منقبت آلِ رسول ﷺ

 

اسلم ٹیٹا گڑھی

کرے گا وصف کوئ کیا بیاں سبط پیمبر کا
پسر جو مرتضیٰ کے ہیں پدر معصوم اصغرکا
جواں بیٹے کا لاشہ اپنے ہاتھو میں اُٹھائے ہیں
جگر تو دیکھئے نا کربلا میں ابنِ حیدر کا
اجازت لے لی جب شبیر سے عون و محمد نے
چلا حق پر فدا ہونے کو پھر جوڑا برادر کا
اِدھر قاسم نے بھی شبیر سے ازنِ شہادت لی
چڑھا تب شان سے گھوڑے پہ نوشہ شاہِ شبر کا
سکینہ کی صداء العطش پر حضرتِ عباس
مڑے جب مشک بھر کر سامنا تھا تیر وخنجر کا
لعینِ ثمر نے شبیر کا کاٹا گلا جس دم
بلند ہوتا ہے نعرہ ہر طرف اللہ ہو اکبر کا
یہ عتبہ اور شیبہ کا سنو بدلہ ہی تھا کربل
نچوڑا اِس لئے قاتل لہو آلِ پیمبر کا
عجب ٹکراؤ تھا باطل سے لوگو حق پرستوں کا
ہزاور تھے اُدھر لیکن اِدھر لشکر بہتر کا
زباں سے کر نہ پائے گا تو ذکرِ شاہِ اسلم
قلم سے بھی عیاں ہو گا کہاں غم آلِ اطہر کا ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ڈیجیٹل گرفتاری کا اور سائبر دھوکہ دہی

ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر ہونے والی دھوکہ دہی...

ابتدائی موسمیاتی اپڈیٹ

ایک مغربی ہواؤں کا سلسلہ (Western Disturbance) 11 سے...

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

تازہ ترین خبریں

ڈیجیٹل گرفتاری کا اور سائبر دھوکہ دہی

ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر ہونے والی دھوکہ دہی...

ابتدائی موسمیاتی اپڈیٹ

ایک مغربی ہواؤں کا سلسلہ (Western Disturbance) 11 سے...

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

منقبت آلِ رسول ﷺ

 

اسلم ٹیٹا گڑھی

کرے گا وصف کوئ کیا بیاں سبط پیمبر کا
پسر جو مرتضیٰ کے ہیں پدر معصوم اصغرکا
جواں بیٹے کا لاشہ اپنے ہاتھو میں اُٹھائے ہیں
جگر تو دیکھئے نا کربلا میں ابنِ حیدر کا
اجازت لے لی جب شبیر سے عون و محمد نے
چلا حق پر فدا ہونے کو پھر جوڑا برادر کا
اِدھر قاسم نے بھی شبیر سے ازنِ شہادت لی
چڑھا تب شان سے گھوڑے پہ نوشہ شاہِ شبر کا
سکینہ کی صداء العطش پر حضرتِ عباس
مڑے جب مشک بھر کر سامنا تھا تیر وخنجر کا
لعینِ ثمر نے شبیر کا کاٹا گلا جس دم
بلند ہوتا ہے نعرہ ہر طرف اللہ ہو اکبر کا
یہ عتبہ اور شیبہ کا سنو بدلہ ہی تھا کربل
نچوڑا اِس لئے قاتل لہو آلِ پیمبر کا
عجب ٹکراؤ تھا باطل سے لوگو حق پرستوں کا
ہزاور تھے اُدھر لیکن اِدھر لشکر بہتر کا
زباں سے کر نہ پائے گا تو ذکرِ شاہِ اسلم
قلم سے بھی عیاں ہو گا کہاں غم آلِ اطہر کا ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں