نیوز ڈیسک
جموں/لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے مرکزی وزارتِ پنچایتی راج اور جموں و کشمیر انتظامیہ کے اشتراک سے منعقدہ علاقائی ورکشاپ ’’خدمت سے خوشحالی، پنچایت کی رہنمائی میں خدمات کی فراہمی‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں عوامی خدمات کی فراہمی، دیہی ترقی اور مقامی حکمرانی کے شعبوں میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کو مرکزِ توجہ بناتے ہوئے خدمات کی فراہمی کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں کیں، جس کے نتیجے میں آن لائن خدمات کی تعداد چند درجن سے بڑھ کر ایک ہزار سے زائد ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر نے برقی خدمات کی فراہمی کے میدان میں قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ پنچایتی اداروں کو بااختیار بنا کر انہیں ترقیاتی عمل کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ بلاک دیوس اور بیک ٹو ولیج جیسے اقدامات کے ذریعے حکومتی خدمات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کی کوششیں کامیاب رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی شمولیت اور جوابدہی کے فروغ سے انتظامیہ اور شہریوں کے درمیان اعتماد مضبوط ہوا ہے۔
منوج سنہا نے مختلف ریاستوں سے آئے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے کامیاب ڈیجیٹل اور عوامی خدمات کے ماڈلز سے استفادہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ خطے میں ڈیجیٹل لین دین میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ہزاروں کامن سروس مراکز دیہی علاقوں میں خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے ہر پنچایت میں اختراعی مراکز کے قیام، منتخب نمائندوں کی تربیت، عوامی شراکت پر مبنی بجٹ سازی، ماحول دوست ترقیاتی منصوبوں اور خواتین کی قیادت کے فروغ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کی پنچایتیں صرف انتظامی اکائیاں نہیں بلکہ اختراع، ترقی، شفافیت اور عوامی اعتماد کے مراکز ہوں گی۔
ورکشاپ کے دوران مختلف ریاستوں کی نمایاں گرام پنچایتوں اور کامن سروس مراکز کو اعزازات سے نوازا گیا۔ تقریب میں سرکاری افسران، پنچایتی نمائندوں، سماجی تنظیموں، ماہرین اور مختلف ریاستوں کے مندوبین نے شرکت کی اور دیہی حکمرانی، ڈیجیٹل تبدیلی اور عوامی خدمات کی بہتری سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے۔


