ہم کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں

بےنام گیلانی

عہدِ حاضر میں سیاست ایک ایسا میدان بن چکی ہے جس سے ایک طرف سنجیدہ اور باوقار طبقہ بیزار نظر آتا ہے، تو دوسری طرف نوجوان نسل اسے طاقت، شہرت اور دولت کے حصول کا آسان ذریعہ سمجھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کامیابی بغیر قیمت ادا کیے حاصل نہیں ہوتی۔ خواہ وہ معاشی ترقی ہو، سماجی مقام ہو، اخلاقی برتری ہو یا اقتدار کا حصول، ہر کامیابی قربانی، محنت اور استقامت کی متقاضی ہوتی ہے۔ تاہم موجودہ سیاسی ماحول میں اصولوں، کردار اور نظریات کا تحفظ دن بہ دن دشوار ہوتا جا رہا ہے۔
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور اس کی بنیاد آئین، مساوات اور انصاف پر رکھی گئی ہے۔ لیکن عملی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی مفادات اکثر جمہوری اقدار پر غالب آ جاتے ہیں۔ فرقہ واریت، مذہبی منافرت اور سماجی تقسیم کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں معاشرے میں بے چینی اور عدم اعتماد بڑھتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام کے بنیادی مسائل، جیسے تعلیم، صحت، روزگار، مہنگائی اور سماجی انصاف، پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور سیاسی کشمکش ہی اصل موضوع بن کر رہ جاتی ہے۔
جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں عوامی رائے، اظہارِ خیال کی آزادی، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کا تحفظ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب یہ عناصر کمزور ہونے لگتے ہیں تو جمہوریت کی روح بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایک مضبوط جمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کا کردار اہم ہوتا ہے، کیونکہ اختلافِ رائے ہی بہتر پالیسی سازی اور احتساب کی بنیاد بنتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی کشیدگی اور نفرت انگیز بیانیے میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس صورتِ حال نے نہ صرف اقلیتوں میں بے چینی پیدا کی بلکہ ملک کی سماجی ہم آہنگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو مساوی تحفظ اور مواقع فراہم کرے۔ جب کسی طبقے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کبھی بھی کسی قوم کے لئے دیرپا فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی۔ دنیا کی کئی بڑی سلطنتیں اور طاقتیں داخلی تعصبات، طبقاتی تقسیم اور سماجی ناانصافی کے باعث کمزور ہوئیں۔ اس کے برعکس وہ قومیں ترقی کی منازل طے کرتی رہیں جنہوں نے اختلافات کے باوجود اتحاد، برداشت اور انصاف کو اپنی بنیاد بنایا۔
ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا تنوع ہے۔ مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور روایات کے حامل لوگ صدیوں سے اس سرزمین پر ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔ یہی تنوع اس ملک کی اصل شناخت ہے۔ اگر اس تنوع کو کمزوری کے بجائے طاقت سمجھا جائے تو ملک ترقی کے نئے راستے کھول سکتا ہے، لیکن اگر اسے تقسیم اور نفرت کے لئے استعمال کیا جائے تو نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک میں ایسے افراد اور حلقے موجود ہیں جو فرقہ واریت اور نفرت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے باشعور لوگ آئینی اقدار، سماجی انصاف اور بھائی چارے کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔ یہی لوگ دراصل ملک کے روشن مستقبل کی امید ہیں۔ تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو مشکل حالات میں بھی حق، انصاف اور انسانیت کا ساتھ دیتے ہیں۔
مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ جذبات کے بجائے حکمت، صبر اور بصیرت کا راستہ اختیار کریں۔ تعلیم، سماجی شعور، قانونی آگاہی اور معاشی استحکام پر توجہ دے کر ہی وہ اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کی تعلیمی اور فکری ترقی ہوتی ہے۔ جو قومیں علم، تحقیق اور کردار سازی پر توجہ دیتی ہیں، وہی عزت اور وقار حاصل کرتی ہیں۔
آج مسلم معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت اپنے تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے، نوجوانوں کی رہنمائی کرنے اور سماجی خدمت کے میدان میں آگے بڑھنے کی ہے۔ صرف شکایتیں کرنے سے حالات نہیں بدلتے بلکہ مسلسل جدوجہد، مثبت منصوبہ بندی اور اجتماعی شعور سے تبدیلی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں میں اعتماد، خود انحصاری اور قومی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہوگا۔
آج سیاست آلودگی، الزام تراشی اور مفاد پرستی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں ضروری ہے کہ عوام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کا جائزہ ان کی کارکردگی، دیانت داری اور عوامی خدمت کی بنیاد پر لیں، نہ کہ مذہبی یا جذباتی نعروں کی بنیاد پر۔ جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب عوام باشعور ہوں اور اپنے حقوق و فرائض سے واقف ہوں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ووٹ صرف ایک سیاسی حق نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ عوام جب اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھتے ہیں تو وہ ملک کی سمت متعین کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ فیصلے جذبات کے بجائے حقائق، کارکردگی اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔
اگر حالات سازگار نہ بھی ہوں تو مایوسی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ہر دور میں حق و انصاف کی آواز اٹھانے والے لوگ موجود رہے ہیں اور انہی کی جدوجہد نے معاشروں کو بہتر بنایا ہے۔ ناامیدی انسان کی قوتِ عمل کو کمزور کر دیتی ہے، جبکہ امید اور حوصلہ نئی راہیں پیدا کرتے ہیں۔
ہم شاید بڑے پیمانے پر تبدیلی نہ لا سکیں، لیکن اپنے کردار، شعور، اتحاد اور مثبت طرزِ عمل کے ذریعے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ اپنے گھروں میں بہتر تربیت، اپنے معاشرے میں خیر خواہی، اپنے اداروں میں دیانت داری اور اپنے وطن کے لئے مثبت کردار ادا کرنا بھی ایک بڑی خدمت ہے۔
جب بڑے دروازے بند نظر آئیں تو چھوٹے راستوں سے سفر جاری رکھنا چاہیے۔ اگر ہم ظلم کا خاتمہ نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کریں۔ اگر ہم پورے نظام کو تبدیل نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے اندر شعور، دیانت اور حوصلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں کہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کا حوصلہ اپنے اندر زندہ رکھیں، انصاف کا ساتھ دیں، نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دیں اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک بہتر معاشرہ چھوڑنے کی کوشش کریں۔
مزید اضافہ
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی قوم کی زندگی میں آزمائشوں کے ادوار آتے رہتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق اس بات کے شاہد ہیں کہ دنیا کی بڑی بڑی اقوام نے سیاسی جبر، سماجی ناانصافی اور معاشی بحرانوں کا سامنا کیا، مگر جن قوموں نے صبر، حکمت اور علم کا دامن تھامے رکھا وہ بالآخر کامیاب ہوئیں۔ اس کے برعکس جو قومیں مایوسی، انتشار اور باہمی اختلافات کا شکار ہو گئیں، وہ اپنی قوت اور وقار کھو بیٹھیں۔ آج مسلمانانِ ہند کے لئے بھی یہی سبق ہے کہ وہ وقتی جذبات کے بجائے طویل المدت حکمتِ عملی اختیار کریں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک بڑی کمزوری یہ بھی پیدا ہو چکی ہے کہ ہم مسائل کے اسباب پر غور کرنے کے بجائے صرف نتائج پر افسوس کرتے ہیں۔ ہم تعلیمی پسماندگی پر رنجیدہ ہوتے ہیں مگر تعلیم کو اپنی اولین ترجیح نہیں بناتے۔ ہم سیاسی کمزوری کا شکوہ کرتے ہیں مگر سیاسی شعور پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم معاشی مسائل کا ذکر کرتے ہیں مگر تجارت، صنعت اور ہنرمندی کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔ جب تک ہم اپنی کمزوریوں کا بے لاگ جائزہ نہیں لیں گے، بہتری کی راہیں بھی ہموار نہیں ہوں گی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے بچوں کو صرف ڈگریاں دلوانے تک محدود نہ رہیں بلکہ انہیں باکردار، باصلاحیت اور ذمہ دار شہری بنانے کی فکر بھی کریں۔ قوموں کا مستقبل درس گاہوں میں تیار ہوتا ہے۔ جو نوجوان آج کتاب سے جڑتا ہے، وہی کل عدالت، پارلیمان، صحافت، معیشت اور انتظامیہ میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ اس لئے اگر ہمیں اپنا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو تعلیمی میدان میں غیر معمولی توجہ دینا ہوگی۔
اسی طرح سماجی اتحاد بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اکثر چھوٹے چھوٹے اختلافات میں الجھ کر بڑے مقاصد کو فراموش کر دیتے ہیں۔ مسلکی، جماعتی اور شخصی اختلافات نے ہماری اجتماعی قوت کو کمزور کیا ہے۔ حالانکہ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم مشترکہ مسائل پر متحد ہوں اور باہمی احترام و رواداری کو فروغ دیں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک فطری چیز ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کر دینا کسی بھی قوم کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے دور میں ایک اور ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ آج جھوٹی خبریں، افواہیں اور اشتعال انگیز مواد لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں ضروری ہے کہ ہم ہر خبر کو تحقیق کے بعد قبول کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ بات کو آگے بڑھانے سے گریز کریں۔ قرآن کریم نے بھی خبر کی تحقیق کا حکم دیا ہے۔ ایک باشعور قوم وہی ہوتی ہے جو جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے معاشرے میں خدمتِ خلق کے جذبے کو بھی فروغ دینا چاہیے۔ یتیموں، بیواؤں، غریب طلبہ اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کرنا صرف ایک سماجی فریضہ نہیں بلکہ ایک دینی ذمہ داری بھی ہے۔ جو قوم اپنے کمزور طبقات کا سہارا بنتی ہے، وہی حقیقی معنوں میں مضبوط قوم کہلاتی ہے۔ اگر ہم اپنی توانائیاں باہمی نزاعات کے بجائے فلاحی کاموں پر صرف کریں تو اس کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
آج کے حالات میں سب سے زیادہ ضرورت امید کو زندہ رکھنے کی ہے۔ ناامیدی انسان سے اس کی جدوجہد کی قوت چھین لیتی ہے، جبکہ امید اسے مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ مسلمان کی تاریخ امید، عزم اور استقامت کی تاریخ ہے۔ اس نے نامساعد حالات میں بھی علم کے چراغ روشن کیے، تہذیبیں تعمیر کیں اور انسانیت کی خدمت کی مثالیں قائم کیں۔ یہی جذبہ آج بھی درکار ہے۔
لہٰذا حالات خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، ہمیں اپنے فرائض سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں تعلیم حاصل کرنی ہے، معاشی طور پر مضبوط بننا ہے، سماجی اتحاد کو فروغ دینا ہے، آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لئے پُرامن جدوجہد کرنی ہے اور اپنے کردار کے ذریعے معاشرے میں مثبت مثال قائم کرنی ہے۔ اگر ہم یہ راستہ اختیار کر لیں تو یقیناً مستقبل آج سے بہتر ہوگا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تبدیلی ہمیشہ بڑے نعروں سے نہیں بلکہ چھوٹے مگر مسلسل اقدامات سے آتی ہے۔ اگر ہم اپنے اندر اصلاح پیدا کریں، اپنے خاندان کو سنواریں، اپنی نسلوں کی بہتر تربیت کریں اور معاشرے میں خیر کے فروغ کی کوشش کریں تو یہ بھی ایک عظیم خدمت ہوگی۔ شاید ہم سب کچھ نہ کر سکیں، لیکن کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

غزّہ کی داستانِ عزم

  مسعود محبوب خان عصرِ حاضر میں، جب طاقت، وسائل اور...

’’ صحافی اپنے قلم کا صحیح استعمال کر ے تو ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے ‘‘

قیصر محمود عراقی صحافیوں نے ہمیشہ عوام کی خدمت کے...

ارضِ مقدس بھارت سے شکاگو کا سفر — اور پھر ہگلی واپسی

پرتاپ راؤ جادھو تاریخ گواہ ہے کہ چند نظریات نے...

کیوں نہ یوم جمعہ کو ہی جلسوں کی صورت دی جائے

  (حافظ) افتخار احمد قادری اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات...

جب کھیتوں نے خوشبو اوڑھی: وزیر اعلیٰ نے نونر میں لیونڈر فیسٹیول کا افتتاح کیا

جنگ نیوز گاندربل: گاندربل کے نونر میں منعقدہ لیونڈر فیسٹیول...

تازہ ترین خبریں

غزّہ کی داستانِ عزم

  مسعود محبوب خان عصرِ حاضر میں، جب طاقت، وسائل اور...

’’ صحافی اپنے قلم کا صحیح استعمال کر ے تو ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے ‘‘

قیصر محمود عراقی صحافیوں نے ہمیشہ عوام کی خدمت کے...

ارضِ مقدس بھارت سے شکاگو کا سفر — اور پھر ہگلی واپسی

پرتاپ راؤ جادھو تاریخ گواہ ہے کہ چند نظریات نے...

کیوں نہ یوم جمعہ کو ہی جلسوں کی صورت دی جائے

  (حافظ) افتخار احمد قادری اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات...

جب کھیتوں نے خوشبو اوڑھی: وزیر اعلیٰ نے نونر میں لیونڈر فیسٹیول کا افتتاح کیا

جنگ نیوز گاندربل: گاندربل کے نونر میں منعقدہ لیونڈر فیسٹیول...

ہم کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں

بےنام گیلانی

عہدِ حاضر میں سیاست ایک ایسا میدان بن چکی ہے جس سے ایک طرف سنجیدہ اور باوقار طبقہ بیزار نظر آتا ہے، تو دوسری طرف نوجوان نسل اسے طاقت، شہرت اور دولت کے حصول کا آسان ذریعہ سمجھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کامیابی بغیر قیمت ادا کیے حاصل نہیں ہوتی۔ خواہ وہ معاشی ترقی ہو، سماجی مقام ہو، اخلاقی برتری ہو یا اقتدار کا حصول، ہر کامیابی قربانی، محنت اور استقامت کی متقاضی ہوتی ہے۔ تاہم موجودہ سیاسی ماحول میں اصولوں، کردار اور نظریات کا تحفظ دن بہ دن دشوار ہوتا جا رہا ہے۔
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور اس کی بنیاد آئین، مساوات اور انصاف پر رکھی گئی ہے۔ لیکن عملی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی مفادات اکثر جمہوری اقدار پر غالب آ جاتے ہیں۔ فرقہ واریت، مذہبی منافرت اور سماجی تقسیم کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں معاشرے میں بے چینی اور عدم اعتماد بڑھتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام کے بنیادی مسائل، جیسے تعلیم، صحت، روزگار، مہنگائی اور سماجی انصاف، پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور سیاسی کشمکش ہی اصل موضوع بن کر رہ جاتی ہے۔
جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں عوامی رائے، اظہارِ خیال کی آزادی، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کا تحفظ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب یہ عناصر کمزور ہونے لگتے ہیں تو جمہوریت کی روح بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایک مضبوط جمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کا کردار اہم ہوتا ہے، کیونکہ اختلافِ رائے ہی بہتر پالیسی سازی اور احتساب کی بنیاد بنتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی کشیدگی اور نفرت انگیز بیانیے میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اس صورتِ حال نے نہ صرف اقلیتوں میں بے چینی پیدا کی بلکہ ملک کی سماجی ہم آہنگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو مساوی تحفظ اور مواقع فراہم کرے۔ جب کسی طبقے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کبھی بھی کسی قوم کے لئے دیرپا فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی۔ دنیا کی کئی بڑی سلطنتیں اور طاقتیں داخلی تعصبات، طبقاتی تقسیم اور سماجی ناانصافی کے باعث کمزور ہوئیں۔ اس کے برعکس وہ قومیں ترقی کی منازل طے کرتی رہیں جنہوں نے اختلافات کے باوجود اتحاد، برداشت اور انصاف کو اپنی بنیاد بنایا۔
ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا تنوع ہے۔ مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور روایات کے حامل لوگ صدیوں سے اس سرزمین پر ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔ یہی تنوع اس ملک کی اصل شناخت ہے۔ اگر اس تنوع کو کمزوری کے بجائے طاقت سمجھا جائے تو ملک ترقی کے نئے راستے کھول سکتا ہے، لیکن اگر اسے تقسیم اور نفرت کے لئے استعمال کیا جائے تو نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک میں ایسے افراد اور حلقے موجود ہیں جو فرقہ واریت اور نفرت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے باشعور لوگ آئینی اقدار، سماجی انصاف اور بھائی چارے کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔ یہی لوگ دراصل ملک کے روشن مستقبل کی امید ہیں۔ تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو مشکل حالات میں بھی حق، انصاف اور انسانیت کا ساتھ دیتے ہیں۔
مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ جذبات کے بجائے حکمت، صبر اور بصیرت کا راستہ اختیار کریں۔ تعلیم، سماجی شعور، قانونی آگاہی اور معاشی استحکام پر توجہ دے کر ہی وہ اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کی تعلیمی اور فکری ترقی ہوتی ہے۔ جو قومیں علم، تحقیق اور کردار سازی پر توجہ دیتی ہیں، وہی عزت اور وقار حاصل کرتی ہیں۔
آج مسلم معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت اپنے تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے، نوجوانوں کی رہنمائی کرنے اور سماجی خدمت کے میدان میں آگے بڑھنے کی ہے۔ صرف شکایتیں کرنے سے حالات نہیں بدلتے بلکہ مسلسل جدوجہد، مثبت منصوبہ بندی اور اجتماعی شعور سے تبدیلی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں میں اعتماد، خود انحصاری اور قومی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہوگا۔
آج سیاست آلودگی، الزام تراشی اور مفاد پرستی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں ضروری ہے کہ عوام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کا جائزہ ان کی کارکردگی، دیانت داری اور عوامی خدمت کی بنیاد پر لیں، نہ کہ مذہبی یا جذباتی نعروں کی بنیاد پر۔ جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب عوام باشعور ہوں اور اپنے حقوق و فرائض سے واقف ہوں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ووٹ صرف ایک سیاسی حق نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ عوام جب اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھتے ہیں تو وہ ملک کی سمت متعین کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ فیصلے جذبات کے بجائے حقائق، کارکردگی اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔
اگر حالات سازگار نہ بھی ہوں تو مایوسی کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ہر دور میں حق و انصاف کی آواز اٹھانے والے لوگ موجود رہے ہیں اور انہی کی جدوجہد نے معاشروں کو بہتر بنایا ہے۔ ناامیدی انسان کی قوتِ عمل کو کمزور کر دیتی ہے، جبکہ امید اور حوصلہ نئی راہیں پیدا کرتے ہیں۔
ہم شاید بڑے پیمانے پر تبدیلی نہ لا سکیں، لیکن اپنے کردار، شعور، اتحاد اور مثبت طرزِ عمل کے ذریعے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ اپنے گھروں میں بہتر تربیت، اپنے معاشرے میں خیر خواہی، اپنے اداروں میں دیانت داری اور اپنے وطن کے لئے مثبت کردار ادا کرنا بھی ایک بڑی خدمت ہے۔
جب بڑے دروازے بند نظر آئیں تو چھوٹے راستوں سے سفر جاری رکھنا چاہیے۔ اگر ہم ظلم کا خاتمہ نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کریں۔ اگر ہم پورے نظام کو تبدیل نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے اندر شعور، دیانت اور حوصلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں کہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کا حوصلہ اپنے اندر زندہ رکھیں، انصاف کا ساتھ دیں، نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دیں اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک بہتر معاشرہ چھوڑنے کی کوشش کریں۔
مزید اضافہ
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی قوم کی زندگی میں آزمائشوں کے ادوار آتے رہتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق اس بات کے شاہد ہیں کہ دنیا کی بڑی بڑی اقوام نے سیاسی جبر، سماجی ناانصافی اور معاشی بحرانوں کا سامنا کیا، مگر جن قوموں نے صبر، حکمت اور علم کا دامن تھامے رکھا وہ بالآخر کامیاب ہوئیں۔ اس کے برعکس جو قومیں مایوسی، انتشار اور باہمی اختلافات کا شکار ہو گئیں، وہ اپنی قوت اور وقار کھو بیٹھیں۔ آج مسلمانانِ ہند کے لئے بھی یہی سبق ہے کہ وہ وقتی جذبات کے بجائے طویل المدت حکمتِ عملی اختیار کریں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک بڑی کمزوری یہ بھی پیدا ہو چکی ہے کہ ہم مسائل کے اسباب پر غور کرنے کے بجائے صرف نتائج پر افسوس کرتے ہیں۔ ہم تعلیمی پسماندگی پر رنجیدہ ہوتے ہیں مگر تعلیم کو اپنی اولین ترجیح نہیں بناتے۔ ہم سیاسی کمزوری کا شکوہ کرتے ہیں مگر سیاسی شعور پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم معاشی مسائل کا ذکر کرتے ہیں مگر تجارت، صنعت اور ہنرمندی کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔ جب تک ہم اپنی کمزوریوں کا بے لاگ جائزہ نہیں لیں گے، بہتری کی راہیں بھی ہموار نہیں ہوں گی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے بچوں کو صرف ڈگریاں دلوانے تک محدود نہ رہیں بلکہ انہیں باکردار، باصلاحیت اور ذمہ دار شہری بنانے کی فکر بھی کریں۔ قوموں کا مستقبل درس گاہوں میں تیار ہوتا ہے۔ جو نوجوان آج کتاب سے جڑتا ہے، وہی کل عدالت، پارلیمان، صحافت، معیشت اور انتظامیہ میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ اس لئے اگر ہمیں اپنا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو تعلیمی میدان میں غیر معمولی توجہ دینا ہوگی۔
اسی طرح سماجی اتحاد بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اکثر چھوٹے چھوٹے اختلافات میں الجھ کر بڑے مقاصد کو فراموش کر دیتے ہیں۔ مسلکی، جماعتی اور شخصی اختلافات نے ہماری اجتماعی قوت کو کمزور کیا ہے۔ حالانکہ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم مشترکہ مسائل پر متحد ہوں اور باہمی احترام و رواداری کو فروغ دیں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک فطری چیز ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کر دینا کسی بھی قوم کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے دور میں ایک اور ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ آج جھوٹی خبریں، افواہیں اور اشتعال انگیز مواد لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں ضروری ہے کہ ہم ہر خبر کو تحقیق کے بعد قبول کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ بات کو آگے بڑھانے سے گریز کریں۔ قرآن کریم نے بھی خبر کی تحقیق کا حکم دیا ہے۔ ایک باشعور قوم وہی ہوتی ہے جو جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے معاشرے میں خدمتِ خلق کے جذبے کو بھی فروغ دینا چاہیے۔ یتیموں، بیواؤں، غریب طلبہ اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کرنا صرف ایک سماجی فریضہ نہیں بلکہ ایک دینی ذمہ داری بھی ہے۔ جو قوم اپنے کمزور طبقات کا سہارا بنتی ہے، وہی حقیقی معنوں میں مضبوط قوم کہلاتی ہے۔ اگر ہم اپنی توانائیاں باہمی نزاعات کے بجائے فلاحی کاموں پر صرف کریں تو اس کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
آج کے حالات میں سب سے زیادہ ضرورت امید کو زندہ رکھنے کی ہے۔ ناامیدی انسان سے اس کی جدوجہد کی قوت چھین لیتی ہے، جبکہ امید اسے مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ مسلمان کی تاریخ امید، عزم اور استقامت کی تاریخ ہے۔ اس نے نامساعد حالات میں بھی علم کے چراغ روشن کیے، تہذیبیں تعمیر کیں اور انسانیت کی خدمت کی مثالیں قائم کیں۔ یہی جذبہ آج بھی درکار ہے۔
لہٰذا حالات خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، ہمیں اپنے فرائض سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں تعلیم حاصل کرنی ہے، معاشی طور پر مضبوط بننا ہے، سماجی اتحاد کو فروغ دینا ہے، آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لئے پُرامن جدوجہد کرنی ہے اور اپنے کردار کے ذریعے معاشرے میں مثبت مثال قائم کرنی ہے۔ اگر ہم یہ راستہ اختیار کر لیں تو یقیناً مستقبل آج سے بہتر ہوگا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تبدیلی ہمیشہ بڑے نعروں سے نہیں بلکہ چھوٹے مگر مسلسل اقدامات سے آتی ہے۔ اگر ہم اپنے اندر اصلاح پیدا کریں، اپنے خاندان کو سنواریں، اپنی نسلوں کی بہتر تربیت کریں اور معاشرے میں خیر کے فروغ کی کوشش کریں تو یہ بھی ایک عظیم خدمت ہوگی۔ شاید ہم سب کچھ نہ کر سکیں، لیکن کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں