بھارت کے لئے وقت کی اہم ضرورت

عالمی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی طاقت کا اصل سرچشمہ ان کی معاشی قوت اور تجارتی برتری ہوتی ہے۔ برطانیہ، جاپان، امریکہ اور چین جیسی طاقتیں نہ صرف مضبوط معیشتوں کی حامل رہیں بلکہ انہوں نے سمندری راستوں اور بحری تجارت پر بھی اپنی گرفت مضبوط رکھی۔ آج جب عالمی معیشت توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت کے پیچیدہ نظام سے جڑی ہوئی ہے، تو اہم آبی گزرگاہوں کی جغرافیائی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

حالیہ ایران۔اسرائیل اور امریکہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ ایران نے اس آبی گزرگاہ پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ توانائی کی سپلائی لائنز میں معمولی خلل بھی عالمی منڈیوں کو ہلا سکتا ہے۔ تیل اور گیس کی ترسیل میں کسی بھی رکاوٹ کے اثرات میدانِ جنگ سے کہیں دور عالمی معیشتوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

بھارت کے لئے یہ صورتحال خصوصی تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے اور ان درآمدات کا بیشتر حصہ آبنائے ہرمز سے گزر کر بھارتی بندرگاہوں تک پہنچتا ہے۔ اگر کسی علاقائی تنازع یا سیاسی بحران کے نتیجے میں اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو بھارت کی توانائی سلامتی، صنعتی پیداوار اور معاشی استحکام شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔

اسی لئے نئی دہلی کو اپنی توانائی حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ متبادل سپلائی چینز، قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع، اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر میں اضافہ اور مختلف خطوں سے توانائی کی درآمدات کو متوازن بنانا وقت کا تقاضا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کو اپنے بحری تجارتی اور شپنگ سیکٹر کو بھی مضبوط بنانا ہوگا تاکہ عالمی بحرانوں کے دوران ملکی مفادات کا بہتر تحفظ ممکن ہو سکے۔

بھارتی بحریہ کی صلاحیتوں میں اضافہ اور بحرِ ہند کے خطے میں سفارتی و تجارتی شراکت داریوں کا فروغ بھی اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں جغرافیائی سیاست اور معاشی مفادات ایک دوسرے سے گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں، صرف معاشی ترقی کافی نہیں بلکہ اس ترقی کو محفوظ بنانے کے لئے مضبوط بحری اور توانائی پالیسی بھی ناگزیر ہے۔

آبنائے ہرمز میں حالیہ پیش رفت بھارت کے لئے ایک تنبیہ ہے کہ وہ اپنی توانائی اور تجارتی سلامتی کو کسی ایک راستے یا خطے تک محدود نہ رکھے۔ ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر بھارت کو اپنی اقتصادی خودمختاری اور توانائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے دور رس اور متوازن فیصلے کرنا ہوں گے، کیونکہ مستقبل کی طاقت صرف ترقی میں نہیں بلکہ اس ترقی کے تحفظ میں بھی پوشیدہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

تازہ ترین خبریں

غزل

  ارشاد عاطفؔ وہ بھی چلا ہے ہم سے تو دیکھو...

غزل

  جاوید قسیم ایک پیارا ملک مثلِ کربلا ہونے کے بعد اور...

غزل

  شیخ افلاق حسین سیمانی پلوامہ، کشمیر کس بات کا غم ہے...

نظم

  سیماشکور الجھے ہوئے حالات کو … زنجیر بنا دیتے ہیں جہدِ مسلسل...

سلام بدرگاہ حسین ؑ

  ساؔحل عرفان شفیع حسین ؑ تیری جانثاری کو سلام تیری اعلیٰ...

بھارت کے لئے وقت کی اہم ضرورت

عالمی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی طاقت کا اصل سرچشمہ ان کی معاشی قوت اور تجارتی برتری ہوتی ہے۔ برطانیہ، جاپان، امریکہ اور چین جیسی طاقتیں نہ صرف مضبوط معیشتوں کی حامل رہیں بلکہ انہوں نے سمندری راستوں اور بحری تجارت پر بھی اپنی گرفت مضبوط رکھی۔ آج جب عالمی معیشت توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت کے پیچیدہ نظام سے جڑی ہوئی ہے، تو اہم آبی گزرگاہوں کی جغرافیائی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

حالیہ ایران۔اسرائیل اور امریکہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ ایران نے اس آبی گزرگاہ پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ توانائی کی سپلائی لائنز میں معمولی خلل بھی عالمی منڈیوں کو ہلا سکتا ہے۔ تیل اور گیس کی ترسیل میں کسی بھی رکاوٹ کے اثرات میدانِ جنگ سے کہیں دور عالمی معیشتوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

بھارت کے لئے یہ صورتحال خصوصی تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے اور ان درآمدات کا بیشتر حصہ آبنائے ہرمز سے گزر کر بھارتی بندرگاہوں تک پہنچتا ہے۔ اگر کسی علاقائی تنازع یا سیاسی بحران کے نتیجے میں اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو بھارت کی توانائی سلامتی، صنعتی پیداوار اور معاشی استحکام شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔

اسی لئے نئی دہلی کو اپنی توانائی حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ متبادل سپلائی چینز، قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع، اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر میں اضافہ اور مختلف خطوں سے توانائی کی درآمدات کو متوازن بنانا وقت کا تقاضا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کو اپنے بحری تجارتی اور شپنگ سیکٹر کو بھی مضبوط بنانا ہوگا تاکہ عالمی بحرانوں کے دوران ملکی مفادات کا بہتر تحفظ ممکن ہو سکے۔

بھارتی بحریہ کی صلاحیتوں میں اضافہ اور بحرِ ہند کے خطے میں سفارتی و تجارتی شراکت داریوں کا فروغ بھی اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں جغرافیائی سیاست اور معاشی مفادات ایک دوسرے سے گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں، صرف معاشی ترقی کافی نہیں بلکہ اس ترقی کو محفوظ بنانے کے لئے مضبوط بحری اور توانائی پالیسی بھی ناگزیر ہے۔

آبنائے ہرمز میں حالیہ پیش رفت بھارت کے لئے ایک تنبیہ ہے کہ وہ اپنی توانائی اور تجارتی سلامتی کو کسی ایک راستے یا خطے تک محدود نہ رکھے۔ ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر بھارت کو اپنی اقتصادی خودمختاری اور توانائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے دور رس اور متوازن فیصلے کرنا ہوں گے، کیونکہ مستقبل کی طاقت صرف ترقی میں نہیں بلکہ اس ترقی کے تحفظ میں بھی پوشیدہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں