ٹیکنالوجی میں بھارت کا ابھرتا ہوا کردار

گزشتہ ایک دہائی میں بھارت نے جس تیزی سے تکنیکی میدان میں پیش رفت کی ہے، وہ نہ صرف قومی ترقی کی ایک نمایاں مثال ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا مظہر بھی ہے۔ ایک وقت تھا جب بھارت کو محض ایک بڑی ڈیجیٹل منڈی اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے صارفین کے مرکز کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن آج صورتحال یکسر مختلف ہے۔ بھارت اب ڈیجیٹل عوامی انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم ٹیکنالوجی، سپر کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں اپنی موجودگی منوا کر ایک ابھرتی ہوئی عالمی تکنیکی قوت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
اس تبدیلی کے پیچھے طویل المدتی پالیسی سازی، حکومتی سرمایہ کاری اور "ڈیجیٹل انڈیا” جیسے پروگراموں کا بنیادی کردار رہا ہے۔ ملک بھر میں فائبر نیٹ ورک کی توسیع، تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی اور 5G سروسز کے پھیلاؤ نے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انٹرنیٹ کی رسائی میں اضافے اور ڈیٹا کی کم لاگت نے کروڑوں افراد کو ڈیجیٹل معیشت سے جوڑ دیا ہے۔
بھارت کی اہم کامیابی اس کا ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (DPI) ہے، جس میں آدھار، یو پی آئی، ڈیجی لاکر، کوون اور دیگر پلیٹ فارمز شامل ہیں۔ ان نظاموں نے عوامی خدمات کی فراہمی کو شفاف اور مؤثر بنایا اور دنیا کو یہ بھی دکھایا کہ کس طرح بڑی آبادی والے ملک میں ٹیکنالوجی کو شمولیت، سستی اور رسائی کے اصولوں کے ساتھ نافذ کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد ممالک آج بھارت کے ڈیجیٹل ماڈل میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں بھی بھارت نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔ "انڈیا اے آئی مشن” کے تحت تحقیق، اسٹارٹ اپس، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور نوجوانوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اسی طرح سیمی کنڈکٹر صنعت میں خود کفالت کے لئے شروع کیے گئے اقدامات مستقبل میں بھارت کو عالمی سپلائی چین کا ایک اہم حصہ بنا سکتے ہیں۔ کوانٹم ٹیکنالوجی اور سپر کمپیوٹنگ کے شعبوں میں بھی ملک نے قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔
ٹیکنالوجی کی ترقی صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے انسانی وسائل کی تیاری بھی ضروری ہے۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت نے تحقیق، اعلیٰ تعلیم، ہنرمندی اور صنعت و تعلیمی اداروں کے اشتراک پر خصوصی توجہ دی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، بلاک چین اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل کی معیشت کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔
بھارت کی موجودہ پیش رفت اس حقیقت کی غماز ہے کہ مستقل مزاجی، وژن اور مؤثر پالیسی سازی کے ذریعے ایک ملک عالمی ٹیکنالوجی منظرنامے میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو "وکست بھارت 2047” کا خواب حقیقت کے مزید قریب آ سکتا ہے۔ آج بھارت صرف دنیا کی ٹیکنالوجی استعمال نہیں کر رہا بلکہ مستقبل کی عالمی تکنیکی سمت متعین کرنے والوں میں بھی شامل ہوتا جا رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

ٹیکنالوجی میں بھارت کا ابھرتا ہوا کردار

گزشتہ ایک دہائی میں بھارت نے جس تیزی سے تکنیکی میدان میں پیش رفت کی ہے، وہ نہ صرف قومی ترقی کی ایک نمایاں مثال ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا مظہر بھی ہے۔ ایک وقت تھا جب بھارت کو محض ایک بڑی ڈیجیٹل منڈی اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے صارفین کے مرکز کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن آج صورتحال یکسر مختلف ہے۔ بھارت اب ڈیجیٹل عوامی انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم ٹیکنالوجی، سپر کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں اپنی موجودگی منوا کر ایک ابھرتی ہوئی عالمی تکنیکی قوت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
اس تبدیلی کے پیچھے طویل المدتی پالیسی سازی، حکومتی سرمایہ کاری اور "ڈیجیٹل انڈیا” جیسے پروگراموں کا بنیادی کردار رہا ہے۔ ملک بھر میں فائبر نیٹ ورک کی توسیع، تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی اور 5G سروسز کے پھیلاؤ نے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انٹرنیٹ کی رسائی میں اضافے اور ڈیٹا کی کم لاگت نے کروڑوں افراد کو ڈیجیٹل معیشت سے جوڑ دیا ہے۔
بھارت کی اہم کامیابی اس کا ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (DPI) ہے، جس میں آدھار، یو پی آئی، ڈیجی لاکر، کوون اور دیگر پلیٹ فارمز شامل ہیں۔ ان نظاموں نے عوامی خدمات کی فراہمی کو شفاف اور مؤثر بنایا اور دنیا کو یہ بھی دکھایا کہ کس طرح بڑی آبادی والے ملک میں ٹیکنالوجی کو شمولیت، سستی اور رسائی کے اصولوں کے ساتھ نافذ کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد ممالک آج بھارت کے ڈیجیٹل ماڈل میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں بھی بھارت نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔ "انڈیا اے آئی مشن” کے تحت تحقیق، اسٹارٹ اپس، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور نوجوانوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اسی طرح سیمی کنڈکٹر صنعت میں خود کفالت کے لئے شروع کیے گئے اقدامات مستقبل میں بھارت کو عالمی سپلائی چین کا ایک اہم حصہ بنا سکتے ہیں۔ کوانٹم ٹیکنالوجی اور سپر کمپیوٹنگ کے شعبوں میں بھی ملک نے قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔
ٹیکنالوجی کی ترقی صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے انسانی وسائل کی تیاری بھی ضروری ہے۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت نے تحقیق، اعلیٰ تعلیم، ہنرمندی اور صنعت و تعلیمی اداروں کے اشتراک پر خصوصی توجہ دی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، بلاک چین اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل کی معیشت کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔
بھارت کی موجودہ پیش رفت اس حقیقت کی غماز ہے کہ مستقل مزاجی، وژن اور مؤثر پالیسی سازی کے ذریعے ایک ملک عالمی ٹیکنالوجی منظرنامے میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو "وکست بھارت 2047” کا خواب حقیقت کے مزید قریب آ سکتا ہے۔ آج بھارت صرف دنیا کی ٹیکنالوجی استعمال نہیں کر رہا بلکہ مستقبل کی عالمی تکنیکی سمت متعین کرنے والوں میں بھی شامل ہوتا جا رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون