ارضِ مقدس بھارت سے شکاگو کا سفر — اور پھر ہگلی واپسی

پرتاپ راؤ جادھو

تاریخ گواہ ہے کہ چند نظریات نے سرحدوں کے پار جاکر معاشروں کو تبدیلی سے ہمکنار کیا۔ یوگ بھی بھارت کی قدیم ترین روایات میں سے ایک ہے، جس کا سفر قدیم صحیفوں سے شروع ہو کر عالمی شناخت حاصل کرنے تک وسعت اختیار کر چکا ہے۔

لفظ یوگسنسکرت کے بنیادی لفظ ‘یُج’ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ‘جوڑنا’ یا ‘متحد کرنا’ ہیںفلسفیانہ تحقیق اور عملی نظم و ضبط کے ایک ایسے جامع نظام کا احاطہ کرتا ہے جس کا مقصد انفرادی روح (جیواتما) کا کائناتی شعور (پرماتما) کے ساتھ ملاپ ہے۔
یوگ کے ابتدائی نقوش رگ وید (تقریباً 1500–1200 قبلِ مسیح) میں ملتے ہیں، جہاں ‘تپس’ (ریاضت/تپسیا) اور ‘دھیان’ (مراقبہ) کے تصورات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان نظریات کو اپنشدوں میں مزید آگے بڑھایا گیا، جنہوں نے یوگ کی کئی فلسفیانہ بنیادوں کو واضح کیا۔ تاہم، یہ مہارشی پتنجلی کے ‘یوگ سوتر’ (تقریباً 200 قبلِ مسیح – 400 عیسوی) تھے جنہوں نے یوگ کو اس کا سب سے منظم ڈھانچہکلاسیکی ‘اشٹانگ یوگ’ یا آٹھ حصوں پر مشتمل راستہعطا کیا؛ جس میں یم، نِیَم، آسن، پرانایام، پرتیہار، دھارنا، دھیان اور سمادھی شامل ہیں۔

پتنجلی کے علاوہ، بھگود گیتا یوگ کو زندگی گزارنے کے ایک متحرک فلسفے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ کروکشیتر کے میدانِ جنگ کے پس منظر میں، بھگوان کرشن اور ارجن کے درمیان ہونے والی گفتگو انسانی فرائض، مقصدِ حیات اور روحانی ترقی کے بارے میں عمیق بصیرت انگیز پہلو فراہم کرتی ہے۔ بھگود گیتا میں بیان کردہ مختلف راستوں میں، کرم یوگ (بے غرض عمل کا راستہ)، گیان یوگ (علم کا راستہ)، اور بھکتی یوگ (عقیدت کا راستہ) نجات کے تین عظیم راستے ہیں۔ لہذا، ہندوستان محض یوگ کی جنم بھومی ہی نہیں ہےبلکہ یہ وہ زندہ تہذیب ہے جہاں یوگ اس کے روحانی، ثقافتی اور فلسفیانہ تانے بانے کے حصے کے طور پر، ہزاروں برسوں کے دوران، قدرتی طور پر پروان چڑھا۔

تاہم، نوآبادیاتی اثر و رسوخ کے دور میں تعلیم یافتہ بھارتی معاشرے کے طبقات تیزی سے مغربی فکری ڈھانچوں کے زیرِ اثر آ گئے، اور یوگ سمیت علم کے روایتی نظاموں کو بدلتی ہوئی جدید دنیا میں اکثر ‘غیر اہم’ سمجھا جانے لگا۔ اس اہم دور میں، سوامی وویکانند ایک طاقتور آواز بن کر ابھرے جنہوں نے لوگوں کو یوگ کی اہمیت اور قدر کو دوبارہ دریافت کرنے میں مدد فراہم کی۔

اپنی تعلیمات اور مذاہب کی عالمی پارلیمنٹ میں اپنی تاریخی تقریر کے ذریعے، انہوں نے بھارت کے روحانی ورثے کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرائی اور یوگ کی لازوال حکمت پر ایک نیا اعتماد پیدا کیا۔ انہوں نے ویدانت اور یوگ کے نظریات کو دنیا کے مختلف حصوں کے لوگوں کے ساتھ ساجھا کیا اور یہ دکھایا کہ یوگ صرف ایک مذہبی عمل ہی نہیں بلکہ ذاتی ترقی، اندرونی امن اور خود سازی کا ایک راستہ بھی ہے۔ بیرونِ ملک انہیں جو احترام اور پزیرائی ملی، اس نے بھارتیوں کو اپنی قدیم روایات اور ثقافت پر دوبارہ اعتماد اور فخر حاصل کرنے میں مدد دی۔

شکاگو میںاور بعد ازاں پورے امریکہ اور یورپ میںان کے لیکچرز نے اہلِ مغرب کو راج یوگ (ذہن کے کنٹرول کا شاہی یوگ)، گیان یوگ (عقلی و فکری تمیز کا یوگ)، کرم یوگ (بے غرض خدمت کا یوگ)، اور بھکتی یوگ (عقیدت کا یوگ) جیسے تصورات سے روشناس کرایا۔ پتنجلی کے یوگ سوتروں پر مبنی ان کی کتاب ‘راج یوگ’ (1896)، مغربی دنیا قارئین کے لئے یوگ کے فلسفے کے ابتدائی ترین اور مؤثر ترین تعارفوں میں سے ایک بن گئی۔
راج یوگ پر اپنے لیکچرز میں، سوامی وویکانند نے یوگ کو انسانی شعور کی اندرونی جہتوں کو تلاش کرنے کے لئے ایک منظم اور تجرباتی ضابطے کے طور پر پیش کیا۔ وویکانند کے نزدیک، انسانیت کے لئے بھارت کا سب سے بڑا تعاون اس کی روحانی حکمت میں پوشیدہ تھا، جس میں یوگ اس کے عمیق ترین اور پائیدار ترین مظاہر میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کے نظریات نے اس دور کے نامور دانشوروں اور مفکروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی، جس نے ہندوستانی فلسفے کے ساتھ اہلِ مغرب کی وسیع تر فکری وابستگی میں اہم کردار ادا کیا۔

جو چیز شاید اتنی مشہور نہیں ہےتاہم یکساں طور پر اہم ہےوہ یہ ہے کہ مغرب میں وویکانند کے کام نے خود بھارت کے اندر یوگ کے احیاء کی تحریک کو تیز کیا۔ جب سوامی وویکانند 1897 میں بھارت واپس آئے، تو وہ خالی ہاتھ واپس نہیں آئے۔ وہ اپنے ساتھ ایک نئی خود اعتمادیہندوستان کے روحانی ورثے پر فخر کا ایک نیا احساسلے کر آئے جسے مغرب میں ملنے والی پزیرائی نے مزید تقویت دی تھی۔
1897 میں بھارت واپس آنے کے بعد، وویکانند نے ملک بھر میں لیکچرز دیے، جس سے لوگوں کو بھارتی روحانی روایات کو دوبارہ دریافت کرنے کی ترغیب ملی۔ یکم مئی 1897 کو، سوامی وویکانند نے ہاوڑہ کے بیلور مٹھ میں رام کرشن مشن کی بنیاد رکھیجو دریائے ہگلی کے مغربی کنارے پر واقع ہے، اس جگہ سے کچھ ہی فاصلے پر جہاں رام کرشن نے دکشنیشور میں اپنے آخری سال گزارے تھے۔ بنگال میں دریائے ہگلی کے کنارے قائم ہونے والا یہ ادارہ، ایک ایسی تحریک کا عالمی ہیڈکوارٹر بن گیا جس نے ویدانت کے نظریات، خدمت کو عبادت سمجھنے (شیو گیانے جیو سیوا)، اور یوگا کے فلسفے کے عملی اطلاق کی تبلیغ کی۔
رام کرشن پرم ہنس اور سوامی وویکانند جیسے روحانی رہنماؤں کی سرزمین ہونے کے باوجود، بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ بنگال میں یوگ کی عوامی مقبولیت اور ظاہری موجودگی بتدریج کم ہوتی گئی۔ بدلتے ہوئے طرزِ زندگی، جدید ترجیحات اور سماجی تبدیلیوں کی وجہ سے یوگ آہستہ آہستہ عوامی زندگی کے مرکز سے دور ہوتا چلا گیا۔ اس کے باوجود، روحانی اداروں اور مخلص اساتذہ کے ذریعے اس کی جڑیں ہمیشہ زندہ رہیں۔

11 ستمبر 1893 کو، ‘امریکہ کے بہنو اور بھائیو’ کے لافانی الفاظ سے آغاز کرتے ہوئے، سوامی وویکانند نے مذاہب کی عالمی پارلیمنٹ میں اپنی تاریخی تقریر کے ذریعے دنیا کو بھارت کی روحانی حکمت سے روشناس کرایا۔ اب ‘مغربی بنگال کے بہنو اور بھائیو، اپنے ہی گھر میں، یوگ کی اس گھر واپسی کے گواہ بنیں شکاگو کے عالمی اسٹیج سے لے کر دریائے ہگلی کے کناروں تک۔’ یہ الفاظ ایک گہرا جذباتی تعلق رکھتے ہیں، جو ہمیں اس تاریخی لمحے کی یاد دلاتے ہیں جب سوامی وویکانند نے بھارت کے روحانی علم کو دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ ان کا پیغام بھارت سے پوری دنیا میں پھیلا، جس نے یوگ، ہم آہنگی اور باطنی سکون کی اقدار کو عام کیا۔
آج دریائے ہگلی کے کناروں پر جو چیز واپس آ رہی ہے، وہ بذاتِ خود یوگ نہیں ہےکیونکہ بھارت میں اس کا وجود کبھی ختم ہی نہیں ہوا تھابلکہ یہ یوگ کی وہ تجدید شدہ عالمی شناخت اور پزیرائی ہے، جس کا آغاز بھارت کے قدیم رشیوں سے ہوا تھا اور جسے دنیا کے نام وویکانند کے پیغام کے ذریعے ایک نیا اظہار ملا۔
"یہ ایک نئی توانائی، ایک نئی پہچان اور ایک نئے استحکام کے ساتھ بنگال میں دریائے ہگلی کے اسی کنارے پر واپس آ چکا ہے، جہاں بیلور مٹھ آج بھی اس سفر کی ایک زندہ یادگار کے طور پر قائم ہے۔ آج، جب یوگ پر عالمی سطح پر عمل کیا جا رہا ہے، اور جب دنیا یوگ کو ایک غیر مادی ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کرتی ہےتو یہ یاد رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ یوگ کے اس عالمی سفر کا محور سوامی وویکانند کا وہ تاریخی مشن ہی تھا۔
آج، کولکتہ میں یوگ کے عالمی دن کے جشن کے ساتھ، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یوگ کی اس سرزمین پر ایک خوبصورت گھر واپسی ہوئی ہے جہاں سے اس کے پیغام نے عالمی اسٹیج کی جانب اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ دریائے ہگلی کے کنارے ایک مرتبہ پھر لوگوں کو ایک ایسی روایت کا جشن منانے کے لئے اکٹھے ہوتے دیکھ رہے ہیں جس نے سمندروں کو پار کیا اور اب مزید پہچان اور احترام کے ساتھ واپس لوٹی ہے۔
شکاگو سے ہگلی تک کا یہ سفر محض ایک مشق کا سفر نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک نظریےاور درحقیقت ایک ایسے جذبےکا سفر ہے جو توازن، ہمدردی، خود آگاہی اور باطنی سکون کی تلاش کے ذریعے انسانیت کو جوڑنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

(مصنف آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور صحت و کنبہ بہبود کے وزیر مملکت ہیں)

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

غزّہ کی داستانِ عزم

  مسعود محبوب خان عصرِ حاضر میں، جب طاقت، وسائل اور...

’’ صحافی اپنے قلم کا صحیح استعمال کر ے تو ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے ‘‘

قیصر محمود عراقی صحافیوں نے ہمیشہ عوام کی خدمت کے...

کیوں نہ یوم جمعہ کو ہی جلسوں کی صورت دی جائے

  (حافظ) افتخار احمد قادری اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات...

ہم کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں

بےنام گیلانی عہدِ حاضر میں سیاست ایک ایسا میدان بن...

جب کھیتوں نے خوشبو اوڑھی: وزیر اعلیٰ نے نونر میں لیونڈر فیسٹیول کا افتتاح کیا

جنگ نیوز گاندربل: گاندربل کے نونر میں منعقدہ لیونڈر فیسٹیول...

تازہ ترین خبریں

غزّہ کی داستانِ عزم

  مسعود محبوب خان عصرِ حاضر میں، جب طاقت، وسائل اور...

’’ صحافی اپنے قلم کا صحیح استعمال کر ے تو ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے ‘‘

قیصر محمود عراقی صحافیوں نے ہمیشہ عوام کی خدمت کے...

کیوں نہ یوم جمعہ کو ہی جلسوں کی صورت دی جائے

  (حافظ) افتخار احمد قادری اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات...

ہم کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں

بےنام گیلانی عہدِ حاضر میں سیاست ایک ایسا میدان بن...

جب کھیتوں نے خوشبو اوڑھی: وزیر اعلیٰ نے نونر میں لیونڈر فیسٹیول کا افتتاح کیا

جنگ نیوز گاندربل: گاندربل کے نونر میں منعقدہ لیونڈر فیسٹیول...

ارضِ مقدس بھارت سے شکاگو کا سفر — اور پھر ہگلی واپسی

پرتاپ راؤ جادھو

تاریخ گواہ ہے کہ چند نظریات نے سرحدوں کے پار جاکر معاشروں کو تبدیلی سے ہمکنار کیا۔ یوگ بھی بھارت کی قدیم ترین روایات میں سے ایک ہے، جس کا سفر قدیم صحیفوں سے شروع ہو کر عالمی شناخت حاصل کرنے تک وسعت اختیار کر چکا ہے۔

لفظ یوگسنسکرت کے بنیادی لفظ ‘یُج’ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ‘جوڑنا’ یا ‘متحد کرنا’ ہیںفلسفیانہ تحقیق اور عملی نظم و ضبط کے ایک ایسے جامع نظام کا احاطہ کرتا ہے جس کا مقصد انفرادی روح (جیواتما) کا کائناتی شعور (پرماتما) کے ساتھ ملاپ ہے۔
یوگ کے ابتدائی نقوش رگ وید (تقریباً 1500–1200 قبلِ مسیح) میں ملتے ہیں، جہاں ‘تپس’ (ریاضت/تپسیا) اور ‘دھیان’ (مراقبہ) کے تصورات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان نظریات کو اپنشدوں میں مزید آگے بڑھایا گیا، جنہوں نے یوگ کی کئی فلسفیانہ بنیادوں کو واضح کیا۔ تاہم، یہ مہارشی پتنجلی کے ‘یوگ سوتر’ (تقریباً 200 قبلِ مسیح – 400 عیسوی) تھے جنہوں نے یوگ کو اس کا سب سے منظم ڈھانچہکلاسیکی ‘اشٹانگ یوگ’ یا آٹھ حصوں پر مشتمل راستہعطا کیا؛ جس میں یم، نِیَم، آسن، پرانایام، پرتیہار، دھارنا، دھیان اور سمادھی شامل ہیں۔

پتنجلی کے علاوہ، بھگود گیتا یوگ کو زندگی گزارنے کے ایک متحرک فلسفے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ کروکشیتر کے میدانِ جنگ کے پس منظر میں، بھگوان کرشن اور ارجن کے درمیان ہونے والی گفتگو انسانی فرائض، مقصدِ حیات اور روحانی ترقی کے بارے میں عمیق بصیرت انگیز پہلو فراہم کرتی ہے۔ بھگود گیتا میں بیان کردہ مختلف راستوں میں، کرم یوگ (بے غرض عمل کا راستہ)، گیان یوگ (علم کا راستہ)، اور بھکتی یوگ (عقیدت کا راستہ) نجات کے تین عظیم راستے ہیں۔ لہذا، ہندوستان محض یوگ کی جنم بھومی ہی نہیں ہےبلکہ یہ وہ زندہ تہذیب ہے جہاں یوگ اس کے روحانی، ثقافتی اور فلسفیانہ تانے بانے کے حصے کے طور پر، ہزاروں برسوں کے دوران، قدرتی طور پر پروان چڑھا۔

تاہم، نوآبادیاتی اثر و رسوخ کے دور میں تعلیم یافتہ بھارتی معاشرے کے طبقات تیزی سے مغربی فکری ڈھانچوں کے زیرِ اثر آ گئے، اور یوگ سمیت علم کے روایتی نظاموں کو بدلتی ہوئی جدید دنیا میں اکثر ‘غیر اہم’ سمجھا جانے لگا۔ اس اہم دور میں، سوامی وویکانند ایک طاقتور آواز بن کر ابھرے جنہوں نے لوگوں کو یوگ کی اہمیت اور قدر کو دوبارہ دریافت کرنے میں مدد فراہم کی۔

اپنی تعلیمات اور مذاہب کی عالمی پارلیمنٹ میں اپنی تاریخی تقریر کے ذریعے، انہوں نے بھارت کے روحانی ورثے کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرائی اور یوگ کی لازوال حکمت پر ایک نیا اعتماد پیدا کیا۔ انہوں نے ویدانت اور یوگ کے نظریات کو دنیا کے مختلف حصوں کے لوگوں کے ساتھ ساجھا کیا اور یہ دکھایا کہ یوگ صرف ایک مذہبی عمل ہی نہیں بلکہ ذاتی ترقی، اندرونی امن اور خود سازی کا ایک راستہ بھی ہے۔ بیرونِ ملک انہیں جو احترام اور پزیرائی ملی، اس نے بھارتیوں کو اپنی قدیم روایات اور ثقافت پر دوبارہ اعتماد اور فخر حاصل کرنے میں مدد دی۔

شکاگو میںاور بعد ازاں پورے امریکہ اور یورپ میںان کے لیکچرز نے اہلِ مغرب کو راج یوگ (ذہن کے کنٹرول کا شاہی یوگ)، گیان یوگ (عقلی و فکری تمیز کا یوگ)، کرم یوگ (بے غرض خدمت کا یوگ)، اور بھکتی یوگ (عقیدت کا یوگ) جیسے تصورات سے روشناس کرایا۔ پتنجلی کے یوگ سوتروں پر مبنی ان کی کتاب ‘راج یوگ’ (1896)، مغربی دنیا قارئین کے لئے یوگ کے فلسفے کے ابتدائی ترین اور مؤثر ترین تعارفوں میں سے ایک بن گئی۔
راج یوگ پر اپنے لیکچرز میں، سوامی وویکانند نے یوگ کو انسانی شعور کی اندرونی جہتوں کو تلاش کرنے کے لئے ایک منظم اور تجرباتی ضابطے کے طور پر پیش کیا۔ وویکانند کے نزدیک، انسانیت کے لئے بھارت کا سب سے بڑا تعاون اس کی روحانی حکمت میں پوشیدہ تھا، جس میں یوگ اس کے عمیق ترین اور پائیدار ترین مظاہر میں سے ایک کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کے نظریات نے اس دور کے نامور دانشوروں اور مفکروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی، جس نے ہندوستانی فلسفے کے ساتھ اہلِ مغرب کی وسیع تر فکری وابستگی میں اہم کردار ادا کیا۔

جو چیز شاید اتنی مشہور نہیں ہےتاہم یکساں طور پر اہم ہےوہ یہ ہے کہ مغرب میں وویکانند کے کام نے خود بھارت کے اندر یوگ کے احیاء کی تحریک کو تیز کیا۔ جب سوامی وویکانند 1897 میں بھارت واپس آئے، تو وہ خالی ہاتھ واپس نہیں آئے۔ وہ اپنے ساتھ ایک نئی خود اعتمادیہندوستان کے روحانی ورثے پر فخر کا ایک نیا احساسلے کر آئے جسے مغرب میں ملنے والی پزیرائی نے مزید تقویت دی تھی۔
1897 میں بھارت واپس آنے کے بعد، وویکانند نے ملک بھر میں لیکچرز دیے، جس سے لوگوں کو بھارتی روحانی روایات کو دوبارہ دریافت کرنے کی ترغیب ملی۔ یکم مئی 1897 کو، سوامی وویکانند نے ہاوڑہ کے بیلور مٹھ میں رام کرشن مشن کی بنیاد رکھیجو دریائے ہگلی کے مغربی کنارے پر واقع ہے، اس جگہ سے کچھ ہی فاصلے پر جہاں رام کرشن نے دکشنیشور میں اپنے آخری سال گزارے تھے۔ بنگال میں دریائے ہگلی کے کنارے قائم ہونے والا یہ ادارہ، ایک ایسی تحریک کا عالمی ہیڈکوارٹر بن گیا جس نے ویدانت کے نظریات، خدمت کو عبادت سمجھنے (شیو گیانے جیو سیوا)، اور یوگا کے فلسفے کے عملی اطلاق کی تبلیغ کی۔
رام کرشن پرم ہنس اور سوامی وویکانند جیسے روحانی رہنماؤں کی سرزمین ہونے کے باوجود، بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ بنگال میں یوگ کی عوامی مقبولیت اور ظاہری موجودگی بتدریج کم ہوتی گئی۔ بدلتے ہوئے طرزِ زندگی، جدید ترجیحات اور سماجی تبدیلیوں کی وجہ سے یوگ آہستہ آہستہ عوامی زندگی کے مرکز سے دور ہوتا چلا گیا۔ اس کے باوجود، روحانی اداروں اور مخلص اساتذہ کے ذریعے اس کی جڑیں ہمیشہ زندہ رہیں۔

11 ستمبر 1893 کو، ‘امریکہ کے بہنو اور بھائیو’ کے لافانی الفاظ سے آغاز کرتے ہوئے، سوامی وویکانند نے مذاہب کی عالمی پارلیمنٹ میں اپنی تاریخی تقریر کے ذریعے دنیا کو بھارت کی روحانی حکمت سے روشناس کرایا۔ اب ‘مغربی بنگال کے بہنو اور بھائیو، اپنے ہی گھر میں، یوگ کی اس گھر واپسی کے گواہ بنیں شکاگو کے عالمی اسٹیج سے لے کر دریائے ہگلی کے کناروں تک۔’ یہ الفاظ ایک گہرا جذباتی تعلق رکھتے ہیں، جو ہمیں اس تاریخی لمحے کی یاد دلاتے ہیں جب سوامی وویکانند نے بھارت کے روحانی علم کو دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ ان کا پیغام بھارت سے پوری دنیا میں پھیلا، جس نے یوگ، ہم آہنگی اور باطنی سکون کی اقدار کو عام کیا۔
آج دریائے ہگلی کے کناروں پر جو چیز واپس آ رہی ہے، وہ بذاتِ خود یوگ نہیں ہےکیونکہ بھارت میں اس کا وجود کبھی ختم ہی نہیں ہوا تھابلکہ یہ یوگ کی وہ تجدید شدہ عالمی شناخت اور پزیرائی ہے، جس کا آغاز بھارت کے قدیم رشیوں سے ہوا تھا اور جسے دنیا کے نام وویکانند کے پیغام کے ذریعے ایک نیا اظہار ملا۔
"یہ ایک نئی توانائی، ایک نئی پہچان اور ایک نئے استحکام کے ساتھ بنگال میں دریائے ہگلی کے اسی کنارے پر واپس آ چکا ہے، جہاں بیلور مٹھ آج بھی اس سفر کی ایک زندہ یادگار کے طور پر قائم ہے۔ آج، جب یوگ پر عالمی سطح پر عمل کیا جا رہا ہے، اور جب دنیا یوگ کو ایک غیر مادی ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کرتی ہےتو یہ یاد رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ یوگ کے اس عالمی سفر کا محور سوامی وویکانند کا وہ تاریخی مشن ہی تھا۔
آج، کولکتہ میں یوگ کے عالمی دن کے جشن کے ساتھ، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یوگ کی اس سرزمین پر ایک خوبصورت گھر واپسی ہوئی ہے جہاں سے اس کے پیغام نے عالمی اسٹیج کی جانب اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ دریائے ہگلی کے کنارے ایک مرتبہ پھر لوگوں کو ایک ایسی روایت کا جشن منانے کے لئے اکٹھے ہوتے دیکھ رہے ہیں جس نے سمندروں کو پار کیا اور اب مزید پہچان اور احترام کے ساتھ واپس لوٹی ہے۔
شکاگو سے ہگلی تک کا یہ سفر محض ایک مشق کا سفر نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک نظریےاور درحقیقت ایک ایسے جذبےکا سفر ہے جو توازن، ہمدردی، خود آگاہی اور باطنی سکون کی تلاش کے ذریعے انسانیت کو جوڑنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

(مصنف آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور صحت و کنبہ بہبود کے وزیر مملکت ہیں)

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں