
جاوید قسیم
ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد
اور آگے کیا کروگے تُم خدا ہونے کے بعد
اپنی اپنی جاں بچانے میں سبھی مشغول ہیں
کون سنتا ہے کسی کی حادثہ ہونے کے بعد
کیا خبر تھی جس کی شہہ پر میں خطا کرتا رہا
وہ بھی مُجھ کو چھوڑ دیگا اِک خطا ہونے کے بعد
اور کتنی قسط باقی ہیں ابھی پیارے وطن
میرے خوں کا آخری قطرہ ادا ہونے لے بعد
اپنے دل میں اور، دنیا کی نظر میں اور ہوں
کتنا اچّھا بن گیا ہوں میں برا ہونے کے بعد
یہ بھی ہوگا پھر یقیناً ایک دِن زورِ ستم
ٹوٹ جائے گا ستم کی انتہا ہونے کے بعد


