غزل

ساحلؔ عرفان شفیع
گلاس با غ کھاگ

لوگ حقیقت سے نظریں چرانے میں لگے ہیں
اپنے چہروں پہ جھوٹ سجانے میں لگے ہیں
خود تو اندھیروں میں بھٹکتے ہیں مگر
روشنی اوروں کو دکھانے میں لگے ہیں
نفرتوں کی آگ دلوں میں بھٹکانے والے
الفت کے ترانے سنانے میں لگے ہیں

حقیر خواہشیں پُوری کرنے کی خاطر
حرام کی دولت کمانے میں لگے ہیں
بستیاں اوروں کی اجھاڑ کر تعجب ہے
لوگ اپنا گھر بسانے میں لگے ہیں
کہاں وہ اسلاف کی دی ہوئی تعلیم
ہم خود کی شناخت مٹانے میں لگے ہیں
محبت کہاں ہے رشتوں میں ساؔحل مگر

جھوٹے رشتے پھر بھی نبھانے میں لگے ہیں

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ڈیجیٹل گرفتاری کا اور سائبر دھوکہ دہی

ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر ہونے والی دھوکہ دہی...

ابتدائی موسمیاتی اپڈیٹ

ایک مغربی ہواؤں کا سلسلہ (Western Disturbance) 11 سے...

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

تازہ ترین خبریں

ڈیجیٹل گرفتاری کا اور سائبر دھوکہ دہی

ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر ہونے والی دھوکہ دہی...

ابتدائی موسمیاتی اپڈیٹ

ایک مغربی ہواؤں کا سلسلہ (Western Disturbance) 11 سے...

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

غزل

ساحلؔ عرفان شفیع
گلاس با غ کھاگ

لوگ حقیقت سے نظریں چرانے میں لگے ہیں
اپنے چہروں پہ جھوٹ سجانے میں لگے ہیں
خود تو اندھیروں میں بھٹکتے ہیں مگر
روشنی اوروں کو دکھانے میں لگے ہیں
نفرتوں کی آگ دلوں میں بھٹکانے والے
الفت کے ترانے سنانے میں لگے ہیں

حقیر خواہشیں پُوری کرنے کی خاطر
حرام کی دولت کمانے میں لگے ہیں
بستیاں اوروں کی اجھاڑ کر تعجب ہے
لوگ اپنا گھر بسانے میں لگے ہیں
کہاں وہ اسلاف کی دی ہوئی تعلیم
ہم خود کی شناخت مٹانے میں لگے ہیں
محبت کہاں ہے رشتوں میں ساؔحل مگر

جھوٹے رشتے پھر بھی نبھانے میں لگے ہیں

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں