک متفقہ نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ اب تو ایسی بھی اطلاعات آ رہی ہیں جن میں میں E85 یعنی پچاسی فیصد ایتھنال والے ایندھن کا بھی ذکر کیا جا رہاہے، لیکن ایسے ایندھن کے لیے خصوصی فلیکس فیول گاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ عام گاڑیاں اس کے لیے موزوں نہیں ہوتیں۔لہٰذا اگر مستقبل میں ایسا کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو اس کے لیے الگ تکنیکی معیار اور بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی۔
پیٹرول میں ایتھنال کی ملاوٹ ایندھن کی اہم قومی پالیسی ہے، جس کے اپنے ممکنہ فوائد او نقصانات دونوں ہیں۔ایک طرف یہ کسانوں کی آمدنی، زرمبادلہ کی بچت اور ماحولیات کے لیے مفید قرار دی جا رہی ہے، تو دوسری جانب عوام کے ذہنوں میں گاڑیوں کی کارکردگی، انجن کے ممکنہ نقصانات، مائلیج میں کمی اور حکومتی ذمہ داری سے متعلق سوالات بھی موجود ہیں۔کسی بھی جمہوری معاشرے میں شہریوں کا سوال کرنا ان کا حق ہے، اور حکومت کی ذمہ داری ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ مکمل شفافیت کے ساتھ سائنسی حقائق، تکنیکی رپورٹس اور ممکنہ خطرات سے عوام کو آگاہ کرے۔بالآخر، اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت، کسان، صارفین، آٹو موبائل صنعت اور ماہرین مل کر کس طرح ایک متوازن، محفوظ اور پائیدار راستہ اختیار کرتے ہیں، تاکہ ملک کی ترقی کے ساتھ ساتھ عوامی مفادات اور شہریوں کے اعتماد کا بھی مکمل تحفظ کیا جا سکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں