کشمیر کے مشہور زعفران کی قیمتوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران 30 فیصد سے زیادہ اضافہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی اہم سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی، عالمی سپلائی چین میں رکاوٹیں اور پیداوار میں کمی نے بین الاقوامی منڈی میں زعفران کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ اس کا فائدہ وقتی طور پر کشمیر کے کاشتکاروں کو ضرور مل رہا ہے، مگر اصل چیلنج اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
دنیا میں زعفران کی پیداوار پر ایران کا غلبہ ہے۔ وہاں پیدا ہونے والی کسی بھی سیاسی یا معاشی بے یقینی کا اثر عالمی منڈی پر فوراً پڑتا ہے۔ کشمیر کو اس وقت انہی حالات کے باعث بہتر قیمتیں مل رہی ہیں، لیکن کسی بھی خطے کی معیشت کو دوسروں کے بحرانوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ پائیدار ترقی کےلئے اپنی پیداوار، معیار اور مارکیٹنگ کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
کشمیر میں زعفران کی کاشت پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب دباؤ کا شکار ہے۔ بے وقت بارشیں، خشک سالی اور درجہ حرارت میں تبدیلیاں زعفران کے پھول اور پیداوار دونوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو بہتر قیمتیں بھی کسانوں کے نقصان کا ازالہ نہیں کر سکیں گی۔
یہ امر قابلِ غور ہے کہ کشمیر کا زعفران اپنے منفرد معیار، خوشبو اور رنگت کے باعث عالمی سطح پر ممتاز مقام رکھتا ہے۔ جغرافیائی شناخت (GI) ٹیگ نے اس کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس کے باوجود پیداوار محدود ہے اور عالمی منڈی میں اس کی موجودگی اس معیار کے مطابق نہیں جس کی یہ مستحق ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ایک جامع اور مؤثر حکمت عملی وضع کرے۔ جدید آبپاشی نظام، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلئے تحقیق، کسانوں کو تکنیکی معاونت، اور بین الاقوامی سطح پر مضبوط برانڈنگ کے ذریعے کشمیر کے زعفران کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ مقصد صرف عالمی منڈی میں موجود رہنا نہیں بلکہ ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد چیلنج کے طور پر ابھرنا ہونا چاہیے۔
زعفران کی موجودہ قیمتیں کشمیر کےلئے ایک نادر موقع ہیں۔ اگر اس موقع سے دانشمندی کے ساتھ فائدہ اٹھایا گیا تو وادی کا یہ "سرخ سونا” نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی زعفران منڈی میں کشمیر کا مقام بھی مزید مستحکم کرے گا۔
زعفران کے لئے سنہری موقع
زعفران کے لئے سنہری موقع
کشمیر کے مشہور زعفران کی قیمتوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران 30 فیصد سے زیادہ اضافہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی اہم سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی، عالمی سپلائی چین میں رکاوٹیں اور پیداوار میں کمی نے بین الاقوامی منڈی میں زعفران کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ اس کا فائدہ وقتی طور پر کشمیر کے کاشتکاروں کو ضرور مل رہا ہے، مگر اصل چیلنج اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
دنیا میں زعفران کی پیداوار پر ایران کا غلبہ ہے۔ وہاں پیدا ہونے والی کسی بھی سیاسی یا معاشی بے یقینی کا اثر عالمی منڈی پر فوراً پڑتا ہے۔ کشمیر کو اس وقت انہی حالات کے باعث بہتر قیمتیں مل رہی ہیں، لیکن کسی بھی خطے کی معیشت کو دوسروں کے بحرانوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ پائیدار ترقی کےلئے اپنی پیداوار، معیار اور مارکیٹنگ کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
کشمیر میں زعفران کی کاشت پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب دباؤ کا شکار ہے۔ بے وقت بارشیں، خشک سالی اور درجہ حرارت میں تبدیلیاں زعفران کے پھول اور پیداوار دونوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو بہتر قیمتیں بھی کسانوں کے نقصان کا ازالہ نہیں کر سکیں گی۔
یہ امر قابلِ غور ہے کہ کشمیر کا زعفران اپنے منفرد معیار، خوشبو اور رنگت کے باعث عالمی سطح پر ممتاز مقام رکھتا ہے۔ جغرافیائی شناخت (GI) ٹیگ نے اس کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس کے باوجود پیداوار محدود ہے اور عالمی منڈی میں اس کی موجودگی اس معیار کے مطابق نہیں جس کی یہ مستحق ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ایک جامع اور مؤثر حکمت عملی وضع کرے۔ جدید آبپاشی نظام، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلئے تحقیق، کسانوں کو تکنیکی معاونت، اور بین الاقوامی سطح پر مضبوط برانڈنگ کے ذریعے کشمیر کے زعفران کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ مقصد صرف عالمی منڈی میں موجود رہنا نہیں بلکہ ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد چیلنج کے طور پر ابھرنا ہونا چاہیے۔
زعفران کی موجودہ قیمتیں کشمیر کےلئے ایک نادر موقع ہیں۔ اگر اس موقع سے دانشمندی کے ساتھ فائدہ اٹھایا گیا تو وادی کا یہ "سرخ سونا” نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی زعفران منڈی میں کشمیر کا مقام بھی مزید مستحکم کرے گا۔


