طاقت یا مزاحمت کی فتح؟

تاریخ بعض اوقات ایسے حیران کن موڑ لیتی ہے جن کا تصور بھی مشکل ہوتا ہے۔ فرانس کا شہر ورسائی دنیا بھر میں قومی ذلت اور سیاسی تحقیر کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی پر وہ معاہدہ مسلط کیا گیا تھا جس نے آنے والے عشروں کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ لیکن آج اسی ورسائی کا نام ایک ایسے امن معاہدے سے جڑ رہا ہے جس نے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا حالیہ امن معاہدہ محض دو ممالک کے درمیان ایک سفارتی دستاویز نہیں، بلکہ طاقت، مزاحمت اور سیاسی حقیقتوں کے درمیان جاری کشمکش کا ایک اہم باب ہے۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والی کشیدگی، دھمکیوں، عسکری تیاریوں اور جنگی ماحول کے باوجود معاملہ بالآخر مذاکرات کی میز پر آ کر ختم ہوا۔ یہ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ طاقت کے استعمال کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور بعض اوقات بندوقیں وہ حاصل نہیں کر سکتیں جو مذاکرات حاصل کر لیتے ہیں۔
ایران کے حامی اس معاہدے کو اپنی سیاسی اور سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک ایک ایسا ملک جسے برسوں سے پابندیوں، اقتصادی دباؤ، ہمسایہ ملکوں کی غداری، سفارتی تنہائی اور عسکری دھمکیوں کا سامنا تھا، نہ صرف اپنی ریاستی ساخت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ اپنے مخالفین کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں بھی کامیاب ہوا۔ ان کے خیال میں یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ عزم، استقامت اور طویل المدتی حکمتِ عملی بعض اوقات عسکری برتری کو بھی بے اثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کو فوری طور پر فتح یا شکست کے پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ تاریخ میں بے شمار ایسے معاہدے ہوئے ہیں جو ابتدائی طور پر کامیابی سمجھے گئے، مگر بعد میں اختلافات، بداعتمادی اور بدلتے سیاسی حالات کی نذر ہو گئے۔ اس لئے اصل امتحان معاہدے پر دستخط نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد ہوگا۔
اس پورے منظرنامے میں اسرائیل کا کردار سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو اپنے لئے سب سے بڑا علاقائی چیلنج قرار دیتا آیا ہے اور وہ ہر ایسے سیاسی بندوبست پر تحفظات ظاہر کرتا رہا ہے جس سے ایران کی پوزیشن مضبوط ہوتی ہو۔ اب دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اسرائیل اس نئے معاہدے کے تقاضوں کے مطابق اپنے رویے میں تبدیلی لاتا ہے یا خطے کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔
یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ معاہدہ تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگا یا محض ایک عارضی وقفہ، لیکن ایک حقیقت واضح ہے: طاقتور ترین ریاستیں بھی آخرکار مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہو جاتی ہیں جب جنگ کی قیمت ناقابلِ برداشت ہو جائے۔ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ امن معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے دور کا آغاز ہے یا ایک طویل کشمکش کا محض نیا باب۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

تازہ ترین خبریں

کل کو موسم کا گرم ترین دن متوقع۔ محکمہ موسمیات

اگلے 2-3 دنوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں...

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

طاقت یا مزاحمت کی فتح؟

تاریخ بعض اوقات ایسے حیران کن موڑ لیتی ہے جن کا تصور بھی مشکل ہوتا ہے۔ فرانس کا شہر ورسائی دنیا بھر میں قومی ذلت اور سیاسی تحقیر کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی پر وہ معاہدہ مسلط کیا گیا تھا جس نے آنے والے عشروں کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ لیکن آج اسی ورسائی کا نام ایک ایسے امن معاہدے سے جڑ رہا ہے جس نے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والا حالیہ امن معاہدہ محض دو ممالک کے درمیان ایک سفارتی دستاویز نہیں، بلکہ طاقت، مزاحمت اور سیاسی حقیقتوں کے درمیان جاری کشمکش کا ایک اہم باب ہے۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والی کشیدگی، دھمکیوں، عسکری تیاریوں اور جنگی ماحول کے باوجود معاملہ بالآخر مذاکرات کی میز پر آ کر ختم ہوا۔ یہ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ طاقت کے استعمال کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور بعض اوقات بندوقیں وہ حاصل نہیں کر سکتیں جو مذاکرات حاصل کر لیتے ہیں۔
ایران کے حامی اس معاہدے کو اپنی سیاسی اور سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک ایک ایسا ملک جسے برسوں سے پابندیوں، اقتصادی دباؤ، ہمسایہ ملکوں کی غداری، سفارتی تنہائی اور عسکری دھمکیوں کا سامنا تھا، نہ صرف اپنی ریاستی ساخت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ اپنے مخالفین کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں بھی کامیاب ہوا۔ ان کے خیال میں یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ عزم، استقامت اور طویل المدتی حکمتِ عملی بعض اوقات عسکری برتری کو بھی بے اثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کو فوری طور پر فتح یا شکست کے پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ تاریخ میں بے شمار ایسے معاہدے ہوئے ہیں جو ابتدائی طور پر کامیابی سمجھے گئے، مگر بعد میں اختلافات، بداعتمادی اور بدلتے سیاسی حالات کی نذر ہو گئے۔ اس لئے اصل امتحان معاہدے پر دستخط نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد ہوگا۔
اس پورے منظرنامے میں اسرائیل کا کردار سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو اپنے لئے سب سے بڑا علاقائی چیلنج قرار دیتا آیا ہے اور وہ ہر ایسے سیاسی بندوبست پر تحفظات ظاہر کرتا رہا ہے جس سے ایران کی پوزیشن مضبوط ہوتی ہو۔ اب دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اسرائیل اس نئے معاہدے کے تقاضوں کے مطابق اپنے رویے میں تبدیلی لاتا ہے یا خطے کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔
یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ معاہدہ تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگا یا محض ایک عارضی وقفہ، لیکن ایک حقیقت واضح ہے: طاقتور ترین ریاستیں بھی آخرکار مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہو جاتی ہیں جب جنگ کی قیمت ناقابلِ برداشت ہو جائے۔ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ امن معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے دور کا آغاز ہے یا ایک طویل کشمکش کا محض نیا باب۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں