جنگ نیوز
اننت ناگ/: شری امرناتھ جی یاترا (SANJY) کے مختلف پہلوؤں پر مبنی دو روزہ پہلی بین الاقوامی کانفرنس بعنوان "The Sacred Journey to Shri Amarnath Ji: A Multi-Dimensional Perspective” کا آج گورنمنٹ کالج فار ویمن (GCW)، اننت ناگ میں آغاز ہوا۔
ضلع انتظامیہ اور GCW کے اشتراک سے منعقدہ اس کانفرنس میں ملک کی ممتاز جامعات، تحقیقی اداروں، تعلیمی ماہرین، محققین، طلبہ، سرکاری افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
افتتاحی اجلاس میں ڈپٹی کمشنر اننت ناگ ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ، پرنسپل پروفیسر خالدہ حسن، پروفیسر منور عالم خالد (Integral University Lucknow)، پروفیسر ہمانشو رائے (JNU)، پروفیسر کپل کمار، پروفیسر فاروق احمد ملک سمیت متعدد ماہرین تعلیم اور محققین شریک ہوئے۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ نے شری امرناتھ جی یاترا کی ثقافتی اور روحانی وراثت کو محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ سالانہ یاترا کشمیر کی کثیر مذہبی اور ہم آہنگ روایات کی زندہ مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی ہمیشہ یاتریوں کی خدمت اور مہمان نوازی میں پیش پیش رہی ہے، جس سے کشمیر کی مشترکہ تہذیبی روایت جھلکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "پیر ویر” کے نام سے معروف یہ خطہ صدیوں سے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کا سنگم رہا ہے، جہاں شیو مت، تصوف اور دیگر فکری روایات نے فروغ پایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال ماحول دوست اور پائیدار یاترا کے لئے کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔
پروفیسر کپل کمار نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر کے عوام کا شری امرناتھ جی یاترا کے ساتھ صدیوں پرانا سماجی اور اخلاقی تعلق رہا ہے اور مقامی لوگ اس مقدس یاترا کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے یاترا کے معاشی فوائد اور قومی یکجہتی میں اس کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔
ماحولیاتی موضوع پر خصوصی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر منور عالم خالد نے یاترا کے دوران ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے، زیرو ویسٹ پالیسی، سبز توانائی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور مقامی برادری کی شمولیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ شری امرناتھ جی یاترا کو پائیدار مذہبی سیاحت کا عالمی نمونہ بنایا جا سکتا ہے۔
اسی دوران پروفیسر ہمانشو رائے نے "Multiculturalism in India: A Historical Trajectory” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے بھارت کی کثیر ثقافتی روایت اور شری امرناتھ جی یاترا کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی۔
کانفرنس کے آرگنائزنگ سیکریٹری پروفیسر فاروق احمد ملک نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورم یاترا کے سماجی، روحانی، ثقافتی اور ماحولیاتی پہلوؤں کو علمی انداز میں سمجھنے کا بہترین موقع فراہم کرے گا۔
کانفرنس کے پہلے روز مختلف تکنیکی اجلاسوں میں محققین اور ماہرین نے تحقیقی مقالے پیش کیے اور یاترا کے سماجی، ثقافتی، روحانی اور ماحولیاتی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دو روزہ کانفرنس کا مقصد شری امرناتھ جی یاترا کے بارے میں کثیرالجہتی علمی فہم کو فروغ دینا اور مختلف شعبہ ہائے علم کے ماہرین کے درمیان بامعنی مکالمے کو آگے بڑھانا ہے۔


