SKUAST-K کی 36ویں یونیورسٹی کونسل میٹنگ کئی اِدارہ جاتی اِصلاحات کو منظوری

نیوز ڈیسک
سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے بدھ کے روز لوک بھون میں شیرکشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچر ل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ایس کے یو اے ایس ٹی)کشمیر کی 36ویں یونیورسٹی کونسل میٹنگ کی صدارت کی۔
میٹنگ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی، پنچایتی راج اوراِمدادِ باہمی جاوید احمد ڈار، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار ڈاکٹر آشیش چندرورما، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ خزانہ شیلندر کمار، چیئرمین کمیٹی آن ری امیجنگ ایگری کلچر نیتی آیوگ ڈاکٹر اشوک دلوائی، ڈی ڈی جی  آئی سی اے آر ڈاکٹر یشپال ملک، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر پروفیسر نذیر احمد گنائی، وائس چانسلرسکاسٹ جموں ڈاکٹر بی این ترپاٹھی، کمشنر سیکرٹری محکمہ پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ مانیٹرنگ آر ایلس ویز، رجسٹرارسکاسٹ کشمیر ڈاکٹر عظمت عالم خان اور دیگرسینئر افسران نے شرکت کی۔
کونسل نے کئی اِدارہ جاتی اِصلاحات کی منظوری دی جن میں زرعی تحقیقی اِنفارمیشن سسٹم کو ڈائریکٹوریٹ آف اِنفارمیشن ٹیکنالوجی میں اپ گریڈ کرنا، اِنٹرنل کوالٹی ایشورنس سیل کو ڈائریکٹوریٹ آف کوالٹی ایشورنس میں تبدیل کرنا اور عالمی سطح پر رسائی اور طلبأ کی مدد کو مضبوط بنانے کے لئے اِنٹرنیشنل سٹوڈنٹس سیل کا قیام شامل ہے۔
دوران میٹنگ سکاسٹ کشمیر کے مستقبل کے لائحہ عمل کے تحت تین اہم اور خود کفیل منصوبے نیشنل ریفرنس لیبارٹری کے طورپر زرعی اختراع، تجزیات او رسرٹیفکیشن کے لئے ایک مرکز کا قیام ،50 سے زائد سٹارٹ اپ انٹرپرائزز کی میزبانی کے لئے ’زرعی سٹارٹ اپ پارک‘ کا قیام اور عالمی معیار کے مطابق ویٹرنری تعلیم، تحقیق اور طبی خدمات کے لئے ’گلوبل ویٹرنری اسکول‘ کا قیام پیش کئے گئے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یونیورسٹی کے مقامی بنیادوں سے عالمی سطح تک کے شاندار سفر کو سراہا اور علمی، تحقیقی، اختراعات،اَنٹرپرینیورشپ اور بین الاقوامی شراکت داری میں اس کی مسلسل ترقی کی سراہنا کی۔اُنہوں نے کہا کہ سکاسٹ کشمیر کے تبدیلی کے اقدامات اسے ایک سرکردہ، اختراع پر مبنی اور عالمی سطح پر منسلک زرعی یونیورسٹی کے طور پر پوزیشن دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اُنہوںنے وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر کو ہدایت دی کہ سال میں کم از کم دو بار یونیورسٹی کونسل میٹنگ باقاعدگی سے منعقد کی جائیں تاکہ تعلیمی اور اِنتظامی امور کا بروقت جائزہ لیا جا سکے۔
وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے یونیورسٹی رپورٹ پیش کرتے ہوئے سکاسٹ کشمیر کی ایک علاقائی ادارے سے قومی سطح پر تسلیم شدہ یونیورسٹی میں قابلِ ذکر تبدیلی کو اُجاگر کیا جو زراعت اور متعلقہ علوم میں عالمی سطح کے ادارے کے طور پر ابھرنے کے واضح عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ اُنہوں نے تعلیم، تحقیق، اختراع اور سماجی اثرات میں یونیورسٹی کے عزائم کو بھی بیان کیا۔
اُنہوں نے میٹنگ کو بتایا کہ یونیورسٹی نے قومی درجہ بندی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جموں و کشمیر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سب سے بڑا سٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام قائم کیا ہے اور 123 دانشورانہ املاک کے حقوق (انٹلیکچول پراپرٹی رائٹس) بشمول پیٹنٹس، ٹریڈ مارکس اور ڈیزائن درج کئے ہیں جو اِختراع اور تحقیقی عمل کی مضبوط ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کے تقریباً 30 فیصد طلبأ اب جموں و کشمیر سے باہر کے ہیںجو اس کی بڑھتی ہوئی قومی رسائی اور تعلیمی شہرت کو ظاہر کرتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

SKUAST-K کی 36ویں یونیورسٹی کونسل میٹنگ کئی اِدارہ جاتی اِصلاحات کو منظوری

نیوز ڈیسک
سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے بدھ کے روز لوک بھون میں شیرکشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچر ل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ایس کے یو اے ایس ٹی)کشمیر کی 36ویں یونیورسٹی کونسل میٹنگ کی صدارت کی۔
میٹنگ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی، پنچایتی راج اوراِمدادِ باہمی جاوید احمد ڈار، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار ڈاکٹر آشیش چندرورما، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ خزانہ شیلندر کمار، چیئرمین کمیٹی آن ری امیجنگ ایگری کلچر نیتی آیوگ ڈاکٹر اشوک دلوائی، ڈی ڈی جی  آئی سی اے آر ڈاکٹر یشپال ملک، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر پروفیسر نذیر احمد گنائی، وائس چانسلرسکاسٹ جموں ڈاکٹر بی این ترپاٹھی، کمشنر سیکرٹری محکمہ پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ مانیٹرنگ آر ایلس ویز، رجسٹرارسکاسٹ کشمیر ڈاکٹر عظمت عالم خان اور دیگرسینئر افسران نے شرکت کی۔
کونسل نے کئی اِدارہ جاتی اِصلاحات کی منظوری دی جن میں زرعی تحقیقی اِنفارمیشن سسٹم کو ڈائریکٹوریٹ آف اِنفارمیشن ٹیکنالوجی میں اپ گریڈ کرنا، اِنٹرنل کوالٹی ایشورنس سیل کو ڈائریکٹوریٹ آف کوالٹی ایشورنس میں تبدیل کرنا اور عالمی سطح پر رسائی اور طلبأ کی مدد کو مضبوط بنانے کے لئے اِنٹرنیشنل سٹوڈنٹس سیل کا قیام شامل ہے۔
دوران میٹنگ سکاسٹ کشمیر کے مستقبل کے لائحہ عمل کے تحت تین اہم اور خود کفیل منصوبے نیشنل ریفرنس لیبارٹری کے طورپر زرعی اختراع، تجزیات او رسرٹیفکیشن کے لئے ایک مرکز کا قیام ،50 سے زائد سٹارٹ اپ انٹرپرائزز کی میزبانی کے لئے ’زرعی سٹارٹ اپ پارک‘ کا قیام اور عالمی معیار کے مطابق ویٹرنری تعلیم، تحقیق اور طبی خدمات کے لئے ’گلوبل ویٹرنری اسکول‘ کا قیام پیش کئے گئے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یونیورسٹی کے مقامی بنیادوں سے عالمی سطح تک کے شاندار سفر کو سراہا اور علمی، تحقیقی، اختراعات،اَنٹرپرینیورشپ اور بین الاقوامی شراکت داری میں اس کی مسلسل ترقی کی سراہنا کی۔اُنہوں نے کہا کہ سکاسٹ کشمیر کے تبدیلی کے اقدامات اسے ایک سرکردہ، اختراع پر مبنی اور عالمی سطح پر منسلک زرعی یونیورسٹی کے طور پر پوزیشن دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اُنہوںنے وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر کو ہدایت دی کہ سال میں کم از کم دو بار یونیورسٹی کونسل میٹنگ باقاعدگی سے منعقد کی جائیں تاکہ تعلیمی اور اِنتظامی امور کا بروقت جائزہ لیا جا سکے۔
وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے یونیورسٹی رپورٹ پیش کرتے ہوئے سکاسٹ کشمیر کی ایک علاقائی ادارے سے قومی سطح پر تسلیم شدہ یونیورسٹی میں قابلِ ذکر تبدیلی کو اُجاگر کیا جو زراعت اور متعلقہ علوم میں عالمی سطح کے ادارے کے طور پر ابھرنے کے واضح عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ اُنہوں نے تعلیم، تحقیق، اختراع اور سماجی اثرات میں یونیورسٹی کے عزائم کو بھی بیان کیا۔
اُنہوں نے میٹنگ کو بتایا کہ یونیورسٹی نے قومی درجہ بندی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جموں و کشمیر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سب سے بڑا سٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام قائم کیا ہے اور 123 دانشورانہ املاک کے حقوق (انٹلیکچول پراپرٹی رائٹس) بشمول پیٹنٹس، ٹریڈ مارکس اور ڈیزائن درج کئے ہیں جو اِختراع اور تحقیقی عمل کی مضبوط ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کے تقریباً 30 فیصد طلبأ اب جموں و کشمیر سے باہر کے ہیںجو اس کی بڑھتی ہوئی قومی رسائی اور تعلیمی شہرت کو ظاہر کرتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں