سرینگر کا نکاسیٔ آب بحران

پیر کے روز صرف ایک گھنٹے کی شدید بارش نے سرینگر کے بڑے حصے کو مفلوج کرکے رکھ دیا اور ایک بار پھر شہر کے نکاسیٔ آب کے نظام کی سنگین ناکامی کو بے نقاب کر دیا۔ سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں، رہائشی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اگر صرف ایک گھنٹے کی بارش سرینگر کے وسیع علاقوں کو پانی میں ڈبو سکتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ منصوبہ بندی، تعمیر اور دیکھ بھال کے مراحل میں کہیں نہ کہیں بنیادی خامیاں موجود ہیں۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ بارشوں کا یہ سلسلہ ایک ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہے تو صورتحال تباہ کن صورت اختیار کر سکتی ہے۔ وسیع پیمانے پر سیلاب، املاک کو نقصان، ضروری خدمات میں خلل اور عوامی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں نکاسیٔ آب کے منصوبوں پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، لیکن ہر بارش کے بعد سڑکوں اور محلوں کا زیرِ آب آ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان منصوبوں کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ یہ صورتحال یا تو ناقص منصوبہ بندی، غیر معیاری تعمیراتی کام، ناکافی دیکھ بھال یا ان تمام عوامل کے مجموعے کی نشاندہی کرتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ متعلقہ حکام ان واقعات کو محض موسمی پریشانی قرار دینے کے بجائے انہیں ایک بڑے شہری بحران کے طور پر دیکھیں۔ پورے نکاسیٔ آب نظام کا جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ماہرینِ تعمیرات، شہری منصوبہ سازوں اور تکنیکی ماہرین کو شامل کرکے ان خامیوں کی نشاندہی کی جائے جو بار بار اس صورتحال کو جنم دیتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ نالوں اور ڈرینوں کی باقاعدہ صفائی بھی ناگزیر ہے۔ کچرے، گاد اور دیگر رکاوٹوں سے بھرے ہوئے نالے بارش کے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور معمولی بارش کو بھی شہری بحران میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ برسات کے موسم سے قبل احتیاطی اقدامات اس مسئلے کی شدت کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں۔
سرینگر ایک جدید اور ترقی یافتہ شہر بننے کی خواہش رکھتا ہے، لیکن جب بنیادی شہری سہولیات ایک گھنٹے کی بارش بھی برداشت نہ کر سکیں تو یہ خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ پیر کے روز پیش آنے والا واقعہ حکام کے لئے ایک واضح انتباہ ہے کہ وقتی اور نمائشی اقدامات کے بجائے مستقل اور مؤثر حل تلاش کیے جائیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

سرینگر کا نکاسیٔ آب بحران

پیر کے روز صرف ایک گھنٹے کی شدید بارش نے سرینگر کے بڑے حصے کو مفلوج کرکے رکھ دیا اور ایک بار پھر شہر کے نکاسیٔ آب کے نظام کی سنگین ناکامی کو بے نقاب کر دیا۔ سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں، رہائشی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اگر صرف ایک گھنٹے کی بارش سرینگر کے وسیع علاقوں کو پانی میں ڈبو سکتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ منصوبہ بندی، تعمیر اور دیکھ بھال کے مراحل میں کہیں نہ کہیں بنیادی خامیاں موجود ہیں۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ بارشوں کا یہ سلسلہ ایک ہفتے یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہے تو صورتحال تباہ کن صورت اختیار کر سکتی ہے۔ وسیع پیمانے پر سیلاب، املاک کو نقصان، ضروری خدمات میں خلل اور عوامی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں نکاسیٔ آب کے منصوبوں پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، لیکن ہر بارش کے بعد سڑکوں اور محلوں کا زیرِ آب آ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان منصوبوں کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ یہ صورتحال یا تو ناقص منصوبہ بندی، غیر معیاری تعمیراتی کام، ناکافی دیکھ بھال یا ان تمام عوامل کے مجموعے کی نشاندہی کرتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ متعلقہ حکام ان واقعات کو محض موسمی پریشانی قرار دینے کے بجائے انہیں ایک بڑے شہری بحران کے طور پر دیکھیں۔ پورے نکاسیٔ آب نظام کا جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ماہرینِ تعمیرات، شہری منصوبہ سازوں اور تکنیکی ماہرین کو شامل کرکے ان خامیوں کی نشاندہی کی جائے جو بار بار اس صورتحال کو جنم دیتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ نالوں اور ڈرینوں کی باقاعدہ صفائی بھی ناگزیر ہے۔ کچرے، گاد اور دیگر رکاوٹوں سے بھرے ہوئے نالے بارش کے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور معمولی بارش کو بھی شہری بحران میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ برسات کے موسم سے قبل احتیاطی اقدامات اس مسئلے کی شدت کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں۔
سرینگر ایک جدید اور ترقی یافتہ شہر بننے کی خواہش رکھتا ہے، لیکن جب بنیادی شہری سہولیات ایک گھنٹے کی بارش بھی برداشت نہ کر سکیں تو یہ خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ پیر کے روز پیش آنے والا واقعہ حکام کے لئے ایک واضح انتباہ ہے کہ وقتی اور نمائشی اقدامات کے بجائے مستقل اور مؤثر حل تلاش کیے جائیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں