
ارشاد عاطفؔ
وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو چھڑا کے ہاتھ
ہر بار جس کو مانگا ہے ہم نے اٹھا کے ہاتھ
ملنا بھی جس سے دل کو گوارہ نہیں مرے
میں آؤں ایسے شخص سے اپنا ملا کے ہاتھ
اس سے کوئی سوال بھی کرنا نہیں مجھے
سونپا ہے اپنا مسئلہ اب یہ خدا کے ہاتھ
دل کے جو زخم تھے سبھی ناسور بن گئے
پہنچے نہیں ہیں پھر بھی تو مجھ تک شفا کے ہاتھ
تب سے وہ لاش بن کر گھر میں پڑا ہوا
بیٹا گیا ہے باپ پہ جب سے اٹھا کے ہاتھ
تم کیسے اپنی جیت کا دم بھر رہے ہو اب
تم نے رکھے ہیں پہلے ہی اپنے کٹا کے ہاتھ
ظالم کے حوصلے یونہی عاطفؔ بلند ہیں
اب روکتا نہیں کوئی جا کے جفا کے ہاتھ


