
مفتی محمد ثناء الہدی
ڈاکٹر محمد سلیم اللہ ساکن زاہدہ منزل، سعد پور، رمنہ، مظفر پور، حکومت بہار میں اردو مترجم رہے ہیں، سبکدوشی کے بعد اپنے گھر پر متمکن ہیں، دورِ طالب علمی اور اس کے بعد تک پروفیسر قمر اعظم ہاشمی کے ان شاگردوں کی ٹیم میں سرگرم رہے جو اردو زبان و ادب کے حوالہ سے انتہائی سرگرمِ عمل تھی، اس ٹیم میں ڈاکٹر ولی احمد ولی (م 16/ جولائی 2014ء) ڈاکٹر ایس ایم رضوان اللہ اور ڈاکٹر سید حسن عباس کے اسماء گرامی نمایاں تھے، ان لوگوں نے مل کر ڈاکٹر قمر اعظم ہاشمی (م 6/ اپریل 2012ء) کی سرپرستی میں ”ادراک“ کے نام سے ادبی پرچہ مظفر پور سے نکالا تھا، میری یادداشت کے مطابق اس کے صرف دو شمارے نکل پائے تھے اور اس نے اہل علم کے درمیان جگہ بنالی تھی، میری یادداشت خطا نہ کر رہی ہو تو یہ سہ ماہی رسالہ تھا، طویل وقفہ کے بعد مقامِ اشاعت کی تبدیلی کے ساتھ پروفیسر سید حسن عباس نے اسے گوپال پور، سیوان سے نئے آب و تاب سے نکالنا شروع کیا ہے، ڈاکٹر محمد سلیم اللہ سے میرا تعلق کم و بیش نصف صدی کو محیط ہے، میں نے اس محلہ کی مسجد میں کئی سال تراویح میں قرآن سنایا، مسجد چھوٹی تھی، جو اب بھی اپنی اصلی ہیئت میں باقی ہے، لیکن مصلیان پروفیسر، ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ ہوا کرتے تھے، ان دنوں پروفیسر معراج الحق برق صدر شعبہ اردو فارسی آر ڈی ایس کالج مظفر پور بھی وہیں زاہدہ لاج میں کرایہ کے ایک کمرے میں رہتے تھے اور میرے مقتدی ہوا کرتے تھے، ڈاکٹر فاروق احمد صدیقی نے ڈاکٹر محمد سلیم اللہ کے بارے میں لکھا ہے کہ اردو ادب کے ایک سنجیدہ قاری اور محرمِ اسرار کی حیثیت سے وہ محتاجِ تعارف نہیں ہیں۔
اس تعارف کی ضرورت اس لیے پڑی کہ ”پریم چند کے بعد اردو ناول میں کردار نگاری کا فن“ انہیں ڈاکٹر محمد سلیم اللہ کا تحقیقی مقالہ ہے، جو کافی تاخیر سے طباعت کے مرحلہ سے گذر سکا ہے، فروری 2026ء میں اس کا پہلا ایڈیشن آیا ہے، ایک سو اڑسٹھ صفحات کی اس کتاب کی قیمت تین سو پچاس روپے ہے، تعدادِ اشاعت کم ہو تو قیمت بڑھ ہی جاتی ہے، عبارت پبلی کیشن نئی دہلی سے اس کی طباعت ہوئی ہے، ناشر خود مصنفِ کتاب ہیں، کاغذ، کمپیوٹر نگ، جلد سازی اور ٹائٹل سب معیاری ہے، اس میں ڈاکٹر محمد سلیم اللہ صاحب کی سلیقگی جھلکتی نہیں چھلکتی ہے، کتاب کا انتساب استاذِ گرامی قدر پروفیسر قمر اعظم ہاشمی کے ساتھ ان لوگوں کے نام ہے، جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے، استاذ کے ساتھ ٹیم کے سرگرم رکن ہونے کی وجہ سے رفقاء بھی انتساب میں جگہ پاگئے ہیں، کتاب کے فلیپ پر ایک طرف استاذ الاساتذہ پروفیسر فاروق احمد صدیقی اور دوسری طرف پروفیسر سید حسن عباس کی تحریریں ہیں، پروفیسر فاروق صدیقی نے لکھا ہے ”اس کی اشاعت سے پریم چند کے بعد اردو ناول میں کردار نگاری کے فن کی تفہیم میں مدد ملے گی“۔
پروفیسر سید حسن عباس نے لکھا ہے ”اگر آپ اس کتاب کا بالاستیعاب مطالعہ فرمائیں تو اندازہ ہوگا کہ اپنے موضوع پر یہ کتاب منفرد نہیں تو قابلِ توجہ مواد کی حامل ضرور ہے، اردو ناولوں میں کرداروں کی اہمیت کے ساتھ ان کے مثبت اور منفی رویوں اور کارکردگیوں کا جتنا عمدہ محاسبہ کیا گیا ہے، اس کے لیے مصنفِ موصوف قابلِ داد ہیں“ اس تحقیقی مقالہ پر 1986ء میں بہار یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی، اس وقت یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد تھی، لیکن اشاعت میں تاخیر کی وجہ سے اس موضوع پر کئی اور کتابیں اشاعت پذیر ہوگئی ہیں، اس کے باوجود اس کتاب کے مندرجات کی اہمیت و افادیت ختم نہیں ہوتی، کتاب میں مواد کی فراہمی اور سلیقہ سے اس کی ترتیب صاف ششتہ ادبی
زبان نے اس کتاب کی رعنائی اور جلوہ سامانی کو ہنوز باقی رکھا ہے۔
یہ سہ بابی کتاب ہے، سطور اولیں کے بعد پہلا باب شروع ہوتا ہے، اس میں ناول میں کردار نگاری کی اہمیت، ناولی کردار اور افراد معاشرہ کا موازنہ اور ناول کے کرداروں کی قسموں پر روشنی ڈالی گئی ہے، جب کہ دوسرے باب میں پریم چند کے بعد اردو ناول میں کردار نگاری کا فن کے ساتھ نمائندہ ناولوں کی کردار نگاری کا جائزہ لیا گیا ہے، جن ناولوں کی کردار نگاری پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے، ان میں پریم چند کی گؤدان، سجاد ظہیر کی لندن کی ایک رات، کرشن چندر کی شکست، عزیز احمد کی گریز، عصمت چغتائی کی ٹیڑھی لکیر، قرۃ العین حیدر کی میرے بھی صنم خانے، قاضی عبدالستار کی شب گزیدہ اور خدیجہ مستور کی آنگن ہے، ان تمام ادیبوں کے نام و کام ناول کے حوالہ سے اپنے اپنے دور میں ممتاز تھے اور قارئین میں ان کی بے حد پذیرائی ہوتی تھی، یہی ان ناولوں کے انتخاب کا جواز پیدا کرتی ہے۔
تیسرے باب میں نتیجہ اور حاصل مقالہ ”جدید ناولوں میں کردار نگاری کا نیا فنی شعور“ کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے، اخیر میں تحقیقی مقالوں کے لوازمات کا خیال کرتے ہوئے حوالہ جاتی کتب کی فہرست بھی دی گئی ہے۔
ناول میں قصہ پن تو ہوتا ہی ہے، اس قصہ کے جو کردار ہوتے ہیں، ان کے مکالمے بود و باش، منظر، پس منظر کی عکاسی اگر قاری کے سامنے چلتی، پھرتی، ہنستی، بولتی، مسائل و مشکلات سے نبردآزما نظر آئے تو قاری کے اندر مطالعہ کا شوق اور تجسس بڑھ جاتا ہے، قصہ نگاری کے ساتھ پیکر تراشی، ماجرہ نگاری بھی ضروری ہے، کیوں کہ کردار اس کے گرد گردش کرتے ہیں اور کردار کو زندہ جاوید بنا دیتے ہیں، پریم چند کے بعد اردو ناول کئ دور سے گزرنا پڑا ہے، ادب برائے زندگی کے قائلین نے کردار کو اس طرح جامد اور معاشی تگ و دو کا حامل بنا دیا کہ ناول خشک اور سپاٹ لگنے لگے، مرکزی کردار تک سے محبت و انسیت اور رومانیت کو نچوڑ کر الگ کر دیا گیا، اس سے کردار نگاری کے فن کو نقصان پہونچا اور اردو ناول کے قارئین کا حلقہ سکڑتا چلا گیا، جدیدیوں نے مزید ظلم یہ کیا کہ کردار کے نام اور کام کو علامتی بنا کر اسے معمہ بنا دیا، جس سے کردار نگاری کے فن کو بڑا نقصان پہونچا، ڈاکٹر محمد سلیم اللہ صاحب کو اس کتاب میں کم از کم ایسے ناولوں کا بھی انتخاب کرنا چاہیے تھا، جو ترقی پسند تحریک کے زیر اثر لکھے گئے ہیں اور وہ جو ادب میں جدیدیت کے دورِ آغاز کی تصنیف ہے۔
میں ان کی کتاب کی آخری سطروں کو نقل کر کے اپنی بات ختم کرتا ہوں، لکھتے ہیں:
”اردو ناول کا کردار برصغیر کی معاشرتی، اخلاقی اور تہذیبی زندگی کے متعلقات اور تغییرات کی بھی نشاندہی کرتا رہا ہے اور اس نے شخصی زندگی کے داخلی احوال و کوائف کو تاریخ و تہذیب کے حقائق کے پس منظر میں پیش کرنے کی کاوش کی ہے، اس نے حیاتِ انسانی کے ہر گوشے کو دیکھا اور پرکھا ہے اور انسان کی ذہنی و عملی سرگرمیوں کی شخصی اور معاشرتی، انفرادی اور اجتماعی، داخلی اور خارجی تاریخ قلم بند کر دی ہے، یہ ہمہ جہت بھی ہے اور تہہ دار بھی اور اس کی سیرت تغیر پذیر حالات کی صحیح ترجمانی کرتی ہے۔“


