صحت کے شعبے میں جوابدہی کب آئے گی؟

جموں و کشمیر میں صحت عامہ کا نظام ایک بار پھر سوالات کی زد میں ہے۔ ضلع اسپتال بانڈی پورہ میں زچگی کی خدمات سے متعلق حالیہ واقعہ، جس میں ایک حاملہ خاتون مبینہ طور پر اسپتال سے ڈسچارج کیے جانے کے فوراً بعد بچے کو جنم دینے پر مجبور ہوئی، عوامی تشویش کا باعث بنا ہے۔ دوسری جانب گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ کے ایک ماہر امراضِ قلب کو پی ایم جے اے وائی۔سیہت اسکیم کے تحت مبینہ بے ضابطگیوں کے الزام میں معطل کیا گیا ہے۔ یہ دونوں واقعات بظاہر الگ نوعیت کے ہیں، لیکن ان سے صحت کے نظام میں پائی جانے والی خامیوں اور نگرانی کے فقدان کی عکاسی ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے جموں و کشمیر میں ایسے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ وقتاً فوقتاً طبی غفلت، انتظامی لاپروائی، ناقص سہولیات اور مالی بے ضابطگیوں کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ عوامی دباؤ بڑھنے پر تحقیقات اور انکوائریوں کا اعلان بھی کر دیا جاتا ہے، لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ان تحقیقات کا انجام کیا ہوا، ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی، اور نظام میں بہتری کے لئے کون سے اقدامات اٹھائے گئے، اس بارے میں عوام کو شاذ و نادر ہی آگاہ کیا جاتا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے بلکہ اس تاثر کو بھی مضبوط کرتی ہے کہ انکوائریاں محض وقتی ردعمل اور عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہیں۔ اگر تحقیقات کے نتائج منظر عام پر نہ آئیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا نہ ملے تو احتساب کا پورا عمل بے معنی ہو جاتا ہے۔
صحت کا شعبہ کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہاں معمولی غفلت بھی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ طبی غفلت یا بدعنوانی کے ہر معاملے میں شفاف، غیر جانبدار اور وقت مقررہ کے اندر تحقیقات مکمل کی جائیں۔ مزید یہ کہ ان تحقیقات کی رپورٹیں عوام کے سامنے پیش کی جائیں تاکہ شہری جان سکیں کہ ان کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
حکومتِ جموں و کشمیر اور محکمہ صحت کے لئے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ صرف معطلیوں اور انکوائریوں کے اعلانات تک محدود نہ رہیں، بلکہ جوابدہی کے ایک مؤثر نظام کو یقینی بنائیں۔ جو ڈاکٹر، افسر یا عملہ انسانی جانوں سے کھیلنے یا اپنے فرائض میں سنگین کوتاہی کا مرتکب پایا جائے، اس کے خلاف سخت اور مثالی کارروائی ہونی چاہیے۔ عوام کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ انکوائریوں کا نتیجہ کیا نکلا اور قصورواروں کو کیا سزا دی گئی۔ صحت کے شعبے میں اعتماد اسی وقت بحال ہو سکتا ہے جب شفافیت، جوابدہی اور انصاف صرف نعروں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر نظر آئیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

صحت کے شعبے میں جوابدہی کب آئے گی؟

جموں و کشمیر میں صحت عامہ کا نظام ایک بار پھر سوالات کی زد میں ہے۔ ضلع اسپتال بانڈی پورہ میں زچگی کی خدمات سے متعلق حالیہ واقعہ، جس میں ایک حاملہ خاتون مبینہ طور پر اسپتال سے ڈسچارج کیے جانے کے فوراً بعد بچے کو جنم دینے پر مجبور ہوئی، عوامی تشویش کا باعث بنا ہے۔ دوسری جانب گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ کے ایک ماہر امراضِ قلب کو پی ایم جے اے وائی۔سیہت اسکیم کے تحت مبینہ بے ضابطگیوں کے الزام میں معطل کیا گیا ہے۔ یہ دونوں واقعات بظاہر الگ نوعیت کے ہیں، لیکن ان سے صحت کے نظام میں پائی جانے والی خامیوں اور نگرانی کے فقدان کی عکاسی ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے جموں و کشمیر میں ایسے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ وقتاً فوقتاً طبی غفلت، انتظامی لاپروائی، ناقص سہولیات اور مالی بے ضابطگیوں کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ عوامی دباؤ بڑھنے پر تحقیقات اور انکوائریوں کا اعلان بھی کر دیا جاتا ہے، لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ان تحقیقات کا انجام کیا ہوا، ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی، اور نظام میں بہتری کے لئے کون سے اقدامات اٹھائے گئے، اس بارے میں عوام کو شاذ و نادر ہی آگاہ کیا جاتا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے بلکہ اس تاثر کو بھی مضبوط کرتی ہے کہ انکوائریاں محض وقتی ردعمل اور عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہیں۔ اگر تحقیقات کے نتائج منظر عام پر نہ آئیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا نہ ملے تو احتساب کا پورا عمل بے معنی ہو جاتا ہے۔
صحت کا شعبہ کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہاں معمولی غفلت بھی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ طبی غفلت یا بدعنوانی کے ہر معاملے میں شفاف، غیر جانبدار اور وقت مقررہ کے اندر تحقیقات مکمل کی جائیں۔ مزید یہ کہ ان تحقیقات کی رپورٹیں عوام کے سامنے پیش کی جائیں تاکہ شہری جان سکیں کہ ان کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
حکومتِ جموں و کشمیر اور محکمہ صحت کے لئے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ صرف معطلیوں اور انکوائریوں کے اعلانات تک محدود نہ رہیں، بلکہ جوابدہی کے ایک مؤثر نظام کو یقینی بنائیں۔ جو ڈاکٹر، افسر یا عملہ انسانی جانوں سے کھیلنے یا اپنے فرائض میں سنگین کوتاہی کا مرتکب پایا جائے، اس کے خلاف سخت اور مثالی کارروائی ہونی چاہیے۔ عوام کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ انکوائریوں کا نتیجہ کیا نکلا اور قصورواروں کو کیا سزا دی گئی۔ صحت کے شعبے میں اعتماد اسی وقت بحال ہو سکتا ہے جب شفافیت، جوابدہی اور انصاف صرف نعروں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر نظر آئیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں