اسلم ٹیٹا گڑھی
کرے گا وصف کوئ کیا بیاں سبط پیمبر کا
پسر جو مرتضیٰ کے ہیں پدر معصوم اصغرکا
جواں بیٹے کا لاشہ اپنے ہاتھو میں اُٹھائے ہیں
جگر تو دیکھئے نا کربلا میں ابنِ حیدر کا
اجازت لے لی جب شبیر سے عون و محمد نے
چلا حق پر فدا ہونے کو پھر جوڑا برادر کا
اِدھر قاسم نے بھی شبیر سے ازنِ شہادت لی
چڑھا تب شان سے گھوڑے پہ نوشہ شاہِ شبر کا
سکینہ کی صداء العطش پر حضرتِ عباس
مڑے جب مشک بھر کر سامنا تھا تیر وخنجر کا
لعینِ ثمر نے شبیر کا کاٹا گلا جس دم
بلند ہوتا ہے نعرہ ہر طرف اللہ ہو اکبر کا
یہ عتبہ اور شیبہ کا سنو بدلہ ہی تھا کربل
نچوڑا اِس لئے قاتل لہو آلِ پیمبر کا
عجب ٹکراؤ تھا باطل سے لوگو حق پرستوں کا
ہزاور تھے اُدھر لیکن اِدھر لشکر بہتر کا
زباں سے کر نہ پائے گا تو ذکرِ شاہِ اسلم
قلم سے بھی عیاں ہو گا کہاں غم آلِ اطہر کا ۔


