
رئیس احمد کمار
قاضی گنڈ، کشمیر
رفیہ رسول مغموم اُن چند خواتین ادیباؤں میں شامل ہیں جنہوں نے نہایت قلیل مدت میں فکشن کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ بنیادی طور پر کارٹونسٹ اور صحافی ہونے کے باوجود انہوں نے ادب کے میدان میں قدم رکھ کر اردو دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ سری نگر کے علاقے بچھوارہ، ڈلگیٹ سے تعلق رکھنے والی یہ باصلاحیت اور معروف ادیبہ ابتدا میں ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھتی تھیں، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آج وہ ایک کامیاب کارٹونسٹ، صحافی اور ادیبہ کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں۔
’’پہچان آنسو کی‘‘ ان کی پہلی ادبی کاوش ہے۔ 96 صفحات پر مشتمل یہ ناول ایک خوبصورت اور فکر انگیز تخلیق ہے، جسے انہوں نے کینسر کے باعث دنیا سے رخصت ہونے والے افراد اور اپنے مرحوم والد کے نام منسوب کیا ہے۔ اس کتاب کی اشاعت میں جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی کا مالی تعاون بھی شامل رہا ہے۔
’’حرفِ چند‘‘ کے عنوان سے معروف ادیب ڈاکٹر فرید پربتی نے ناول کا تعارف پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کی زبان عصرِ حاضر کے ناولوں کی طرح سادہ، رواں اور دلکش ہے۔ کتاب کے ایک صفحے پر مصنفہ نے اپنے والدِ محترم کو مؤثر اور پُرخلوص الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے، جبکہ ’’اپنے بارے میں‘‘ کے عنوان کے تحت اپنے تعلیمی سفر اور عملی زندگی کے مختلف مراحل کا ذکر کیا ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ کس طرح ڈاکٹر بننے کی خواہش کے باوجود حالات نے انہیں پہلے کارٹون سازی، پھر صحافت اور بالآخر ادب کی دنیا کی جانب راغب کیا، جہاں انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔
ناول کی کہانی دو سہیلیوں، کائنات اور غزالہ، کے گرد گھومتی ہے۔ دونوں اسکول سے لے کر کالج تک ہم جماعت رہیں۔ غزالہ ناز و نعم میں پلی بڑھی تھی، اسی لیے اس کا اندازِ زندگی اور طرزِ عمل دوسروں سے مختلف تھا۔ وہ نہایت خوبصورت، مگر مغرور تھی۔ کالج کا تقریباً ہر لڑکا اس کے قریب آنا چاہتا تھا، مگر وہ کسی کو بھی خاطر میں نہ لاتی تھی، اسی لیے پورے کالج میں مشہور تھی۔
اس کے برعکس کائنات ایک سلجھی ہوئی، باوقار اور حساس لڑکی تھی۔ اس کے والدین ایک سڑک حادثے میں جاں بحق ہو چکے تھے، اس لیے اس کی پرورش اس کے ماموں نے کی تھی۔ یتیمی کے احساس نے اس کے دل میں ہمدردی، ایثار اور خدمتِ خلق کا جذبہ بھر دیا تھا۔ وہ ایک ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتی تھی۔
سلیم دونوں سہیلیوں سے ایک سال سینئر تھا۔ وہ ذہین، بااخلاق اور محنتی نوجوان تھا۔ غزالہ کی خوبصورتی اور شخصیت نے اس کے دل میں محبت کے جذبات پیدا کر دیے تھے۔ وہ اسے اپنی شریکِ حیات بنانا چاہتا تھا، مگر غزالہ نے کبھی اس کی طرف توجہ نہ دی۔ ایک روز سلیم نے دونوں سہیلیوں کو کافی ہاؤس آنے کی دعوت دی۔ غزالہ انکار کرنا چاہتی تھی، مگر کائنات کی رضامندی پر خاموشی سے ساتھ چلی گئی۔
کافی ہاؤس میں سلیم نے اپنے دل کی بات کہہ دی اور غزالہ سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے اسے زندگی کا ساتھی بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ مگر غزالہ نے نہایت تحقیر آمیز انداز میں جواب دیا:
"یہ کہنے سے پہلے اپنی اوقات دیکھ لی ہوتی، دوبارہ ایسی حماقت مت کرنا۔”
یہ الفاظ سلیم کے دل پر گہرا زخم چھوڑ گئے۔ کافی ہاؤس سے نکلتے ہوئے بھی غزالہ نے اسے حقارت بھری نگاہ سے دیکھا۔
امتحانات ختم ہونے کے بعد جب سلیم کی دوبارہ ملاقات کائنات سے ہوئی تو اس نے نہایت سنجیدگی سے سلیم کو سمجھایا کہ وہ غزالہ کو بھول کر اپنی زندگی پر توجہ دے، کیونکہ یک طرفہ محبت انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے۔ مگر سلیم کے دل میں غزالہ کی محبت اس قدر رچ بس چکی تھی کہ اس کی بے اعتنائی اور تلخ رویے کے باوجود وہ اسی کو اپنی شریکِ حیات بنانے کا خواب دیکھتا رہا۔
وقت گزرتا گیا۔ سلیم اپنی محنت اور لگن سے ایک کامیاب معالج بن گیا۔ کائنات نے بھی طب کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کر لیا، جبکہ غزالہ نے انجینئرنگ کا راستہ اختیار کیا۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد زندگی کی راہیں جدا ہو گئیں۔ کائنات نے غزالہ سے رابطہ برقرار رکھنے کی بہت کوشش کی، کئی خطوط بھی ارسال کیے، مگر سب واپس لوٹ آئے۔ یوں غزالہ گویا زمانے کے ہجوم میں کہیں گم ہو گئی۔
برسوں بعد تقدیر نے ایک عجیب موڑ لیا۔ ایک روز ایک شدید بیمار اور بے ہوش خاتون کو ہسپتال لایا گیا۔ جب ڈاکٹر کائنات نے اس کا معائنہ کیا تو حیرت سے اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ کوئی اور نہیں، غزالہ تھی۔ مگر اب وہ پہلے والی خوبصورت، خوداعتماد اور مغرور غزالہ نہ رہی تھی۔ بیماری اور زندگی کے صدمات نے اس کے وجود کو اس قدر بدل دیا تھا کہ اسے پہچاننا مشکل ہو گیا تھا۔
ہوش آنے پر جب دونوں سہیلیوں نے ایک دوسرے کو پہچانا تو ماضی کی تمام یادیں تازہ ہو گئیں۔ کائنات نے اس کے چہرے پر چھائی ہوئی اداسی اور شکستگی کو محسوس کرتے ہوئے نرمی سے پوچھا کہ آخر اس کے ساتھ کیا ہوا۔ غزالہ نے آہستہ آہستہ اپنی داستان سنانی شروع کی۔
کالج کے بعد اس نے انجینئرنگ کالج میں داخلہ لیا، جہاں اس کی ملاقات اپنے ایک سینئر، وسیم، سے ہوئی۔ ابتدا میں یہ محض رسمی شناسائی تھی، مگر وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے۔ وسیم کی توجہ، محبت بھرے انداز اور خلوص کے دعووں نے غزالہ کے دل میں اس کے لیے خاص جگہ بنا دی۔ پھر ایک دن وسیم نے ایک خط کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ غزالہ، جو خود بھی اس کی محبت میں گرفتار ہو چکی تھی، یہ خط پڑھ کر خوشی سے نہال ہو گئی۔ اس کے بعد ملاقاتوں، وعدوں اور خوابوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔
دونوں نے زندگی بھر ساتھ نبھانے کے عہد کیے۔ وسیم تعلیم میں غزالہ سے سینئر تھا، اس لیے وہ پہلے کالج سے فارغ ہو گیا، جبکہ غزالہ کو مزید دو سال وہیں رہنا تھا۔ مگر کالج چھوڑنے کے بعد وسیم نے غزالہ کو یکسر نظرانداز کر دیا۔ یہاں تک کہ اس نے کبھی اس سے ملنے یا اس کی خیریت دریافت کرنے کی بھی زحمت نہ کی۔
وسیم کے اس رویے نے غزالہ کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا۔ والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کے ناطے اس نے اپنی زندگی کے بے شمار حسین خواب سجا رکھے تھے، مگر وہ سب پل بھر میں چکنا چور ہو گئے۔ وہ غم، تنہائی اور پریشانیوں کے ایسے دلدل میں جا پھنسی جہاں سے نکلنا اس کے لیے ناممکن سا محسوس ہونے لگا۔ ڈاکٹروں اور معالجوں سے رجوع کیا گیا، مگر دل کے زخموں کا کوئی مداوا نہ ہو سکا۔ والدین نے کئی بار اس کی شادی کی بات چھیڑی، مگر اس نے ہر پیشکش مسترد کر دی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت صرف وسیم کا چہرہ گردش کرتا رہتا تھا۔
غزالہ کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک رشتے آئے، مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہی۔ وسیم سے رابطہ کرنے کی خواہش میں اس نے اس کے دوست عامر سے ملاقات کی۔ کچھ عرصے بعد وسیم نے خود آنے کے بجائے ایک خط بھیجا، جس میں اس نے لکھا کہ اس کے والدین نے اس کی شادی ایک قریبی رشتہ دار کی بیٹی سے کر دی ہے۔
یہ خبر غزالہ پر بجلی بن کر گری۔ وہ اندر ہی اندر ٹوٹ گئی۔ ادھر اس کے والدین بھی یکے بعد دیگرے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ تنہائی، محرومی اور ناکام محبت کے دکھ نے اس کی زندگی اجیرن بنا دی۔ جب اس کی حالت انتہائی خراب ہو گئی تو ایک رشتہ دار اسے ہسپتال لے آیا، جہاں اتفاق سے ڈاکٹر کائنات تعینات تھی۔ اس نے غزالہ کو فوراً پہچان لیا اور اس کی داستانِ غم سن کر بے حد افسردہ ہوئی۔
اسی ہسپتال میں ڈاکٹر سلیم بھی اپنی بھابی کی عیادت کے لیے آیا ہوا تھا۔ وہ اب ایک نامور معالج بن چکا تھا، مگر آج تک غیر شادی شدہ تھا، کیونکہ اس کے دل میں غزالہ کی محبت بدستور زندہ تھی۔ ڈاکٹر کائنات کو امید کی ایک کرن دکھائی دی۔ اس نے سوچا کہ اب غزالہ کو تنہائی سے نجات دلائی جا سکتی ہے اور وہ اسے سلیم سے ضرور ملائے گی۔
مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اچانک سلیم کی بھابی انتقال کر گئیں اور ہسپتال میں کہرام مچ گیا۔ جب غزالہ نے رونے والوں کی طرف دیکھا تو چونک کر بول اٹھی:
"ارے! یہ تو وسیم ہے!”
وقت گزرتا گیا۔ ایک ماہ بعد جب ڈاکٹر سلیم، ڈاکٹر کائنات سے ملنے ہسپتال پہنچا تو اسے ایک اور المناک خبر ملی۔ ڈاکٹر کائنات کینسر کے باعث اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں۔ سلیم خاموشی سے ان کی قبر پر پہنچا۔ دیر تک خاموش کھڑا وہ یہی سوچتا رہا کہ زندگی کبھی کبھی انسان سے وہ سب کچھ چھین لیتی ہے جسے وہ سب سے زیادہ عزیز سمجھتا ہے۔ قبرستان کی خاموش فضا میں محبتیں، آرزوئیں اور ادھورے خواب ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکے تھے۔
رافیہ رسول مغموم کا یہ شاہکار ناول نہ صرف موجودہ دور کی مادہ پرستی اور زوال پذیر انسانی اقدار کی بھرپور عکاسی کرتا ہے بلکہ سنجیدہ قارئین کو یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ وادیٔ کشمیر کی نسوانی افسانوی آوازیں اپنی فکری گہرائی، فنی پختگی اور تخلیقی صلاحیتوں کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔ مصنفہ نے الفاظ کے دلکش اور بامحاورہ استعمال سے ناول کو ایسی خوبصورتی عطا کی ہے کہ یہ قارئین کے لیے ایک قیمتی ادبی تحفہ بن گیا ہے۔
رافیہ رسول مغموم زبان و بیان پر مکمل دسترس رکھتی ہیں، فکشن کے تقاضوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور قاری کو ابتدا سے انتہا تک اپنی گرفت میں رکھنے کا ہنر جانتی ہیں۔ سادہ، رواں اور مؤثر زبان نے اس ناول کی دلکشی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بلاشبہ ایسی معیاری ادبی تخلیقات داد و تحسین کی مستحق ہیں۔ ایسے باصلاحیت قلم کاروں کی حوصلہ افزائی نہ صرف ان کی تخلیقی توانائیوں میں اضافہ کرتی ہے بلکہ زبان و ادب کے فروغ اور ارتقا میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔


